Saturday, August 9, 2014

Dil Kee Lagee - who knows Imran Khan?

By: Shah Zalmay Khan
.
 دل کی لگی
.
پاگل خان۔ ہٹلر خان۔ یوٹرن خان۔  زکوٰۃ خان۔کینسر خان۔  سونامی خان۔  یہودی خان۔  طالبان خان۔ اسٹیبلشمنٹ خان۔ یہ خان۔ وہ خان۔
کون ہے یہ بندہ جو اتنی ساری (آپس میں متضاد) برائیوں کا بیک وقت مجموعہ ہے؟ کیا کیا ظلم ڈھائے ہیں اس بندے نے اس ملک پر؟ ۶۵ سال میں اس ملک کا بیڑہ ہی غرق کردیا ہوگا جو اتنے مختلف  غلیظ ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ 
اور کون ہیں اسے ان ناموں سے پکارنے والے؟ ملک و قوم کے وہ ہمدرد جنہوں نے ۶۵ سال سے اس ملک کو ترقی کا گہوارہ بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ؟ وہ زرداری جس نے کبھی بھوکی ننگی قوم کے پیسوں سے گھوڑوں کو مربے نہیں کھلائے؟ وہ شریف خاندان جس نے قوم کی ہڈیوں سے گودہ تک نچوڑ کر دنیا بھر میں اربوں ڈالر کے کاروبار نہیں لگائے؟ وہ الطاف بھائی جس نے روشنیوں کے شہرمیں پچیس سال میں پچیس ہزار لاشیں نہیں گرائیں؟ وہ اسفندیار ولی جس نے پختون قوم کو اس کی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے عوض نہیں بیچا؟ وہ فضل الرحمن جس نے بینظیر سے لے کر مشرف اور زرداری سے لے کر شریفوں تک ہر حکومت میں چند وزارتوں کیلئے اسلام کا پاک نام نہیں بیچا؟یہ سیٹھی، یہ میر شکیل، یہ ارسلان افتخار، یہ سب کے سب اس کے مخالف  آخر کیوں ہوئے؟کیا اس وجہ سے کہ اس  بندےنے  قائد اعظم کے پاکستان کو پچھلے ۶۵ سال میں اس حال تک پہنچایا؟
   اور کیا چیز ہے جو اس بندے کو بے چین رکھتی ہے؟ ۶۳ سال کی عمر میں جبکہ لوگ اپنے بچوں کیساتھ پرسکون وقت گزارنا پسند کرتے ہیں، اس عمر میں یہ بندہ پاکستان کے طول و عرض میں دیوانوں کی طرح پھرتا ہے۔ آخر کیا چاہئیے اسے؟ اس کے مخالفین کہتے ہیں کہ اسے وزارت عظمیٰ کی طلب بے چین کیے ہوئے ہے۔ کیا واقعی؟  لیکن آخر وزارت عظمیٰ کی طلب کسی کو کیوں ہوتی ہے؟ پیسہ کے لئے؟ شہرت کیلئے؟ کرپشن کیلئے؟لیکن۔۔۔۔۔۔
پیسے کیلئے؟ لیکن پیسے کا تو اس  بندے کو لالچ نہیں اور یہ دنیا جانتی ہےاور اس کی ساری زندگی اس امر کی گواہ ہے۔ اس نے تو اپنا کرکٹ سے کمایا ہوا اکثر پیسہ بھی اس ملک کے غریبوں کیلئے  شوکت خانم ہسپتال  اور نمل یونیورسٹی میں جھونک دیا۔ پیسہ ہی چاہئیے ہوتا  تو برطانیہ میں کسی کاؤنٹی ٹیم کی کوچنگ سنبھالتا اور ساتھ ہی  کرکٹ میچوں میں کمنٹری  سے کروڑوں کماتا۔ پیسہ چاہئیے ہوتا تو جمائمہ خان سے طلاق کے عوض ہی (برطانوی قوانین کے مطابق) اربوں وصول کرسکتا تھا۔
شہرت کیلئے؟    لیکن عمران خان سے زیادہ شہرت  بھلا کس پاکستانی  کو  اللہ نے دی ہوگی ؟ وہ شخص کہ برطانوی شاہی خاندان جس کیساتھ اٹھنے بیٹھنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور انڈیا سے ترکی اور ڈیووس تک بغیر کسی سرکاری عہدے کے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ واحد پاکستانی لیڈر ہے جس کو بیرونی دنیا میں کرپشن یا سوئس اکاؤنٹس یا بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے نہیں جانا جاتا بلکہ اس کا نام اچھے لفظوں میں لیا جاتا ہے۔ اب ایسےبندے کو  بھلا مزید شہرت کی کیا ضرورت ہوگی؟
کرپشن کیلئے؟   لیکن کرپشن کا تو  یہ بندہ روادار ہی نہیں۔ پختونخوا میں ایک سال سے حکومت ہے نا اس کی۔ کوئی کہہ سکتا ہے ایک پیسے کی کرپشن کی بات اس کے بارے میں؟ کوئی کارخانہ لگایا ہو اس نے؟ کوئی رشتہ دار سرکاری عہدوں پر لگوا دیا ہو؟ کسی کی سفارش کردی ہو؟ کوئی پلاٹ، کوئی بینک اکاؤنٹ، کوئی  جدہ، ملائشیا، دبئی میں محل وغیرہ؟ نہیں۔ کچھ بھی نہیں۔ الٹا  واحد پاکستانی لیڈر ہے جس کے اثاثے ہر سال پہلے کے مقابلے میں کم ہوتے جارہے ہیں (ورنہ تو لوگ ایم این اے بن کر ہی سات نسلوں کا انتظام فرما لیتے ہیں)۔

تو پھر؟ آخر کیا چیز اس بندے کو چین نہیں لینے دیتی؟
 اس بندے کو سمجھنا ہو تو چند لمحوں کیلئے اپنے آپ کو اس کی جگہ رکھ کر  آنکھیں بند کرکے سوچیں۔
کیا بھکاری بننا آسان ہے؟ کسی کے آگے جھولی پھیلانا اور سوالی بننا؟ اور وہ بھی اپنے فائدے کیلئے نہیں بلکہ قوم کے سسکتے ہوئے غریب مریض بچوں کے واسطے۔ وہ کیا چیز ہے جس نے اس آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ،  پاکستانی تاریخ کے مشہور ترین کرکٹراور کامیاب ترین کپتان کو بھکاری بننے پر مجبور کیا؟ گلی گلی ، شہر شہر، گاؤں گاؤں ۔ اپنی عزت نفس  کو پس پشت ڈال کر جھولی پھیلا کر، بھکاری بننے پر مجبور کیا؟  بیس سال سے یہ بندہ جھولی پھیلائے ملک اور بیرون ملک (صرف پاکستانیوں سے) پاکستانیوں کیلئے بھیک مانگتا ہے۔کوئی اسے بھکاری ہونے کے طعنے دیتا ہے، کوئی زکوٰۃ خان کہتا ہے، کوئی کسی اور طریقے سے مذاق اڑاتا ہے لیکن یہ بندہ پھر بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ یہ آسان نہیں ہے۔ خدا کی قسم یہ آسان نہیں ہے۔قدم قدم پر دل کو مارنا پڑتا ہے ۔ اپنی عزت نفس ، انا  اور فخر کا خون کرنا پڑتا ہے۔ یقین نہ آئے تو کبھی یہ کرکے دیکھ لیں۔ جھولی پھیلا کر کسی دن لوگوں کے سامنے کھڑے ہوں (وہ بھی اپنے لئے نہیں دوسروں کیلئے)۔ سرسید احمد خان نے علی گڑھ یونیورسٹی کیلئے اسی طرح جھولی پھیلائی تھی اور آج عمران خان  ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نمل یونیورسٹی  اور شوکت خانم کیلئے ایسا  کرتا ہے۔کیا چیز ہے جوکسی بندے کو ایسےکام کرنے پر مجبور کرتی ہے؟

انسان کو اللہ نے بہت کمزور پیدا کیاہے۔ اس سے غلطیاں ہوتی ہیں اور کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں۔ عمران خان  بھی اللہ کا پیدا کیاہوا ایک کمزور انسان ہی ہے۔ اس سے زندگی میں سینکڑوں ہزاروں غلطیاں اور کوتاہیاں ہوئی ہوں گی جن پر وہ شرمندگی کا اظہار بھی کرتا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ نہ تو کبھی اس کی نیت میں کھوٹ رہا ہے اور نہ کبھی اس نے عوام کا پیسہ کھایا ہے۔کوئی تو بتا دے کہ ۱۸ سال کی سیاسی زندگی  میں خان نے سیاست کو ایک بار بھی ذاتی فائدے، پیسے، فیکٹریوں یا کرپشن کیلئےاستعمال کیا ہو؟ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیےپاکستان میں کوئی ایک ایسا سیاستدان نظر آتا ہے جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ وہ سیاست کو ذاتی فائدے اور کاروبار کیلئے استعمال نہیں کرتا بلکہ عوام کا سچا خیر خواہ ہے؟ شریف خان کے اربوں پاؤنڈ کے کاروبار؟۔ سیاست کا ثمر۔۔۔زرداری کے اربوں ڈالر کے اثاثے؟۔سیاست کا ثمر۔۔۔ اسفندیار ولی کے دبئی اور ملائشیا میں کاروبار اور محلات؟ ۔سیاست کا ثمر۔۔۔ الطاف حسین کے لندن میں منی لانڈرنگ کے لاکھوں کروڑوں پاؤنڈ؟۔ سیاست کا ثمر۔۔۔ ملا فضل کی دینی مدارس پر پھیلی دکانداری؟۔ سیاست کا ثمر۔۔۔
ایسے میں سوال تو اٹھتا ہے نا کہ سیاست کو کاروبار سمجھنے والے یہ لوگ عوام کی اصل معنوں میں فلاح کا کیوں سوچیں گے؟ جو تھوڑے بہت عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں کے ڈرامے یہ کرتے ہیں، اس میں بھی ڈٹ کر کھاتے ہیں اور ایسا کوئی کام نہیں کرتے جس سے ان کی سیاسی گرفت سے عوام کی آزادی کی راہ نکلے۔ تعلیم، صحت، پولیس، پٹواری، کرپشن، انصاف اور "نظام" ٹھیک  کرنا ان کی ترجیح ہی نہیں ہوتی۔ گلیاں نالیاں پکی کرنے ، چند فلائی اوور بنانے اور بسیں چلادینے کو ہی ترقی بتا کر یہ قوم کی نسلیں برباد کررہے ہیں۔ بیرونی ممالک سے ترقیاتی پراجیکٹس کے نام پر قرضے لیتے ہیں، آدھے سے زیادہ خود کھاتے ہیں اورباقی سے "جگاڑ" لڑا کر قوم پر ترقی کا احسان کرتے ہیں۔ جبکہ انہی کے زیر حکومت آبادی صاف پانی، پوری خوراک، بجلی، گیس، روزگار، انصاف اور صحت و تعلیم کو ترستی ہے۔ یہ سلسلہ کیا یونہی چلتا رہے گا؟ اگر ہاں تو آخر کب تک؟ کب تک یہ قوم سڑکوں، نالیوں اور بسوں کو "ترقی" سمجھتی رہے گی؟ شاید ہمیشہ ۔ کیونکہ ان غلاموں کی آزادی بہت مشکل ہوتی ہے جنہیں اپنی زنجیروں سے پیار ہوجائے۔
مجھے نہیں معلوم کہ  عمران خان   کا آزادی مارچ کامیاب ہوگا یا نہیں۔مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ خان کبھی  پاکستانی سیاست میں کامیاب ہوگا یا نہیں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس ملک میں تبدیلی لانے کا اور قائد کا پاکستان بنتے دیکھنے کااس کا خواب پورا ہوگا یا نہیں۔ لیکن ایک سیدھی سیدھی بات یہ ہے کہ  اگر آج عمران خان ناکام ہوگیا تو شاید اس قوم کو۶۵ سال سے حکمران طبقات کی غلامی سےکوئی نہیں نکال سکے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے "نظام" میں اپنی جڑیں اتنی دور تک پھیلا لی ہیں کہ انہیں اکھاڑ پھینکنا کسی عام بندے کے بس کی بات نہیں۔پولیس ان کی، پٹواری تحصیلدار سے لے کر کمشنر اور سیکرٹری تک ان کے۔ عدالتیں ان کی، جج ان کے، صحافی ان کے، اخبار اور ٹی وی چینل ان کے۔لوٹ مار کا پیسہ ان کے پاس بہت اور  غنڈوں بدمعاشوں گلو بٹوں کی فوج ان کے پاس۔ اگر عمران خان اپنی تمام تر قوت برداشت، اٹھارہ سالہ انتھک محنت، بہترین نیت ، عوام اور خاص کر نوجوانوں میں اعتماداور اچھی شہرت کیساتھ  ان کی جڑیں نہ اکھاڑ سکا تو مستقبل میں شاید کوئی اس راستے پر چلنے کی ہمت ہی نہیں کرے گا۔اس تھکادینے والے راستے پر ہمیں خان کے دست و بازو بننا ہی ہوگا۔اس جدوجہد کو دل لگی نہیں سمجھنا۔ اسے "دل کی لگی" بنانا ہوگا۔ان  زرداری، شریف، شجاعت، اسفندیار، اور فضل الرحمن جیسوں نے اپنی اگلی نسلیں  ہم پر حکمرانی کیلئے تیار کر لی ہیں۔ جس طرح ہم ان کے غلام ہیں، اسی طرح یہ ہمارے بچوں کو موسی گیلانی، بلاول زرداری، مریم نواز، حمزہ شہباز، مونس الہی، مولانا لطف الرحمن اور ایمل ولی خان کی غلامی میں دینا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیں یہ عمران خان یا اس کے بچوں کے مستقبل کی جنگ نہیں ہے۔ عمران خان کے بچے اپنی زندگی بہترین گزار رہے ہیں اور عمران خان بھی اپنی زندگی بھرپور طریقے سے گزار چکا ہے۔ یہ ہماری اور اور آپ اور ہمارے بچوں  اور ان کے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔  
خیر۔۔۔ بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں نکل گئی۔ یہی تو مسلہ ہے۔ دل لگی سے بات شروع ہوتی ہے اور "دل کی لگی" بن جاتی ہے۔
ایک واقعہ سناتا ہوں۔ (یہ واقعہ میں پہلے بھی  تحریر کرچکا ہوں لیکن بہت سوں نے شاید نہ پڑھا ہو)۔


یہ قصہ ہے۹۳۔۱۹۹۲  کا۔ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے علاقے خار میں ایک سکول کے قریب گراؤنڈ میں عوام کا ایک جم غفیر جمع تھا جس میں اسی سکول کی دوسری  تیسری جماعت کا ایک بچہ بھی محض تجسس سے مجبور ہوکر "دل لگی" کیلئے  جاکھڑا ہوا۔ گراؤنڈ میں ایک طرف سٹیج بنا ہوا تھا اوراس پر کھڑا  ایک مشہور کھلاڑی  تقریر کررہاتھا۔تقریر چونکہ اردو میں تھی  اس لئےاس  چھوٹے سے پختون  بچے کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ تقریر کا موضوع کیاہے۔تقریر کے اختتام پر اچانک ہی بھیڑ میں سے کچھ لوگوں نے چادریں پھیلا کر لوگوں کے درمیان میں سے گزرنا شروع کیا۔ لوگ چادروں میں کچھ نہ کچھ رقم ڈال رہے تھے۔ بچے نے پاس کھڑے ایک لیویز  (قبائلی پولیس)والے انکل سے پوچھا کہ یہ لوگ پیسے چادروں میں کیوں ڈال رہے ہیں؟لیویز اہلکار نے بچے کوبتایا کہ یہ کسی ہسپتال کیلئے چندہ اکھٹا کررہے ہیں۔بچے نے اپنی جیب ٹٹولی اور پاکٹ منی کے طور پر ملا ہوا ایک روپیہ نکال لیا۔ایک لمحے کیلئے سوچا کہ دن بھر کیلئے یہی ایک روپیہ پاکٹ منی ملتی ہےاور اگر یہ ایک روپیہ بھی چندے میں دے دیا تو پورا دن سکول میں  بھوکاہی رہنا پڑے گا ۔لیکن پھر سٹیج پر کھڑے شخص کی طرف نظریں اٹھ گئیں  اور اگلے ہی لمحے فیصلہ ہوگیا۔ بھوکا رہنے کا خوف ہار گیا اور بچے نے وہ "ایک روپیہ" چادر میں ڈال دیا۔

وقت گزرتا گیا۔وہ دن کہیں بہت پیچھے رہ گیا۔ اس سٹیج پر ہسپتال کیلئے چندہ جمع کرتے مشہور کھلاڑی کوشایدپتہ بھی  نہیں چلا کہ اس کے اسپتال کی بنیادوں میں محض  "دل لگی"  کیلئے کھڑے ایک بچے کا "ایک روپیہ" بھی شامل ہے۔ لیکن وہ بچہ آج بیس بائیس سال بعد بھی اس "ایک روپیہ" کی تاثیر نہیں بھولا۔ خان سے وہ اس بچے کی  پہلی اور آخری ملاقات تھی (اگر دور سے سٹیج پر دیکھ لینے کو ملاقات سمجھیں تو)۔ اس کے بعد نہ وہ بچہ کبھی خان سے ملا اور نہ ہی (کچھ مجبوریوں کے سبب) مستقبل میں ایسا کوئی امکان ہے۔لیکن خان سےاس کی عقیدت ہر گزرتے دن کیساتھ بڑھتی جاتی ہے۔وہ چند لمحوں کی  دل لگی اس  بچے  کیلئے "دل کی لگی"  بن گئی۔ ایسا ہی ہوتا ہے دل کے معاملوں میں۔ اسی کا نام محبت ہے شاید۔
الیکشن سے کچھ پہلے خان کی زندگی پر ایک چھوٹی سی ڈاکومینٹری ویڈیو بنائی تھی۔ اس بندے کو سمجھنے کیلئے کام آسکتی ہے۔۔۔
Video Link: https://www.facebook.com/photo.php?v=336108789844779
.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.
The writer is a tribesman from Bajaur Agency (FATA) and tweets at @PTI_FATA .
(No official association with PTI)
.
....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.


Thursday, August 7, 2014

Election 2013, Rigging & PTI's Azadi March

By: Shah Zalmay Khan
.
الیکشن، دھاندلی اور آزادی مارچ
.

الیکشن تو پاکستان میں بہت ہوئے۔ مختلف ترغیبات کے تحت لوگ ووٹ بھی ڈالتے رہے۔کوئی ذات برادری کے چکر میں، کوئی مسلک فرقے یا زبان کے نام پر، کوئی گلی محلہ پکا ہونے کے چکر میں اور کوئی صرف اور صرف قیمے والے نان  اور ایک پلیٹ بریانی کیلئے ۔ لیکن ۲۰۱۳ کے الیکشن سے پہلے شاید ہی کوئی الیکشن ایسا رہا ہو جب تقریباٌ پورا ملک  ہی سیاسی ہوگیا ہو۔ پاکستان جیسا ملک، جہاں لوگ سیاست کو گالی اور سیاستدانوں کو ارذل المخلوقات سمجھنے لگے  تھے، اسی ملک کے لوگ سیاست کے بخار میں مبتلا ہونے لگے۔ گلی محلوں، حجروں چوپالوں اور کالجوں یونیورسٹیوں تک میں سیاسی بحث و مباحثے ہونے لگے۔ وہ نوجوان طبقہ جو سیاست سے بیزار تھا، سوشل میڈیا کی برکت سے سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا۔اور اس سارے سیاسی انقلاب کا محرک ایک ہی شخص تھا۔ عمران خان۔ اس انقلاب کی پہلی نشانی  ۳۰  اکتوبر  ۲۰۱۱  کو مینار پاکستان پر تاریخ ساز جلسہ تھی۔ اس جلسے کے مقام تک پہنچنے کیلئے خان نے لگاتار کئی سال محنت  کی اور پھر اس  جلسے کے بعد تو جیسے اس پر جنون ہی سوار ہوگیا ہو۔ ملک کے کونے کونے میں گیا۔ کراچی، کوئٹہ، لاہور، پشاور، گلگت، وہ کون سی جگہ تھی جہاں خان قوم کو جگانے نہیں پہنچا؟ صرف الیکشن کی بیس روزہ انتخابی مہم میں ہی ستر سے زیادہ تاریخ ساز جلسے کئے۔ ایک ایک دن میں پانچ چھ جلسے۔ یہاں تک کہ ایک ایسے ہی جلسے میں لفٹر سے گر کر کمر پر چوٹ لگوا بیٹھا لیکن ہسپتال کے بستر سے بھی وہ قوم کو ووٹ دینے کیلئے نکلنے کا کہتا رہا۔
عمران خان کی یہی انتھک محنت تھی جس کے نتیجے میں ۱۱ مئی کو پاکستانی قوم مثالی جوش و خروش سے ووٹ دینے نکلی۔ بیرون ملک سے ہزاروں پاکستانی صرف ووٹ دینے پاکستان آئے۔ ضعیف مردوخواتین وہیل چئیروں پرگھنٹوں  ووٹ کی قطاروں میں انتظار کرتے رہے۔کالجوں یونیورسٹیوں کے نوجوان تبدیلی رضاکار بنتے رہے۔ الیکشن کے دن عید کا سا یہ سماں اس سے پہلے بھی کبھی کسی نے دیکھا تھا؟ پاکستانی تاریخ کا سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ (ساٹھ فیصد) اس الیکشن میں نظر آیا۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن جوں جوں ۱۱ مئی کی شام گہری ہوتی گئی ، عوامی مینڈیٹ پرشب خون مارنے والے اپنا کھیل کھیلنے لگے۔ رات کے گیارہ بجے بڑے میاں نے فاتحانہ تقریر کرتے ہوئے پتہ نہیں کس کو مخاطب کیا: "میرے ہاتھ مت باندھنا۔ مجھے بھرپور مینڈیٹ دینا"۔ (جبکہ ووٹنگ ۵ گھنٹے قبل ختم ہوچکی تھی)۔بس پھر کیا تھا۔ جن کو یہ پیغام دیاگیا تھا، وہ اپنا "کام" کرنے لگے۔ الیکشن کے وہ نتائج جو شام سے ہی دھڑا دھڑ آرہے تھے، وہ رات بارہ بجتے ہی رک گئے۔ خیبر پختونخوا کے دوردراز ترین علاقوں سے بھی نتائج رات بارہ بجے تک فائنل ہوگئے لیکن پنجاب کے شہری علاقوں کے نتائج اگلے دن دوپہر تک رکے ہی رہے۔ جھرلو اپنا کام کرتا رہا اور اگلا  دن آیا تو پتہ چلا کہ  درجنوں حلقوں میں تحریک انصاف کےجیت کی طرف گامزن امیدوار معجزانہ طور پر ہار چکے تھے۔ پنجاب سے تحریک انصاف کے صرف وہی امیدوار اپنا الیکشن چوری ہونے سے بچا سکے جوسسٹم کے "پرانے کھلاڑی" ہونے کی وجہ سے واقف تھے کہ پریزائڈنگ افسر کے دفتر سے ریٹرننگ افسر کے دفتر تک کیسے جیتنے والے ہار جاتے ہیں۔صرف شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی، غلام سرور خان اور  رائے حسن نواز کھرل اپنے حلقے چوری ہونے سے بچا سکے۔شیخ رشید نے اپنا حلقہ بھی بچایا اور ساتھ ہی عمران خان کا پنڈی والا حلقہ بھی بچا لیا۔جبکہ شفقت محمود کسی زمانے میں  ڈپٹی کمشنر اور آر اورہنے کی وجہ سے اپنی سیٹ بچا لے گئے۔ ستم ظریفی تو دیکھئے کہ جس عمران خان کے نام پر شفقت محمود جیسے سیاسی طور پر گمنام بندے نے لاہور سےایک لاکھ ووٹ لیا،وہی عمران خان خود لاہور سے ہار گیا۔ ہے نا حیرت انگیز بات؟
کہانی یہا ں ختم نہیں ہوئی۔نون لیگ کے تنخواہ دار صحافی (خاص کر جیو ) قوم کو بتانےلگے کہ الیکشن میں چھوٹی موٹی بے ضابطگیاں ہوئی ہوں گی لیکن بہر حال الیکشن شفاف تھے۔ افتخار احمد اور کامران خان جیسے لوگ قوم کو یقین دلانے لگے کہ الیکشن میں دس فیصد اضافی ٹرن آؤٹ دراصل عمران خان کی انتھک محنت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ وہ لوگ جنہوں نے ۱۹۹۷ کے "کلین سویپ" والے الیکشن میں بھی شریفوں کو ووٹ ڈالنا گوارا نہ کیا، وہ اس بار میاں صاحب کی محبت میں نادیدہ طور پر گرفتار ہوگئے۔ ہے نا عجیب بات؟ نئے ووٹر کو نکالنے کیلئے محنت ساری عمران خان نے کی اور اس کی اپیل سے متاثر ہوکر ووٹ دینے نکلے بھی، لیکن معجزانہ طور پر پولنگ بوتھ میں جاکر ووٹ شریفوں کو دے آئے؟ کون کہتا ہے آج کل معجزے نہیں ہوتے؟ نون لیگ کا "بھاری مینڈیٹ" بھی ایک معجزہ تھا جس کے ڈیزائنر تھے افتخار چوہدری (جن کے نیچے آر او زتھے)، نجم سیٹھی (جنہوں نے پنکچر لگوائے) اور فخرو بھائی (جو ضروری کام سے سوتے رہے)۔
کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوئی۔ عمران خان خود بستر پر تھا اور تحریک انصاف کی باقی لیڈرشپ جیتی ہوئی سیٹیں ہارنے کے سبب شاید شاک میں تھے۔ یہ بھی پاکستانی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا کہ لیڈر شپ کے بغیر ہی نوجوان ازخود کراچی اور لاہور کی سڑکوں پر دھرنے دے کر بیٹھ گئے اور لیڈر شپ کو ان کے گھروں سے کھینچ کر لایا گیا۔دھاندلی کے ثبوتوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا سے ہوتے ہوئے مین سٹریم میڈیا پر چلنے لگیں اور لوگ دھاندلی کی شدت دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگانے لگے۔آہستہ آہستہ الیکشن کی "شفافیت" کا مصنوعی پردہ اٹھنے لگا اور دھاندلی کی تصویر سامنے آنے لگی۔لیکن اس سب کے باوجود عمران خان نے مشروط طور پر الیکشن کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔شرط یہ رکھی کہ چار حلقے کھول کر  دھاندلی کے ذمہ داروں  کو سزا دی جئے اور اگلے الیکشن کیلئے بامعنی الیکٹورل ریفارمز کی جائیں۔
 لیکن شریفوں نے تو عجیب ہی تماشہ لگالیا۔ بجائے دھاندلی کے ذمہ داروں کو سزا دینے کے، ایک ایک کو نوازنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔کرکٹ  سے دور دورتک کوئی نسبت نہ رکھنے والے نجم سیٹھی کو "سونے کی چڑیا" (کرکٹ بورڈ) سونپ دی گئی۔ جیو  اور جنگ گروپ کو حق خدمت کے طور پر اربوں روپے کے سرکاری اشتہارات دیے گئے اور پھر جیو سوپر کو کروڑوں کے کرکٹ رائٹس۔جیو کے الیکشن سیل کے انچارج افتخار احمد کو پنجاب پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی میں وائس چئیر مین لگادیا گیا جبکہ ان کے صاحبزادے کو میٹرو بس اتھارٹی میں کھپا دیا گیا ۔جنگ گروپ ہی کے رؤف طاہر کو "الیکشن خدمات" کے عوض ریلوے میں ڈی جی پی آر لگادیا گیا،عرفان صدیقی کو وفاقی وزیر کا عہدہ ملا جبکہ عطاء الحق قاسمی کو نشان امتیاز پرہی اکتفا کرنا پڑا۔پنجاب میں پنکچر سیل کے انچار ج جسٹس رمدے کے بیٹے کو اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بنادیا گیا۔اور آخرکار دھاندلی کے سب سے بڑے کردار افتخار چوہدری کو اصلی معنوں میں "سونے کی کان" سونپ دی گئی جب ا؂ن کی ذاتی خواہش پر  ان کے بدنام زمانہ  بلیک میلر بیٹے ارسلان  کو رکوڈک اوربلوچستان  کے دوسرے  وسائل کا مختار کل بنادیا گیا (بغیر کسی متعلقہ تجربے کے)۔ یہ سب وہ واقعاتی شہادتیں  ہیں  جن سے ثابت ہوتا ہے کہ الیکشن میں اہم رول رکھنے والوں کو شریفوں نے نوازا۔ اور کیوں نوازا؟ ظاہر ہے کسی "خدمت" کے صلے میں۔ اور وہ خدمت کیا تھی؟ دھاندلی کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے؟ ورنہ ارسلان کا معدنیات سے کیا تعلق، سیٹھی کا کرکٹ سے کیا واسطہ اور افتخار احمد کو باغبانی سے کیا نسبت؟
کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوئی۔الیکشن میں دھاندلی ہوئی، سب کو نظر آیا لیکن خان  کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ "شریف" اس نظام میں کس حد تک جڑیں پھیلاچکے ہیں۔خان نے دھاندلی کی شکایت کی  تو جواب ملا "ٹریبونل جائیں  نا جناب"۔تحریک انصاف کے کچھ لوگ تو دھاندلی سے مایوس ہی ہوکر گھر بیٹھ گئے اور کچھ نے الیکشن ٹریبونلوں میں اپیلیں دائر کردیں۔اب ٹریبونلوں میں بیٹھا کون تھا؟ اکثر انہی  شریفوں کے پچھلے ۳۰ سال میں لگائے ہوئے 'نظام کے پرزے"۔بہت سی  اپیلیں تو سنے بغیر ہی مختلف تکنیکی وجوہات کا بہانہ کرٹریبونلوں نے خارج کردیں  (جن کا شریفوں کے نمک خوار ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ اکثر اپیلیں تو حل ہوگئیں۔ بھیا جب سنی ہی نہیں گئیں تو حل کیا ہوا؟) جہاں جہاں تحریک انصاف کا کیس مضبوط تھا ، وہاں لاہور کی "شریف  ہائیکورٹ " زندہ باد۔سٹے آرڈر پر سٹے آرڈر۔ٹریبو نلوں کوقانون کے مطابق ۱۲۰ دن میں فیصلہ کرنا تھا جو کہ نہ ہوسکا۔جب خان نے ٹریبونلوں کی ناانصافی کی شکایت کی تو شریفوں کے نمک خواروں نے عدلیہ کی طرف رخ کرنے کا مشورہ دیا۔خان نے اعلیٰ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا  لیکن شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ یہاں بھی انصاف صرف "شریفوں" کیلئے ہے۔ چونکہ خان تو بالکل ہی غیر شریف تھا اسلئے عدلیہ  سے "شرمناک" جواب ملا کہ شراب کی بوتلوں  اور سموسوں کی قیمت پر سوموٹو لینے والی مصروف عدلیہ کے پاس عوامی مینڈیٹ چوری ہونے جیسے معمولی جرم  کا کیس سننے کی فرصت نہیں۔(حالانکہ یہی"مصروف عدلیہ"  اس کے بعد بھی جب جب شریفوں یا سیٹھیوں کو "انصاف" کی ضرورت پڑی، چند گھنٹوں کے نوٹس پر فراہم کرتی رہی)۔"شریف عدلیہ" سے مایوسی کے بعد خان کو کہاگیا کہ پارلیمنٹ کا فورم استعمال کریں نا۔خان نے یہ چینل بھی استعمال کرکے دیکھ لیا۔ کئی دفعہ پارلیمنٹ میں الیکشن ریفارم کا مطالبہ دہرایا اور ہر دفعہ شریفوں اور ان کے نمک خواروں نےزبانی زبانی اس سے اتفاق کیا لیکن "کچھ کرنے" کی زحمت پھر بھی نہ کی۔ تحریک انصاف نےالیکشن ریفارم کے حوالے سے دو بل اسمبلی میں جمع کرائے لیکن ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی دھاندلی کے ستون  سپیکرصاحب کو یہ بل پارلیمنٹ میں لانے کی توفیق نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ  پارلیمنٹ کی متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی کا ڈیڑھ سال میں  اجلاس تک نہ ہوسکا۔
 لیکن کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوئی۔  خان نے ملک کے نازک حالات کو دیکھتے ہوئے نظام چلنے دینے کیلئے کسی فوری احتجاجی تحریک سے گریز کیا۔ چار حلقوں میں تصدیق اور الیکشن ریفارم کے مطالبات پیش کرکے وہ خیبر پختونخوا میں "تبدیلی" کے پروگرام پر توجہ دینے لگا۔اس نے یہی سوچا کہ تحریک انصاف کی پالیسیاں پختونخوا میں نافذ کرکے  ۲۰۱۸ کے الیکشن کیلئے پختونخوا کو  رول ماڈل بناکر پیش کیا جائے۔اسلئے عمران خان کی رہنمائی میں پختونخوا میں قانون سازی اور گورننس ریفارمز پر تیزی سے کام ہونے لگا۔ہر دوسرے ہفتے خان پشاور میں آموجود ہوتا اور کام کی رفتار کا جائزہ لیتا۔ چند وزیروں کی کرپشن کا علم ہوا تو حکومت  کی کمزوری کی فکر کئے بغیر ان کو حکومت سے نکال باہر کیا۔تعلیم، صحت، پولیس اور پٹواری کے نظام کی بہتری کیلئے اصلاحات عمل میں آئیں۔ نیٹو سپلائی اور ڈرون حملوں پر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔ یہ سلسلہ شاید پانچ سال یوں ہی چلتا لیکن۔۔۔۔۔۔۔

لیکن شریفوں کو اس بات کا احساس تھا کہ اگر عمران خان پختونخوا میں اپنے ایجنڈے پر عمل کرنے میں کامیاب ہوگیا اور صوبے کی حد تک تبدیلی آگئی تورائیونڈ کی سیاست کی دکان ہمیشہ کیلئے بند ہوجائے گی۔بس پھر کیا تھا۔ بہانے بہانے سے وفاق نے صوبے کو تنگ کرنا شروع کردیا۔صوبے کو مالی طور پر کمزور کرنے کیلئے این ایف سی ایوارڈ کے تحت واجب الادا رقوم روکی جانے لگیں۔ بجلی کا خالص منافع جو کبھی مشرف یا زرداری تک نے نہیں روکا تھا، وہ ۲۰۱۳ کے پورے سال میں ایک پائی نہیں دی گئی۔ سب سے زیادہ اور سب سے سستی بجلی پیدا کرنے والے پختونخوا کو بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ وفاق کے زیر انتظام پیسکو صوبے کے لوگوں کو اووربلنگ، ٹرانسفارمروں کی مرمت نہ کرنے اور کم وولٹیج جیسے طریقوں سے زچ کرنے لگا ( یوں عام لوگ جنہیں وفاقی اور صوبائی محکموں کا ادراک نہیں، وہ صوبائی حکومت سے ناراض ہونے لگے)۔عابد شیر علی جیسے وفاقی وزراء ہر دوسرے ہفتے پشاور آکر پختونوں کو بجلی چور اور عمران خان کو چوروں کا سرپرست کہہ کر تذلیل کرنے لگے۔ وفاقی وزراء خان کو بجلی بنانے کے طعنے دیتے رہے لیکن جب صوبائی حکومت نے بجلی کا مسلہ حل کرنے  کیلئے بجلی کے بڑے پلانٹس کی تعمیر کیلئے وفاق کی "ساورن گارنٹیاں" مانگیں تو وفاق نےمعاملہ  سردخانے میں ڈال دیا۔ پختونخوامیں چونکہ گیس  صوبے کی اپنی ضرورت سے زائد پیدا ہوتی ہے اسلئےصوبائی حکومت نے گیس پاور پلانٹ لگانے کا ارادہ کیا اور وفاق سے اپنے حصے کی گیس دینے کا مطالبہ کیا تو وفاق نے سنی ان سنی کردی۔بیوروکریسی کی سینئیر پوسٹوں (سیکرٹری وغیرہ) پر وفاقی سول سروس کے افسران تعینات ہوتے ہیں جن کی ترقی وغیرہ کی لگام اسلام آباد کے پاس ہوتی ہے۔ پختونخوا میں اہم عہدوں پر تعینات  وفاقی افسران کو مبینہ طور پر "گو سلو" پالیسی پر عمل کی ہدایت دی گئی۔ جو فائل دو دن میں کلئیر ہونی تھی، اس پر دو ہفتے لگائے جانے لگے۔صوبائی حکومت کے احکامات میں روڑے اٹکائے جانے لگے۔صوبائی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کردیا گیا جس کے تمام متاثرین کا بوجھ پختونخوا پر ڈال دیا گیا، جبکہ سندھ اور پنجاب نے اپنے دروازے ان کیلئے بند کرلئے۔صوبائی حکومت نے ان دس لاکھ متاثرین کی خدمت اور بحالی کیلئے وفاق سے بار بار فنڈز مانگے لیکن آج تک اس مد میں صوبے کو کچھ نہیں ملا۔جتنی امداد کے اعلانات وزیر اعظم  یا وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیے وہ صوبائی حکومت کو نہیں دیے گئے بلکہ اپنے ہی وفاقی وزیر عبد القادر بلوچ کے محکمے سیفران اورنون لیگ کے گورنر سیکرٹریٹ کے ماتحت ایف ڈی ایم اے کو دے دیے گئے ۔یاد رہے کہ سوات اور باجوڑ آپریشن میں اس وقت کی زرداری حکومت نے تمام فنڈزپختونخوا کی صوبائی حکومت کو دے دیے تھے جس کی وجہ سے صوبے پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑا اور آئی ڈی پیز کے مسائل بھی بہتر طورپر حل ہوتے رہے۔ آئی ڈی پیز کی مدد کیلئے تمام انفراسٹرکچر مثلاٌ ہسپتال، سکول، سینی ٹیشن،، پانی، بجلی وغیرہ کے وسائل صوبائی حکومت کے استعمال ہورہے ہیں لیکن وفاق باوجود ٹی وی پر اعلانات کے صوبے کو ایک پیسہ نہیں دے رہا۔

یہ اور اس جیسے وفاقی حکومت کے بےشمار اقدامات دیکھ کر خان کو سمجھ آگئی کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، یہ شریف  نہ ہی اسے پختونخوا میں ڈیلیور کرنے  دیں گے اور نہ ہی ۲۰۱۸ کے الیکشن  سے پہلے الیکٹورل ریفارمزکریں گے۔الیکشن کمیشن، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے تمام فورمز کو شریفوں کی "بی، سی اور ڈی ٹیم" بنے دیکھ کر خان کے پاس دو ہی راستے رہ گئے۔
۔(۱) خاموشی سےشریفوں کی پختونخوا کو ناکام کرنے کی حرکتیں دیکھتا رہے اور ۲۰۱۸ کے الیکشن بھی ۲۰۱۳ کی طرح اسی گلے سڑے الیکشن سسٹم کے تحت لڑ کر دھاندلی سے ہارے اور نیا پاکستان کا خواب ہمیشہ کیلئے بھول جائے۔
۔(۲) شریفوں کو ان کی حرکتوں سے باز رکھنے کیلئے خم ٹھونک کر میدان میں آجائے اور ان پر اتنا عوامی دباؤ ڈالے کہ وہ پختونخوا حکومت کو کام کرنے دیں اور ساتھ ہی الیکشن نظام بھی ٹھیک کریں۔ ورنہ پھر وہی۔ دمادم مست قلندر۔
خان نے خاموشی سے ہتھیار ڈالنے کے بجائے دوسرا آپشن چنا  اور وہی راستہ اختیار کیا جس کی طرف وہ الیکشن کے اگلے دن سے ہی اشارہ کررہا تھا کہ "اگر قانونی راستوں سے انصاف نہ ملا تو پھر فیصلہ عوامی طاقت ہی کرے گی"۔

خان نے اس مقصد کیلئے  شریفوں کو ان کے ہوم گراؤنڈ (پنجاب) میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ ۱۱ مئی سے وفاقی دار الحکومت، شمالی پنجاب (سیالکوٹ)، مرکزی پنجاب (فیصل آباد) اور جنوبی پنجاب (بہاولپور) میں شدید ترین گرمی میں بھرپور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا۔شریفوں کی دھاندلی زدہ جمہوریت اور جعلی مینڈیٹ کی قلعی کھولی اور پھر ۱۴ اگست کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کے نام سے  فیصلہ کن پڑاؤ ڈالنے کا اعلان کردیا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ تقریباٌ ہرجماعت دھاندلی ہونے کی بات کررہی ہے لیکن عمران خان کے علاوہ کوئی بھی اس کے خلاف عملی طور پر کچھ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ پیپلز پارٹی کو سندھ مل گیا، ان کی لوٹ مار جاری ہے تو وہ جمہوریت بچانے کے بہانے سے چپ۔ملا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی مل گئی تو وہ چپ۔ اچکزئی صاحب کو بھائی کیلئے گورنری مل گئی تو وہ صم بکم۔ واحد عمران خان ہے جو کہہ رہا ہے کہ اگر الیکشن دھاندلی زدہ تھا  (جیسا کہ سب پارٹیاں کہہ رہی ہیں) تو پھر جمہوریت کہاں کی؟ پس صرف عمران خان اس عوامی چوری  کے خلاف  عملی جدوجہد کررہاہے۔ ورنہ اقتدار اور لوٹ مارہی مقصد ہوتا تو خاموشی سے شریفوں سے مک مکا کرکے پختونخوا میں بیٹھ کے "کھاتا رہتا" اور فرینڈلی اپوزیشن کرتا۔ لیکن بے بس قوم کا درد خان کو بے چین کیے ہوئے ہے۔وہ جانتا ہے کہ اگر اس بار دھاندلی کے ذمہ دار بچ گئے اور اس الیکشن کا نظام صحیح نہ ہوا توآئیندہ کبھی کوئی شریف اور پڑھا لکھا درد دل رکھنے والاشخص سیاست میں نہیں پڑے گا۔ کوئی ووٹ ڈالنے کیلئے گھر سے نکلنے کی زحمت نہیں کرے گا  (کہ ویسے بھی چوری ہوجانا ہے ووٹ)۔ یہ عمران خان کی جنگ نہیں ہے۔ یہ اس ملک میں جمہوریت کی بقا کی جنگ ہے۔ کہ حکومت کافیصلہ "ووٹ ڈالنے والے" کریں گے یا پھر "ووٹ گننے والے"؟
نوٹ: آزادی مارچ کے حوالے سے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ "مطالبہ" اور "مقصد" کا فرق سمجھا جائے۔ سیاست میں "مطالبہ" انتہائی ہی  ہوتا ہے۔ لیکن دباؤ اور مذاکرات کے بعد بات "مقصد" پر آتی ہے۔ اب اس سلسلے میں تحریک انصاف کا مطالبہ بےشک انتہائی ہے  یعنی "حکومت کا استعفیٰ اور نیا الیکشن"۔ لیکن "مقصد" ایک ہی ہے  اور وہ ہے"بامعنی الیکٹورل ریفارمز"۔ رہا سوال انتہائی مطالبوں اور جلسوں جلوسوں یا لانگ مارچ کا۔ تو یہ شریف لاتوں کے بھوت ہیں، باتوں سے ماننے والے نہیں۔ان پرمطالبوں سے عوامی   دباؤ نہ ڈالیں، یہ سو سال  الیکٹورل ریفارمز نہ ہونے دیں گے۔سر پر "مطالبے" کا پستول رکھیں گے تو ہی  "مقصد" کا بٹوہ ملے گا۔
۔ (کراچی  والے تو اس کا بہتر تجربہ رکھتے ہیں :پ)۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.
The writer is a tribesman from Bajaur Agency (FATA) and tweets at @PTI_FATA .
(No official association with PTI)
.
....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.


Saturday, July 19, 2014

Imran Khaniyat - New Firqa in Pakistan

By: Shah Zalmay Khan
.
عمران خانی فرقہ  پر درجن بھر اعتراضات (دوسرا ایڈیشن)۔
نوٹ: یہ بلاگ بنیادی طور پرآج سے دو سال پہلا لکھا گیا تھا۔ پچھلے دو سال میں حالات و واقعات میں کافی تبدیلی آ چکی ہے جس کی وجہ سے اسے دوبارہ سے لکھنا مناسب معلوم ہوا۔ ہاں کئی بنیادی باتیں اس بلاگ میں جوں کی توں ہیں۔پچھلے دو سالوں اور خاص کر پچھلے چند ماہ کے واقعات کے حوالے سے کچھ ضروری چیزیں شامل کی گئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سے پاکستان کے روایتی سیاستدانوں کو "تیس اکتوبر" نامی بخار چڑھا ہے تب سے ان کو اور ان کے تنخواہ داروں کو عمران خان سے سوالات پوچھنے کی بڑی پیڑی عادت پڑ گئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ "عمران خانیت"  نامی کسی نئے فرقے نے جنم لے لیا ہو جس کے فتنے سے قوم کو محفوظ رکھنے کیلئے تمام "مجاہدین قلم"، "غازیان اسلام"، "رائیونڈ شریف کے شرفاء" اور شہید بی بی کے مرید"انٹیلیکٹ۔چول"  اکھٹے ہوگئے ہوں۔کبھی کوئی نو سوالات کرتا ہے تو کبھی دس۔ کبھی گیارہ سوالوں کی پٹاری آتی ہے تو کبھی پندرہ کی اور پھر بیچارے تحریک انصاف کے ترجمان اور کارکن ان کے جوابات دینے میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ہر تھڑے، ہر اخبار اور ہر فیس بک گروپ میں انہی سوالوں کی گردان ہے۔ یہ قصہ ہر دس پندرہ دن بعد دہرایا جاتا ہے لیکن نہ تو سوال کرنے والے اپنے سوالات کے بودے پن سے شرماتے ہیں اور نہ ہی تحریک انصاف کے شاہین ان کی "چھترول" سے باز آتے ہیں۔ خیر یہی سوچ کے ہم نے فریقین کی آسانی کیلئے ایک عمومی سا "عمران خانیت پر اعتراض نامہ" ترتیب دیا ہے جس میں "فرقۂ عمران خانیت" کے خلاف اٹھائے گئے تمام اعتراضات کو سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔ساتھ ہی عمران خان کے شاہینوں کی آسانی کیلئے ان کےممکنہ  جوابات بھی تحریر کیے گئے ہیں تاکہ سند رہیں اور عند الضرورت کام آئیں(نوٹ: یہ جوابات خالصتاٌ میری ذاتی رائے ہیں اور تحریک انصاف سےان کا  کوئی تعلق نہیں)۔
اعتراض نمبر ۱ : عمران خان اپنا گھر نہیں سنبھال سکا تو ملک کوکیا سنبھالے گا؟
جواب: اس سے زیادہ لغو اعتراض شاید ہی کسی لیڈر  پر کبھی کیا گیا ہو۔  قائد اعظم کی گھریلو زندگی کیا اسی طرح کے مسائل سے دوچار نہیں تھی اور کیا ان کی صاحبزادی نے ان کی مرضی کے خلاف ایک پارسی سے شادی نہیں کرلی تھی؟اپنے ملک میں ہی دیکھ لیجئے۔ یہ اعتراض اٹھانے والوں کے اپنے خادم اعلیٰ صاحب تین خواتین کو طلاق دے چکے ہیں اور ماضی قریب میں ہی عقد چہارم یا پنجم کر چکے ہیں (بیٹیوں  اور بہووں کے معاملات کا ذکر یہاں کرنا ہم مناسب نہیں سمجھتےاگرچہ اس سلسلے میں "شریفانہ" حقائق اظہر من الشمس ہیں)۔ طاہرہ سید، شمشاد بیگم وغیرہ جیسے معاملات بھی ابھی ذہنوں سے محو نہیں ہوئے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی بھی اپنی شریک حیات سے علیحدگی ہوچکی ہے۔ تو ایسے میں صرف عمران خان ہی نشانہ کیوں؟ دوسری بات یہ کہ عمران خان کی شریک حیات سے علیحدگی میں ان دونوں میاں بیوی  کا قصوراتنا  نہیں تھا جتنا  اس شرمناک پروپیگنڈہ مہم کا قصور تھا جس نے آٹھ سال تک جمائمہ خان کا پاکستان میں ناطقہ بند کیے رکھا۔ کبھی اخباروں کے فرنٹ پیج پر "یہودی لابی "کےعمران خان کیلئے بھیجے گئے  چیک چھپے تو کبھی انہیں ٹائلوں کی سمگلنگ کا بودہ اور بےہودہ الزام لگا کر "دھر" لیا گیا۔ سیاسی انتقام کی جو "شریفانہ" مثالیں قائم کی گئیں ان پرتاریخ کبھی نہ کبھی  روشنی ڈالے گی ہی۔ اگر جمائمہ خان کو عمران خان سے کوئی گلہ ہوتا تو کیا طلاق کے دس سال بعد بھی آج وہ اس کا نام عزت سے لے رہی ہوتی؟  یہ علیحدگی محض اسی وجہ سے ہوئی کہ جمائمہ سیاسی "شرفاء" کے شرمناک پروپیگنڈے سے تنگ آگر پاکستان سے جانا چاہتی تھیں اور عمران خان کو بھی ترک وطن پر قائل کرنا چاہتی تھیں جبکہ عمران خان پاکستان سے جانے پر رضامند نہ تھے۔(یہ سب حقائق معترضین کی نظر میں بھی ضرور ہوں گے لیکن ظاہر ہے سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور نہ ہی ان جیسوں نے ضمیر نام کا جھنجھٹ پالا ہوتا ہے)۔
اعتراض نمبر ۲ : عمران خان طالبان خان ہے یا پھر طالبان کا ہمدرد ہے۔

عمران خان کسی عسکریت پسند گروہ  کا ہمدرد نہیں بلکہ وہ صرف اس جنگ کے خلاف ہے جس کا نہ سر ہے نہ پیر۔ کون کس کو ماررہاہے اور کیوں، یہ پتہ نہیں چلتا۔ اور اگر صرف اسی وجہ سے عمران خان کو طالبان کا حامی قرار دیا جائے کہ وہ امریکی جنگ کے خلاف ہے تو یہ تو بالکل وہی جارج بش والی  اندھی منطق ہے کہ"اگر آپ ہمارے ساتھ نہیں ہیں تو پھر ہمارے دشمن کے ساتھ ہیں"۔ اگرعمران خان کو طالبان خان کہنے والے "انٹیلیکٹ۔چول"  تھوڑی دیر کیلئے "میں نہ مانوں" کی عینک اتار کر دیکھیں تو صاف نظر آئے گا کہ عمران خان واحد لیڈر ہے جو اس مسلے کے حل کی بات کرتا ہے ورنہ باقی سارے تو صرف اس چکر میں ہیں کہ اپنی اپنی دکان چلتی رہے، ڈالر آتے رہیں۔ خود قلعوں میں بندہوکر ایلیٹ فورس اور ایف سی کے پہرے میں پرامن زندگی گزاریں،  بھلے قوم کو اگلے دس سال میں مزید چالیس ہزار جانوں اور ستر ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑے۔اس جنگ کو جنگ سے جیتنے کی کوشش ہم نے دس سال کرلی  اور ناکام بھی رہے۔ اب پھر وزیرستان پر چڑھ دوڑے ہیں۔ اس چڑھائی میں طالبان تو خاموشی سے سرحد پار افغانستان تشریف لے گئے لیکن دس لاکھ وزیرستانی قبائلیوں کو اپنے ہی ملک میں گھر بار چھوڑ کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔اس سے پہلے ۲۰۰۸ میں باجوڑ اور مہمند کو کلئیر کرنے کے دعوے ہوئےجبکہ ۲۰۰۹ میں اورکزئی، خیبر اور جنوبی وزیرستان کو کلئیر قراردیا گیالیکن آخر کیا حاصل ہوا؟ آج بھی ان علاقوں کے دس لاکھ سے زیادہ معصوم قبائلی اپنے ہی ملک میں دربدر کی ٹھکریں کھارہے ہیں اور پانچ پانچ سال گزرنے کے بعد بھی ان علاقوں میں امن کی کوئی صورت نظر  نہیں آتی۔کیوں؟ کیا قبائلی انسان نہیں؟ چند ہزار شدت پسندوں کی گناہوں کی سزا لاکھوں معصوم قبائلیوں کو کیوں دی جارہی ہے؟ ایسے میں اگر عمران خان ان قبائلیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بات کرے تو "طالبان خان"؟ 
اعتراض نمبر ۳ : عمران خان کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔
جواب: یہ اعتراض بھی غلط ہے۔ تحریک انصاف شاید پاکستان کی واحد جماعت ہے جس کا باقاعدہ تھنک ٹینک ہے جومختلف موضوعات پر پالیسیاں بنانے کا کام کررہاہے۔اس تھنک ٹینک کی بنائی ہوئی درجن کے قریب پالیسیاں پیش کی جاچکی ہیں۔ سب سے پہلے" انرجی پالیسی" دی گئی جس میں ملک کو درپیش توانائی بحران کے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم حل پیش کیے گئے۔اس کے بعد دیہی ترقی کیلئے " رورل گورننس"  کی پالیسی لائی گئی تاکہ پاکستان کی ستر فیصد دیہی آبادی کے مسائل حل ہوسکیں جنہیں اس سے پہلے کسی پارٹی نے توجہ نہیں دی۔اس کے بعد پاکستان کی کمزور معیشت کو سنبھالنے کی خاطر عملی اقدامات پر مبنی "معاشی پالیسی" پیش کی گئی۔ اس کے بعد عوام کے صحت کے مسائل کے حل کیلئے "ہیلتھ پالیسی" دی گئی۔ پھر پاکستان کی نصف آبادی پر مشتمل نوجوانوں کو قومی دھارے میں جائز مقام دلانے کیلئے اقدامات پر مبنی "یوتھ پالیسی" دی گئی۔اس کے بعد ایجوکیشن پالیسی، ماحولیاتی پالیسی وغیرہ ددی گئیں۔ اس کے علاوہ خارجہ تعلقات، دہشت گردی، انڈیا سے تعلقات، مسلہ کشمیر ، بلوچستان اور اسی طرح کے دوسرے معاملات پر عمران خان اپنے انٹرویوز میں کھل کر اپنی پالیسی کے خدوخال ظاہر کر چکے ہیں اور ان کی تحریری پالیسیاں آچکی ہیں۔یہ سب وہ باتیں ہیں جن کو اس سے پہلےسیاسی  پارٹیاں خرافات سمجھ کر نظر انداز کرتی رہی ہیں۔ چونکہ یہ پالیسیاں خطا کے پتلوں یعنی انسانوں نے بنائی ہیں اسلئے ان میں بہتری  کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے لیکن کم از کم کسی نے اس طرف سوچا تو۔ان پالیسیوں میں سے جو جو صوبائی حکومت کے کام کی ہیں، وہ پختونخوا میں زیر عمل بھی لائی جارہی ہیں۔
اعتراض نمبر ۴ : عمران خان کی پارٹی میں وہی  پرانےروایتی سیاستدان آگئے۔ 
جواب: کسی حد تک یہ اعتراض درست ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ پارٹی میں آگئے لیکن کیاان کے آنے سے تحریک انصاف ان کی ہوگئی؟ کیا  وہ عمران خان کو اپنی راہ سے ہٹا سکتے ہیں (اگر ان کی نیت ٹھیک نہ بھی ہو تو)؟ایسے بہت سے فصلی بٹیرے بھنڈر، ہوتی وغیرہ واپس اڑ گئے کیونکہ انہیں نظر آگیا کہ یہاں دال نہیں گلنے والی۔ویسے بھی  تحریک انصاف نے پارٹی میں الیکشن کراکے نئے پرانے کا چکر ہی ختم کردیا۔الیکشن ۲۰۱۳ میں ہی دیکھ لیں۔ تحریک انصاف کے ۳۵  ایم این ایز میں سے ۲۵ سے زیادہ بالکل نئے چہرے ہیں جو کبھی سیاست میں پہلے نہیں رہے۔ اسی طرح پختونخوا، پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں میں تحریک انصاف کے ۹۰ فیصد ایم پی اے بالکل نئے چہرے ہیں۔ ہاں قریشی صاحب جیسے چند پرانے چہرے بھی تحریک انصاف کی صفوں میں ہیں لیکن  یہ وہ لوگ ہیں جن پر کرپشن یا بے اصولی کا کوئی الزام نہیں۔ کچھ نہ کچھ تجربہ کار لوگ تو سیاست میں چاہیئے ہی ہوتے ہیں ۔ مقام حیرت یہ ہے کہ تحریک انصاف پر یہ اعتراض وہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کرتے ہیں جن کے سو فیصد لوگ پرانےڈکیت  ہیں۔تحریک انصاف ۹۰ فیصد نئے چہروں کیساتھ دس فیصد پرانے چہرے (اور وہ بھی ایماندار لوگ) ہیں تو اس میں مضائقہ کیا ہے؟
اعتراض نمبر ۵: عمران خان نے ۹۰ دن میں تبدیلی کا وعدہ کیا تھا۔ کہاں ہے تبدیلی خیبر پختونخوا میں؟
عمران خان نے ۹۰ دن میں "پورے نظام کی تبدیلی"  کا  نہیں بلکہ بڑے لیول پر کرپشن میں تبدیلی کا وعدہ کیا تھا۔ اور اللہ کے فضل سے واقعی ۹۰  دن میں ہی اس نے یہ کرکے دکھا دیا۔ جون میں تحریک انصاف کی حکومت بنی اور تمام وزراء پر چیک اینڈ بیلنس کا آغاز ہوا۔ تین مہینے بعداکتوبر میں جب اتحادی حکومت کے دو وزراء (شیرپاؤ گروپ ) کے بارے میں شکایات ملیں تو پہلے انہیں  وارننگ دی گئی اور پھر نومبر میں خان نے انہیں حکومت سے نکال باہر کیا اور ایسا کرتے ہوئے یہ لحاظ بھی نہ کیا کہ اپنی صوبائی حکومت خطرے میں پڑ رہی ہے۔اس کے علاوہ صوبے کی ۶۵ سالہ تاریخ میں پہلی بار خودمختار احتساب کمیشن کیلئے بہترین قانون سازی ہوئی اور طویل شفاف مراحل سے گزر کر بالآخر اس کے سربراہ کا تقرر ہوگیا ہے اور انشاء اللہ جلد یہ کام شروع کردے گا۔ اسی دوران میں کے پی کے میں موجود صوبائی نیب اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو استعمال کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی کے بھائی، سابق آئی جی اور درجنوں سینئیرترین  افسران کو کرپشن کے مختلف کیسز میں  ہتھکڑیاں لگادی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں اعلیٰ سطحی کرپشن کے دروازے یوں بند ہوئے کہ بہت سے کرپٹ افسران پختونخوا میں پوسٹنگ کا سن کر ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ پولیس میں سیاسی مداخلت ختم کرکے ایماندار آئی جی کے ذریعے  ایسا اندرونی  احتسابی مکینزم بنایا گیا ہے کہ اب تک سینکڑوں پولیس افسر اور اہلکارکرپشن اور بدعنوانیوں پر برطرف ہوچکے ہیں۔پختونخوا کی وہ پولیس جو غریبوں کو تنگ کرنے اور جھوٹے پرچے کاٹنے وغیرہ کے سلسلے میں بدنام تھی، آج وہی پولیس بہت بہتر کام کررہی ہے۔ پٹواری جس کو نون لیگ کی "گڈ گورننس" والی حکومت پنجاب میں ۲۵ سال میں لگام نہ ڈال سکی (ڈالنا چاہتی ہی نہیں) اس کو عمران خان نے صرف ایک سال میں نکیل ڈال دی۔ وہ پٹوار خانے جو کبھی رشوت اور کرپشن کا گڑھ ہوا کرتے تھے، وہاں آج کسی پٹواری کو رشوت دینے پر بھی لینے کی ہمت نہیں ہوتی۔ وہ سرکاری ملازمتیں جو کبھی ایزی لوڈ پر بکا کرتی تھیں، ان کیلئے وفاقی ادارے این ٹی ایس کی مدد سے شفاف ریکروٹمنٹ  نظام بنادیا گیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ اور پولیس اہلکاروں کی بھرتی اسی سسٹم کے تحت ہوئی جس سے بھرتیوں میں کرپشن کا ٹنٹا ہی ختم ہوگیا۔یہ ہے وہ تبدیلی جس کا عمران خان وعدہ کرتا تھا۔ باقی جہاں تک بات ہے پورے نظام کی مکمل تبدیلی کی تو اس کیلئے پہلا قدم قانون سازی ہوتا ہے اور ماشاء اللہ پختونخوا حکومت نے اس میدان میں ایک سال میں جتنا کام کیا، اتنا پچھلی حکومتیں پورے پورے ادوار میں نہ کرسکیں۔ شہری حقوق کے حوالے سے رائٹ تو انفارمیشن، رائٹ تو سروسز جیسے بہترین قوانین رائج ہوئے جن سے طویل مدتی  نظام کی تبدیلی کا خواب  پورا ہوسکے گا۔بلدیاتی نظام کیلئے سب سے بہترین قانون پختونخوا میں ہی بنا جس کے تحت صحیح معنوں میں بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور فنڈز منتقل ہونے ہیں۔ بدقسمتی سے صوبائی حکومت کے بار بار اصرار کے باوجود  اور اپریل ۲۰۱۴ میں الیکشن کروانے کی اپیل کے باوجود الیکشن کمیشن پختونخوا میں  بلدیاتی الیکشن کروانے میں ناکام رہا ہے۔شاید وجہ یہ ہو کہ اگر پختونخوا میں الیکشن ہوئے تو پنجاب  اور سندھ میں بھی کرانا پڑیں گے جو شریفوں اور زرداریوں کو قطعاٌ منظور نہیں۔ یوں بلدیاتی الیکشن کو جان بوجھ کر لٹکایا جارہا ہے جس سے صوبائی حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے میں دقت بھی پیش آرہی ہے اور لوگ بھی گلے شکوے کرتے ہیں۔  
اعتراض نمبر ۶: خیبر پختونخوا میں کچھ کام نظر نہیں آرہا۔
جواب: یہ "کچھ نظر نہیں آرہا " والا اعتراض بھی بڑا مضحکہ خیز ہے۔ عمران خان نے انتخابات کے دوران ستر سے زیادہ جلسوں سے خطاب کیا اور درجنوں انٹرویو دیے۔ ان میں سے کسی ایک میں بھی اس نے کبھی "نظر آنے والی" چیزوں کے وعدے نہیں کیے (مثلاٌ فلائی اوور، پل ، میٹرو بس وغیرہ)۔ وہ ہمیشہ یہی کہتا رہا کہ میں "نظام" ٹھیک کروں گا اور کرپشن روکوں گا۔ جب نظام ٹھیک ہوگا اور کرپشن  سے پیسہ بچے گا تو وہ ظاہر ہے انہی "نظر آنے والے" کاموں پر ہی لگے گا۔ اس کیلئے کسی وزیر مشیر کی تختی کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ متعلقہ ادارے (سی اینڈ ڈبلیو وغیرہ) خود ہی اپنا کام کریں گے۔ بھلا لیڈروں کا فلائی اوور اور بسوں سے کیا تعلق؟ کبھی اوبامہ یا کیمرون کو کسی میٹرو کا افتتاح کرتے اور اس کا کریڈٹ لیتے دیکھا ہے؟ یہ کام انجنئیروں کے ہیں اور اس کیلئے محکمے موجود ہیں۔ بس گورننس کا نظام درست ہونا چاہئیے، یہ سب کام "بائی پروڈکٹ" ہیں جو ساتھ ساتھ ہوتے رہیں گے۔عمران خان وعدہ کرتا تھا صحت اور تعلیم کے نظام کی بہتری کا۔ آج سرکاری ہسپتال ایک سال پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں۔ سکولوں میں انگریزی کو پہلی جماعت سے ہی ذریعہ تعلیم بنانے سے امیر اور غریب کے بچے کے درمیان تعلیمی فرق ختم ہوگا ۔بیواؤں اور یتیموں کیلئے ماہانہ گزارہ الاؤنس، قابل مگر غریب طالبعلموں کیلئے تعلیمی وظائف، بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے بلاسود کاروباری قرضے  اور غریب ترین  ۹  لاکھ خاندانوں کیلئے ضروری خوراکی اشیاء پر اربوں کی سبسڈی ایسے اقدامات ہیں جن سے دراصل غریب کا بھلا ہوگا۔
جہاں تک بات ہے نظر آنے والے کاموں کی تو پشاور میں کئی فلائی اوورز زیر تکمیل ہیں۔ پشاور میں ریپڈ ماس ٹرانزٹ منصوبہ کی پری فیزیبیلٹی بن چکی ہے اور انشاء اللہ فزیبیلیٹی سٹڈی کے بعد ۳ سے چار سال میں یہ منصوبہ پشاور کے ٹریفک کے مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔۸۱ کلومیٹر لمبی سوات ایکسپریس وے جو وادی پشاور کو ملاکنڈ کے اضلاع سے ملائے گی، اس کیلئے زمین کی خریداری کی رقوم جاری کردی گئی ہیں اور تین سے چار سال میں یہ بھی پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔ اس کے علاوہ صوبے کی سطح پر آئل ریفائنری ، ۳۰۰ سے ۵۰۰ میگاواٹ کے  گیس پاور پلانٹ اور دوردراز علاقوں کیلئے  ۳۵۰ سے زیادہ مائیکرو ہائیڈل پاور پلانٹس لگانے کے منصوبے فزیبیلیٹی اور عملی کام کے مختلف مراحل میں ہیں۔ بجلی کی مد میں تقریباٌ ۱۲۰۰ میگاواٹ کے پن بجلی کے منصوبوں پر مختلف مراحل میں کام جاری ہے۔یہ اتنے ترقیاتی کام ہیں جتنے کوئی حکومت بھی اس سے پہلے نہیں کرسکی۔مسلہ صرف یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت چاہتی  ہے کہ کسی منصوبے  میں  کرپشن  کا شائبہ نہ ہو اسلئے کچھ کاموں کی رفتار سست  نظر آتی ہے۔  
اعتراض نمبر ۷: عمران خان سےصوبائی حکومت نہیں چل رہی اسلئے سیاسی  شہادت چاہتے ہیں۔
جواب: یہ حکومت نہ چلنے اور شہادت چاہنے کی بات  بھی حد درجہ مضحکہ خیز ہے۔جب پیپلز پارٹی  اور اے این پی کی بدترین حکومتیں جنہوں نے کرپشن اور ایزی لوڈ کے ریکارڈ قائم کئے وہ اپنی حکومت کے پانچویں سال کے آخری مہینے کے آخری ہفتے کے آخری دن تک اقتدار سے چمٹی رہیں اور شہادت قبول نہیں کی (بلکہ سولہ مارچ۲۰۱۳ کوحکومت کے آخری  دن چھٹی ہونے کے باوجود دفاتر کھلے رکھ کرلوٹ مار کی آخری سانس انجوائے کرتے رہے) تو بھلا تحریک انصاف نے ایسا کیا کیا ہے کہ اسے حکومت کے آخری نہیں بلکہ پہلے ہی سال میں سیاسی شہادت کی طلب ہو؟ اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت تیسری دفعہ اقتدار میں آنے کے باوجود ایک سال میں  عوام کا مہنگائی، کرپشن ، پولیس گردی اور لوڈ شیڈنگ سے ناطقہ بندکرنے پر بھی شہادت کی طلبگار نہیں تو بھلا تحریک انصاف کیوں ہوگی جس کا حکومت کا یہ پہلا تجربہ ہے ۔ پھر بھی اگرکسی پارٹی کو اپنی بدترین کارکردگی چھپانے کیلئے   شہادت چاہئیے بھی ہو تووہ اپنی حکومت کے آخری سال میں الیکشن سے چار پانچ مہینے پہلے شہادت کی کوشش کرتے ہیں، حکومت کے پہلے ہی سال میں نہیں۔اب جو لوگ اس کے باوجود یہ وظیفہ دہراتے ہیں  یا تو ان کی نظر میں کوئی فرق ہے یا دماغ میں کوئی فتور ہے یا ان کے دلوں میں حسد اور غصے کی آگ بڑھک رہی ہے اور یا پھر اس قسم کی باتوں سے وہ صرف تحریک انصاف کے نوجوان سپورٹرز کو کنفیوژ کرنا چاہتے ہیں (اور اس میں  شایدکامیاب بھی رہتے ہیں)۔ ورنہ کوئی ذی ہوش انسان جس کو خیبر پختونخوا کے زمینی حقائق کا ذرا سا بھی اندازہ ہو تووہ اس"شہادت" تھیوری پریقین نہیں کرسکتا۔
اعتراض نمبر ۸: عمران خان وزیر اعظم نہیں بن سکا اسلئے دھاندلی کے خلاف احتجاج کرکے انتقاماٌ  جمہوریت ڈی ریل کرنا چاہتا ہے۔
جواب: سب سے پہلے تو وزیر اعظم نہ بننے والی بات۔بھلا ایسی کیا چیز ہے جس کی طلب میں عمران خان وزیر اعظم بننا چاہتا ہو؟ 
پیسہ؟  اس کا اسے لالچ نہیں اور یہ ساری دنیا جانتی ہےاور اس کی ساری زندگی اس کی گواہ ہے۔پیسے کا لالچ ہوتا تو جمائمہ خان سے علیحدگی کے  وقت برطانوی قانون کے مطابق جمائمہ  کے اربوں کے اثاثوں سےایک بڑا حصہ لے سکتے تھے۔
شہرت؟  عمران خان سے زیادہ شہرت  بھلا کس پاکستانی  کو  اللہ نے دی ہوگی ؟ وہ شخص کہ برطانوی شاہی خاندان جس کیساتھ اٹھنے بیٹھنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور انڈیا سے ترکی اور ڈیووس تک بغیر کسی سرکاری عہدے کے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ اسے بھلا مزید شہرت کی کیا ضرورت ہوگی؟
کرپشن؟  اس کا وہ روادار نہیں۔ پختونخوا میں ایک سال سے حکومت ہے نا اس کی۔ کوئی کہہ سکتا ہے ایک پیسے کی کرپشن کی بات اس کے بارے میں؟ کوئی کارخانہ لگایا ہو اس نے؟ کوئی رشتہ دار سرکاری عہدوں پر لگوا دیا ہو؟ کسی کی سفارش کردی ہو؟ کوئی پلاٹ، کوئی بینک اکاؤنٹ، کوئی دبئی میں محل وغیرہ؟ نہیں۔ کچھ بھی نہیں۔
اگر کوئی چیز ہے تو وہ ہے بے بس پاکستانیوں کا درد جن کو ۶۵ سال میں چند خاندانوں نے لوٹ کھسوٹ کر حیوانیت کے درجے تک گرادیا ہے۔ ان لوگوں کی حالت بدلنے کیلئے عمران خان نے حکومت سے باہر بھی بہت کچھ کیا ہے اور حکومت بھی صرف انہی اٹھارہ کروڑ پسے ہوئے لوگوں کیلئے چاہتا ہے۔ کسی ذاتی مفاد کیلئے نہیں۔
اب آتے ہیں جمہوریت ڈی ریل کرنے والی بات پر۔اس سے مضحکہ خیز بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔بھلا صاف شفاف الیکشن کے بغیر بھی کہیں جمہوریت قائم ہوئی ہے؟ جب الیکشن ہی دھاندلی زدہ ہوگیا تو جمہوریت کہاں کی؟ اور جب تک اس الیکشن کی دھاندلی کا احتساب نہ ہو، ذمہ داروں کو سزا نہ ملے اور آئیندہ کیلئے الیکشن سسٹم ٹھیک نہ کیا جائے، اس وقت تک  جمہوریت ہے کہاں جو ڈی ریل ہوگی؟ عجیب بات ہے۔ ہر جماعت کہہ رہی ہے شدید دھاندلی ہوئی لیکن سب کہتے ہیں جی  جمہوریت ڈی ریل نہ کریں۔ بھیا جمہوریت شفاف الیکشن کے بغیر ہے ہی نہیں۔ ڈی ریل کہاں سے ہوگی؟ ہاں ڈی ریل  ہوگی تو جعلسازی سے بنی ہوئی چند خاندانوں کی آمریت ڈی ریل ہوگی۔ اور کچھ نہیں۔ 
اعتراض نمبر ۹: عمران خان اور خیبر پختونخوا حکومت آئی ڈی پیز کو سنبھال نہیں سکی۔
جواب: یہ وہ شرمناک الزام ہے جس کو لگانے والوں  نے کھلی آنکھوں سے حقائق دیکھتے ہوئے بھی ضمیر کو سلادیا ہے۔ وزیرستان  آپریشن عمران خان کی مرضی کے خلاف شروع ہوا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پختونخوا کی حکومت کو آپریشن شروع ہونے کی اطلاع تک میڈیا سے ملی۔  وزیرستان فاٹا  (وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ) میں آتاہے۔ اس لحاظ سے اس علاقے سے نکلنے والے آئی ڈی پیز کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ لٹے پٹے قبائلی بھائی زیادہ تر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں آئے تو پختونخوا حکومت نے اپنے محدود وسائل کے ساتھ ان کو خوش آمدید کہا۔ حالانکہ چاہتے تو پنجاب اور سندھ کی طرح صاف انکار بھی کرسکتے تھے کہ یہ وفاق کی ذمہ داری ہے، ہم پختونخوا میں ان کو نہیں آنے دے سکتے (جیسا کہ پنجاب اور سندھ نے زبانی اور عملی طور پر ان کا داخلہ بند کرکےکیا)۔ عمران خان قومی لیڈروں میں سب سے پہلے ۲۲ جون کو آئی ڈی پی کیمپوں میں گئے (یاد رہے کہ وفاقی حکومت کے سربراہ یعنی وزیر اعظم  ۲۸  جون کو گئے اور فاٹا کے آئینی سربراہ صدر  ممنون حسین آج دن تک نہیں گئے)۔ اس کے بعد عمران خان ۵ جولائی کو دوبارہ آئی ڈی پیز کے پاس  بنوں گئےاور سپیکر پختونخوا اسمبلی کو اپنا دفتر مستقل طور پر بنوں شفٹ کرنے کی ہدایت کی۔ جس کے بعد سپیکر اسد قیصر آئی ڈی پیز کے معاملات کی نگرانی کیلئے ۲۰ دن سے مسلسل بنوں میں ہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان فاؤنڈیشن کی طرف سے فوزیہ قصوری  نے دو ہفتے سے زیادہ آئی ڈی پیز کے درمیان گزار دئیے۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پانچ سے زیادہ بار آئی ڈی پیز کے پاس جاچکے ہیں۔عمران خان نے عید تک آئی ڈی پیز کے ساتھ گزارنے کا اعلان کردیا۔
اب چاہئیے تو یہ تھا کہ چونکہ سارے آئی ڈی پیز پختونخوا میں آئے تو وفاقی حکومت پختونخوا حکومت کو فنڈز حوالے کرتی  اور پھر ان سے حساب مانگتی۔ اب یہاں بے شرمی کی حالت دیکھیں کہ وفاق نے اعلانات تو بہت کیے لیکن ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود صوبائی حکومت کو آئی ڈی پیز کیلئے ایک پیسہ تک نہیں دیا ۔ جتنی امداد کے اعلانات وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیے ہیں وہ صوبائی حکومت کو نہیں دیے گئے بلکہ اپنے ہی وفاقی وزیر عبد القادر بلوچ کے محکمے سیفران  اورنون لیگ کے گورنر سیکرٹریٹ کے ماتحت ایف ڈی ایم اے کو دے دیے گئے ۔یاد رہے کہ سوات اور باجوڑ آپریشن میں  اس وقت کی زرداری حکومت نے تمام فنڈزپختونخوا کی صوبائی حکومت کو دے دیے تھے جس کی وجہ سے صوبے پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑا اور آئی ڈی پیز کے مسائل بھی بہتر طورپر حل ہوتے رہے۔ان شریفوں سے تو اس معاملے میں زرداری ہزار درجہ بہتر تھا کہ اس نے سیاست  کھیلنے کے بجائے فنڈز صوبائی حکومت کو دیے تاکہ آئی ڈی پیز کی مشکلات حل ہوں۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آئی ڈی پیز کی مدد کیلئے تمام انفراسٹرکچر مثلاٌ ہسپتال، سکول، سینی ٹیشن،، پانی، بجلی وغیرہ کے وسائل  صوبائی حکومت کے استعمال ہورہے ہیں لیکن وفاق باوجود ٹی وی پر اعلانات کے صوبے کو ایک پیسہ نہیں دے رہا۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت نے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے آئی ڈی پیز کو ماہانہ ۸ ہزار روپے دینا شروع کیے ہیں اور بنوں کے تمام سکول آئی ڈی پیز کیلئے کھول دیے۔ تمام اسپتالوں میں ان کا علاج مفت کردیا جس کے دواؤں وغیرہ کے تمام اخراجات صوبہ برداشت کررہا ہے۔ سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں متاثرہ طلباء و طالبات  کو مفت داخلے دینے کا اعلان کردیا۔ لیکن بے شرمی کی انتہا دیکھیں کہ اس کے بعد بھی نون لیگ کے پرویز رشید جیسے کارندے ، سوشل میڈیا میں بیٹھے ان کے پٹواری اور میڈیا میں بیٹھے ان کے بھونپو دن رات عمران خان اور پختونخوا حکومت کو مورد الزام ٹہراتے ہیں کہ "آئی ڈی پیز کو سنبھال نہ سکے"۔ شرم ان کو مگر نہیں آتی۔
اعتراض  نمبر۱۰ : عمران خان کی ڈوریاں اسٹیبلشمنٹ ہلارہی ہے۔
جواب: مضحکہ خیز الزام ہے کیونکہ عمران خان کے مخالف بھی مانتے ہیں کہ عمران خان کا مزاج اصولوں اور ڈسپلن کے معاملے میں  ڈکٹیٹرانہ قسم کا ہے۔ خیال یہی ہے کہ سنتا سب کی ہے لیکن کرتا اپنی ہے۔ پھر اسٹیبلشمنٹ کوتو ہمیشہ ایک ایسے مہرے کی تلاش ہوتی ہے جس کی کمزوریاں ان کے ہاتھوں میں ہوں اور جس کے کرپشن وغیرہ کے ثبوت اپنے قبضے میں رکھ کر بعد میں  بلیک میل کرسکیں۔ اب عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کس چیز سے بلیک میل کرسکتی ہے کیونکہ اس کی زندگی تو ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔اس کی سب خوبیاں خامیاں سامنے ہیں۔ غلطیوں پر وہ معافی مانگتا ہے اور خوبیاں اس کی اتنی مضبوط ہیں کہ ان کے بل پر کسی کی بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتا ہے۔ توبھلا ایسے کسی بندے کو لاکر اسٹیبلشمنٹ نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنی ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ اسٹیبلشمنٹ اگر عمران خان کے ساتھ ہوتی تو کیا الیکشن ۲۰۱۳ میں اسے نون لیگ کی عالمگیر دھاندلی کے ہاتھوں اسے ہارنے دیتی؟ کیا جن بیلٹ بکسوں سے نون کے جعلی ووٹ نکلے، انہی سے عمران خان کے جعلی ووٹ نہ نکلوا دیتی؟ہے کوئی جواب اس بات کا؟ (ویسے بھی جو"شرفاء" عمران خان کو یہ طعنہ دیتےتھے، اصغر خان کیس کے فیصلے کے بعدخود ہی منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ اگرچہ جھوٹ اور مکروفریب سے باز پھر بھی نہیں آتے)۔  
اعتراض نمبر ۱۱ : عمران خان کی بیوی یہودی ہے، اس کے بچے یہودیوں میں پل رہے ہیں اور وہ خود یہودی لابی کا ایجنٹ ہے۔
جواب: عمران خان کی سابقہ بیوی جمائمہ خان شادی سے پہلے عیسائی تھی (یہودی نہیں) جبکہ ان کا خاندان بھی  یہودی نہیں بلکہ عیسائی ہیں۔بچے قانون کے مطابق بلوغت تک ماں کے پاس رہنے ہیں اس لیے "عمران خان کے بچوں" کے یہودیوں میں پلنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔(ویسے اگر ہوتا بھی تو عمران خان کے بچوں سے تحریک انصاف کا کیا تعلق؟ یہ کوئی خاندانی پارٹی تو نہیں ہے کہ جسے کل کو سلیمان خان یا قاسم خان نے سنبھالنا ہو)۔ جہاں تک بات ہے یہودی لابی کے ایجنٹ کی توجناب عالی  یہودیوں کا سب سے بڑا مہرہ اور شاتم رسول سلمان رشدی تو عمران خان کو بنیادپرست مسلمان کہتا ہے۔ یہ کیسا یہودی لابی کا ایجنٹ ہے جو ڈرون حملوں اور امریکی جنگ اور غلامی کا سب سے بڑا مخالف ہے اور جو ڈرون حملوں کے خلاف وزیرستان امن مارچ کرتا ہے اور نیٹو سپلائی بند کرتا ہے۔ اور جسے امریکی جہاز سے اتار کر گھنٹوں ڈرون حملوں کی مخالفت کی وجہ سے ہراساں کرتے ہیں (ویسے آج تک کسی اوراسلام کے ٹھیکیدار لیڈر کو کیوں نہیں اتارا امریکیوں نے؟ کیوں مولانا صاحب کیا فرماتے ہیں اکابرین علماء و فقہاء  بیچ اس مسلے کے؟)
اعتراض نمبر۱۲ : عمران خان نےقوم کا کینسر ہسپتال کیلئے دیا ہوا زکوۃ کا پیسہ جوئے میں ہار دیا (سیالکوٹ کے خواجہ نے یہی الفاظ استعمال کیے تھے نا؟)۔
جواب: اس اعتراض کا بہترین جواب شوکت خانم ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹرفیصل سلطان دےچکے ہیں۔ مکرر ذکر  کافی ہوگا۔ اول تو یہ کہ شوکت خانم کو ملنے والا زکوۃ کا ایک پیسہ بھی کہیں انویسٹ نہیں کیا جاتا۔ وہ سیدھا سیدھا غریب مریضوں کے علاج پر لگتا ہے۔ دوم وہ پیسہ جو صدقات و خیرات یا فنڈ ریزنگ تقریبات سے اکھٹا ہوتا ہے، اس کا کچھ حصہ "انڈومنٹ فنڈ" کے ذریعے انویسٹ کیا جاتا ہے جیسا کہ دنیا کے تمام فلاحی ادارے مثلاٌ یونیورسٹیاں اور ٹرسٹ وغیرہ کرتے ہیں تاکہ کسی ایمرجنسی کی وجہ سے اگر کبھی چندے میں فرق پڑے بھی تو ہسپتال انڈومنٹ فنڈ سے اخراجات پورے کرسکے۔ سوم اس پورے عمل میں عمران خان کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ہے کیونکہ نہ تو عمران خان انڈومنٹ فنڈ کے بورڈ کا ممبر ہے اور نہ ہی وہ ہسپتال  کا ایک بھی پیسہ خرچ کرنے کی منظوری دے سکتا ہے چاہے وہ کسی اچھے مقصد کیلئے  ہی کیوں نہ ہو۔ چہارم یہ کہ شوکت خانم کے انڈومنٹ فنڈ سے کی گئی درجن بھر سرمایہ کاریوں میں سےایک کے سوا سب نے منافع دیا۔ جس ایک نے منافع نہیں دیا اس میں بھی شوکت خانم کا پیسہ محفوظ ہے  جس کی تصدیق متعلقہ تمام سٹیک ہولڈر کرتے ہیں ۔ تو پھر شور کس بات کا؟
(خوجہ صاحب سیاست کیلئے ابھی اور کتنا نیچے جانا ہے؟ جعلی چیک اور جعلی سمگلنگ سے جعلی انکشافات تک تو آگئی ہےآپ کی جماعت۔اب بس کریں خدارا)
اعتراض نمبر۱۳ : عمران خان بنیاد پرست ہےاور مغربی دنیا کا دشمن ہے اسلئے اگر یہ حکومت میں آگیا توپاکستان بیرونی دنیا سے کٹ جائیگا اور  امریکہ ہمیں "واڑ" دے گا۔
جواب: یہ اعتراض کرنے والے "انٹیلیکٹ۔چول" حضرات بھول جاتے ہیں  کہ عمران خان وہ شخصیت ہے جس کو دنیا پاکستان کے حوالے سے نہیں جانتی بلکہ اس کا اپنا دنیا میں ایک ایسا قدوقامت ہے جس تک ہمارے باقی لیڈر "ہائی ہیل" پہن کر بھی نہیں پہنچ سکتے۔ واحد پاکستانی لیڈر جو کرپشن، سوئس اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ یا بھتہ مافیا ڈان کے طور پر نہیں بلکہ اچھے لفظوں سے یاد کیا جاتا ہے۔ڈیووس ورلڈ اکنامک فورم ہو یا ترک ورلڈ فورم، چینی حکومت ہو یادہلی میں ہونے والا ورلڈ اکنامک فورم سب اس کو مدعو کرنا اور مہمان بنانے پر فخر کرتے ہیں۔ایسے موضوعات پر عمران خان کو فی البدیہہ بولنے کیلئے بلایا جاتا ہے اور لائیو انٹرویو لیے جاتے ہیں جن پر ہمارے باقی شیررٹے لگاکر بھی نہیں بول سکتے اور  اپنے "وژن ۲۰۱۰" والوں سے مشورہ کرنا پڑتا ہے(سمجھنے والے سمجھ گئے ہوں گے)۔ دوسری بات یہ کہ عمران خان کئی دفعہ واشگاف لفظوں میں کہہ چکے ہیں کہ وہ مغرب خاص کر امریکہ کے عوام کے خلاف نہیں بلکہ ان کی حکومتوں کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ہے۔ اگر یہ بندہ آگیا تو اس میں اتنی صلاحیت اور نیک نیتی ہے کہ وہ متنازعہ مسائل کے حل کیلئے مغربی دنیا کے ساتھ پل بن سکتا ہے۔ اور اگر ترکی اسلام پسند رجب طیب اردگان کے آنے سے "وڑ" نہیں گیا بلکہ الٹا ترقی کی شاہراہ پر دوڑنے لگا ہے تو انشاء اللہ پاکستان کو بھی کچھ نہیں ہوگا۔(اسلئے "انٹیلیکٹ۔چول" حضرات خاطر جمع رکھیں کہ اگر عمران خان آبھی گیا توکے ایف سی پاکستان سے جانے والا نہیں)   
اعتراض نمبر۱۴ : عمران خان اچھا کرکٹر تھا، اچھا خدمت خلق کرنے والا انسان ہے ایماندار بھی ہے لیکن اچھا سیاستدان نہیں بن سکتا کیونکہ  پاکستانی سیاست اس کے بس کا کام نہیں۔
جواب: یہ اعتراض کرنے والےکچھ ایسے حقائق بھول جاتے ہیں جنہوں نے پاکستان کو پچھلے دس سال میں کئی لحاظ سے  ایک  مختلف  ملک بنا دیا ہے۔ ان میں سب سے بڑی چیز ہے "اربن ویلج" کی تشکیل (اس کو گلوبل ویلج کا چھوٹا بھائی سمجھ لیں)۔ پاکستان ایک ایسا ملک بن گیا ہے جو اپنی معاشرتی  تقسیم کے لحاظ سے ستر فیصد دیہی ہے لیکن جس کی ستر فیصد آبادی کے پاس مواصلات کی جدید ترین شہری سہولیات یعنی ٹی وی اور موبائل آگئے ہیں۔  دیہی آبادی اور شہری سہولیات کے اس مرکب نے پاکستان کو ایک بڑا اربن ویلج بنا دیا ہے جس کے شہری اور دیہی عوام کی  معلومات عامہ اور سیاسی شعور تقریباٌ  ایک ہی جیسے ہیں۔یہ اربن ویلج   عمران خان کی بہت بڑی طاقت ثابت ہوگا کیونکہ اسے  ملک کے کونے کونے میں ایسے پڑھے لکھے نوجوان رضاکار میسر ہیں جوبغیر کسی صلے کی تمنا کے اپنے اپنے حلقوں میں تحریک انصاف کیلئے کام کررہے ہیں (اگر دور دراز ترین قبائلی علاقوں  میں ہیں تو ہر جگہ ہوسکتے ہیں)۔فیس بک پر بیٹھےاس  نوجوان کو آپ ایک اکیلا نوجوان نہ سمجھیں بلکہ وہ ایک ایسا رضاکار ہے جو اپنے خاندان اور قریبی دوستوں کے حلقے میں کم از کم بیس تیس افراد کی رائے بدلنے پر قادرہے۔اس نوجوان کے پاس عمران خان کے خلاف ہونے والے ہر پروپیگنڈے کا جواب بھی ہے اور وہ اپنا وقت اور پسینہ (اور شاید خون بھی)عمران خان کیلئے خرچ کرنے پر تیار ہے۔اس کے مقابلے میں روایتی "شرفاء" اور زر والوں کے پاس کیا ہے؟مطلبی  خوش آمدیوں  کے ٹولے جو گلی یا نالی پکی ہونے کے لالچ میں یا قیمے والے نان، بریانی، لیپ ٹاپ، ہینڈ پمپ، بینظیر کارڈ یا پیلی ٹیکسی کےلالچ میں اپنے آقاؤں کی مدح سرائی کرتے ہیں لیکن ذرا برا وقت آئے تو "دوتہائی مینڈیٹ" والوں کو دیار عرب  رخصتی کے وقت دو آنسو بہانے والے بھی نہیں ملتے۔ کیا خیال ہے؟ جذبے اور مفاد کی اس جنگ میں کس کا پلڑا بھاری ہونے کا امکان زیادہ ہے؟ کیونکہ مفادات تو چند گنے چنے لوگوں کے ہی پورے ہوتے ہیں جبکہ اکثریت تو ایسے ہی رہ جاتی ہے تو کیا وہ اکثریت عمران خان کی طرف نہیں آئے گی ؟
اعتراض نمبر ۱۵: عمران خان نوجوانوں کو بے وقوف بنا رہا ہے ۔ اس کا تبدیلی کا نعرہ صرف ایک سراب ہے اور کچھ نہیں کیونکہ اگر وہ اقتدار میں  آبھی گیا تو  اس ملک کو ٹھیک نہیں کرسکتا۔

جواب: لوجی۔آگئی نا بلی تھیلے سے باہر۔ جب سب اعتراضات دم توڑ جائیں تو پھر آخری حربہ رہ جاتا ہے مایوسی پھیلانا۔ بھیا اگر عمران خان اس ملک کو اپنی تمام تر اچھی نیت، نظم وضبط، بے غرضی، شفافیت اور  نوجوان حامیوں کے ولولے اور عزم کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں کرسکتا تو آپ کے "شرفا" اور زرداریوں کے پاس ایسی کون سی گیدڑ سنگھی  آگئی ہے کہ جو کام وہ اپنے پچھلے چار چار ادوار حکومت میں نہیں کرسکے وہ اب کرلیں گے؟ اگر عمران خان نہیں تو کوئی اور بھی کیوں؟ اور اگر کسی  پر اعتماد کرنا ہی ہے  تو عمران خان کیوں نہیں؟  ایک ایسا انسان جس نے کبھی کسی میدان میں قوم کو مایوس نہیں کیا بلکہ جس کام میں ہاتھ ڈالا اس میں پاکستان کو پوری دنیا میں امتیاز اور فخر دلایا۔ کرکٹ ہو، کینسر ہسپتال ہو، نمل یونیورسٹی ہو، سیلاب کے متاثرین کی آباد کاری ہو یا آپریشنوں سے بے گھر ہونے والوں کی خدمت۔ہر میدان میں وہ سرخرو ہوا۔ اب ایسا شخص قوم کی رہنمائی کا اور ملک کو ۶۵ سالہ دلدل سے نکالنے کا عزم کرتا ہے۔ فرشتہ نہیں انسان ہے اس لئے اس کی ذاتی زندگی میں کمزوریاں اور غلطیاں ہیں اور اس امر کا وہ بارہا اعتراف بھی کرتا ہے۔ زبان و بیان میں ہوسکتا ہے کچھ تلخی ہو لیکن اس کی نیک نیتی اور ایمانداری میں کسی کو شک نہیں۔ پیسہ کہ جس کی چمک ہمارے سیاستدانوں کی آنکھیں چندھیا دیتی ہے اس سے وہ بے نیاز ہے۔ بیرونی دباؤ کہ جس کے آگے ہمارے کمانڈو رہنما وردی سمیت ایک فون کال پر ڈھیر ہو جاتے ہیں اس سے وہ متاثر نہیں ہوتا۔ آل اولاد کا فتنہ جس نے ہمارے تمام سیاستدانوں کی اگلی نسل (مثلاٌ مریم نواز، بلاول زرداری، موسی گیلانی، حمزہ شہباز، مونس الہی وغیرہ) کے کارناموں کے متعلق ابھی سے قوم کو خوفزدہ کر دیا ہے، اس پر وہ فریفتہ نہیں۔ اقربا پروری جو کہ ہمارے سیاستدانوں کی رگوں میں رچ بس گئی ہے، وہ اس کا شیوہ نہیں کیونکہ میرٹ پر سمجھوتہ کرتا نہیں چاہے میرٹ کی چھری تلے اپنا فرسٹ کزن ماجد خان  یا انعام اللہ نیازی ہی کیوں نہ آرہا ہو۔۔ قوم کا اس پر اعتماد اتنا کہ اٹھارہ سال سے سالانہ اربوں روپے اسے خدمت خلق کیلئے سونپے جارہی ہے۔ محنتی اور فٹ اتنا کہ ساٹھ سال کی عمر میں بھی صبح سے شام تک انتھک کام اور بغیر رکے گھنٹوں سفر کر سکتا ہے۔ اسد عمر جیسے ماہر معاشیات ، جسٹس وجیہ الدین جیسے قانون دان، فوزیہ قصوری جیسی انتھک محنتی خواتین اور مراد سعید  جیسے نوجوان اس کی ٹیم ہیں۔ اس کی جماعت کا ہی اعزاز ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ انرجی، معیشت، صحت اور دیہی ترقی کی واضح پالیسیاں دی ہیں۔ نوجوان طبقہ (جو کہ ملک کی آبادی کا ۴۷ فیصد بنتا ہے) اس کا نام لیوا ہے اور اس کے ایک اشارے پر وزیرستان جیسے موت کے کنویں میں کود پڑنے پر بھی تیار۔ لسانی، فرقہ وارانہ اور علاقائی تعصب سے پاک ہے اور کسی دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سنی، سندھ کارڈ، پٹھان کرڈ یا جاگ پنجابی جاگ پر یقین نہیں رکھتا۔ ناراض بلوچ رہنماؤں اور نوجوانوں کو منانے کی صلاحیت بھی اسی میں ہے اور قبائلی علاقوں میں لگی آگ کو سرد کرنے کیلئے مذاکرات میں بھی وہی فیصلہ کن حصہ ڈال سکتا ہے۔ لاہور سے کراچی اور کوئٹہ سے چترال اور ٹا نک تک کسی بھی شہر یا قصبے میں بے خوف و خطر عوام کے درمیان بھی وہی جاسکتا ہے اور بیرونی دنیا کے ساتھ پاکستان کیلئے پل بننے کی صلاحیت بھی اسی میں ہے۔۔
واحد پاکستانی لیڈر ہے جس کو بیرونی دنیا میں کرپشن یا سوئس اکاؤنٹس یا بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے نہیں جانا جاتا بلکہ اس کا نام اچھے لفظوں میں لیا جاتا ہے۔ اس کے کہنے پر امریکی اور برطانوی شہری تک بند آنکھوں سے اس وزیرستان میں آنے پرتیار ہو جاتے ہیں جہاں جانے کی آج تک ہمارے اپنے حکمرانوں کو ہمت نہیں ہوئی۔ وہ نہ صدر ہے نہ وزیر نہ سفیر بلکہ چند ماہ پہلے تک پارلیمنٹ میں اس کی ایک سیٹ تک نہیں  تھی لیکن ڈیووس ورلڈ اکنامک فورم سے لے کر ترک ورلڈ فورم تک اور چینی حکومت سے لے کرجرمنوں تک پوری دنیا اسے مہمان بنانے میں فخرمحسوس کرتی ہے۔
کیا نظام بدلے کیلئے کسی لیڈر میں اتنی خصوصیات کافی نہیں؟ کیا اس سے آدھی خصوصیات والا کوئی لیڈر بھی آج ہمیں دستیاب ہے؟
آپ کا جواب ہی میرا جواب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.
The writer is a tribesman from Bajaur Agency (FATA) and tweets at @PTI_FATA .
(No official association with PTI)
.
....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.


Saturday, July 12, 2014

Naji takes Arsalan to the drains - Ay Khuda mere Abbu Salamt Rahein

Source: Daily Dunya
.

.
.
....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.


Saturday, July 5, 2014

North Waziristan IDPs - the Demonized, Disowned & Destroyed Pukhtoons

By: Shah Zalmay Khan
.
I      D      P......... Internally Displaced Person.
What comes to mind when you hear this word? Men, women & kids leaving their homes and moving out to other areas for safety of life? Political leaders appealing to the nation to help their brothers & sisters in distress? TV cameras zooming & panning the faces of elderly and kids in filthy rough clothes churning out their stories - for a ratings game? NGOs appealing to foreign govts for aid? What exactly is your inference when you hear the term?
For me, whoever coined this term clearly had no idea of how lame it sounds (especially in context of wars).
People don't just get displaced; they get demonized / disowned / destroyed.
And who knows it better than us - the Pukhtoon tribesmen from Pakistan's officially designated 'Elaqa-e-Gher' (Others' territory) i.e. FATA.
.
We have seen our homeland (from Bajaur to Waziristan) literally & practically ruined over the past 10-12 years.
And like any other conflict, humans (civilians) have paid the highest price for this war; in man, material and money. Almost 65% of FATA's nearly 7 million population has experienced the misery of leaving their homes & belongings due to this war (most finding their houses/shops bull-dozed upon return). Having gone through the misery myself - my own family had to leave hometown for 6 months during Bajaur operation in 2008 - I feel I can speak with some authority on the subject. Coz I have remained an 'Internally Demonized/Disowned/Destroyed Pukhtoon' myself.
Yes. IDP = 'Internally Demonized/Disowned/Destroyed Pukhtoon'.
No other acronym can explain it better in Pakistan's context. 7 million Pukhtoons from FATA and 4-5 million more from Malakand Division (Swat etc) are a live testimony.
.
The IDPs issue is in the news 'again' these days. This time it is 500,000+ Dawar and Utmanzai Wazir tribesmen of North Waziristan who have been demonized, disowned and destroyed. Talk show anchors are having a ball, shedding crocodile tears over the 'misery of IDPs' (same folks who did most of the warmongering in the past few months). Many media cameras have found their way to Bannu where majority of the NWA IDPs have taken shelter; in schools, in hujras, in rented houses. For the TV channels, these IDPs mean 5-7 minutes of high-rating Khabarnama news space; for some anchors they mean a 'feel good' social opportunity; and for others it is purely a non-issue. Either way, none can understand what it feels like to be an IDP. Never can.
.
Ever wondered what it feels like to be an IDP - in your own country?
That moment when jets (own country's jets) start bombing your village and 'Radio Pakistan' informs you that operation has been started in your area (in the name of the Holy Prophet's sword).
That moment when your local mosque loudspeaker announces that govt has ordered to vacate the area within hours.
Those last few hours when you hurriedly run from room to room in an attempt to pack whatever you deem valuable & worthy of salvaging.
The trembling hands of your ageing father and mother feeling each and every inch of the house that they (or perhaps their parents) built over decades.
The sudden hopeless occurrence that no transport whatsoever is available (or affordable) to cover the 50-60 (or even 100) kilometers distance to the nearest safe town/city.
The feeling of loss when you have to chose between household items and valuables that you can manage to carry and ones that you have to leave behind (knowing well that nothing will be left upon return).
The painful cries of your younger siblings or nephews/nieces at the sudden frenzied activity in the house amidst continuous artillery shelling.
The protesting sobs of the younger ones when you have to give them a shut up call as they keep insisting on taking their favourite pet (chick / bird / cat / dog) along.
That painful choice among which of your household livestock to carry along and which to leave behind - just because you can't manage to take them all with you.
That last look at the lock on the gate of your home when your whole family is waiting for you outside the home, ready to embark upon a journey sans destiny.
The pain of having to carry an ailing father or mother or other family member on your back for miles & miles - for they can't walk themselves.
The agony of that lady in the house who is either pregnant or going through immediate post-natal period and who has to be carried on a charpoy like a dead soul in a coffin.
The sheer humiliation of a purdah-dar woman giving birth to a child during the painful journey - with no semblance of privacy or healthcare around. 
Those blinking eyes of your mother and sisters, when you know the 45°C temperature and walking on foot with belongings on the head is testing their best, but they hide them from you - for the fear of slowing down the journey.
Those 1-3 nights during your journey that you (with your family) spend in the open or in hujras/homes of otherwise unknown people.
That momentary feeling of achievement at end of the painful journey when you reach the last check post on your way out of the conflict zone and about to enter the safe town.
That weird feeling when you have to stand in rows for hours in smelting heat to register yourself as an IDP.
That humiliation you feel when the police or FC walas start Lathi Charge on you and other IDPs who grow impatient at the long wait in queues to get ration like beggars.
That shocking de-Pakistanizing moment when you learn that no province of your own country except PUKHTOONkhwa (or for that matter Afghanistan) is ready to own you.
That feeling of uncertainty about when (and if ever) you will be able to go back to your home, your village, your homeland.
Those prayers from Allah for strength; those curses upon rulers and EVERYBODY responsible for your misery.
The feelings of rage at your own existence, your identity and your COUNTRY; the mental trauma and eternal scars on your personality.
.
Can someone sitting in Islamabad, Lahore, Karachi or even Peshawar feel all this? No. Nobody can feel this. Nobody ever feels this and that is why indiscriminate operations are suggested as the remedy for violence and militancy. Year after year; agency after agency; tehsil after tehsil; this same story of sheer pain and humiliation is repeated and no lessons are learnt from the past.
The same media channels who make hue & cry over Rangers shooting a street criminal in Karachi - go into literal bulldozer mode when it comes to FATA. They demand military operations targeting the whole areas - knowing fully well that militants will sneak out safely and lacs of ordinary Pukhtoon tribesmen will be displaced & destroyed in the process. Collective punishment inflicted upon millions of Pukhtoon tribesmen for the sins of few thousand militants.
(Don't draw any parallels here, please. Israel is the only other country that does this - to Palestinians (their enemies). Pakistan does it to its own 2nd-class citizens though).
BTW can anybody imagine Lahore being indiscriminately bombed over the crimes of few Gullu Butts? or Karachi bombed by jets for the crimes of 'Namaloom Afrad'? or the houses of whole population of Faisalabad/Bahawalpur destroyed due to crimes of some LeJ terrorists who attacked GHQ?
Forgive me the spate of anger & drawing parallels. Off-course there is a difference between PAKISTAN and 'Elaqa-e-Gher'. Coming back to the point.
An average tribesman (even a poor one) suffers losses of at least a million rupees (house + furniture + household items + livestock + farming or businesses). And what do they get in return/compensation?
12000 per month as 'Ehsaan' from rulers like the Sharifs (who would gladly spend 40+ billion on a metro in the 'Land Of Five Rivers'). Not even enough to pay for the rented accommodation in most cases.
.
Is there an end to this? Will the fate of NWA IDPs be the same as those from SWA etc? Remember 300,000+ Mehsud IDPs from SWA are still displaced & not allowed to return to their native areas, even after 5 years of Operation Raah-e-Nijat (2009). Thousands of IDPs from Bara, Tirah, Orakzai, Bajaur and Mohmand have yet to return to their homeland despite lapse of 5-6 years. Will the NWA IDPs meet the same fate? Media will forget them after a few weeks; international and national aid agencies will forget them next and they will stand DESTROYED?
True the federal govt has announced some 'peanuts' for the IDPs. True that PTI's KP govt is trying to help the IDPs within available resources (despite a cold shoulder by federal govt on KP's demands for IDP funds). True that Imran Khan Foundation and many other organizations are trying to help. But is that enough? No it is not.
This has to change now. If Pakistan has to see peace, all this has to change now. And when it comes to CHANGE, our eyes surely look in the direction of the person Pukhtoons trusted with their vote. Yes I refer to Imran Khan.
.
Dear Imran Khan:
We request you to redefine the agenda of your 14th August Long March. Kindly add the issue of resettlement/return of Pukhtoon tribal IDPs (especially NWA IDPs) to your agenda.
Please demand the federal govt to announce a cut-off date for the return of all IDPs (all FATA agencies) to their homes. Operations can't be allowed to prolong arbitrarily forever. There has to be some sort of a cut-off date. If the govt doesn't address the issue, announce the inclusion of ALL tribal IDPs in your long march on Islamabad. You plan to march on Islamabad with one million? How about including a million IDPs to it? All IDPs towards Islamabad.
The IDPs have been displaced from their homes due to policies / war of federal govt. And since Islamabad is the seat of federal govt, what better occasion than this to force the govt into acting to address the IDPs woes?
As far as the IDPs are concerned, they are already displaced from their homes. They would prefer staying for a few days in the better environment of Islamabad, than in the muddy Bannu or Jalozai. After all Pukhtoon tribesmen are also Pakistanis and they have all the right to live in Islamabad (until federal govt doesn't ensure their safe return to home towns).
Dear Imran Khan:
You can do it. Only you can do it. Otherwise a generation of tribesmen that is growing up as IDPs, will become Pakistan's worst nightmare because they have no school, no health, no skills, no jobs, no hope and perhaps no love for Pakistan.
The only sentiments these Pukhtoon tribal kids are growing up with are HUMILIATION, HAPLESSNESS, HATE and REVENGE.
Dear Pakistan: Buy yourself peace by taking care of these IDPs and ensuring their safe & timely return. Otherwise, how difficult it is for someone to lure tribal kids like this one into becoming suicide bombers? >>>>>>>>>
I rest my case.
.
Tail piece: Just found this poem on the IDPs issue somewhere. Don't read it - feel it.
.
.
.
The writer is a tribesman from Bajaur Agency (FATA) and tweets at @PTI_FATA .
(No official association with PTI)
.
....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.