Tuesday, August 16, 2011

Feedback


....................
With Regards,
"PTI-FATA Volunteers" Team.


1 comment:

  1. میرا نام داؤدشاہ سیلاب ھے۔ باجوڑ کے حلقہ این اے44 سے تعلق رکھتا ہوں۔پی ٹی آئ باجوڑ کے سینئر رھنماؤں میں سے ھوں۔
    میں جب میں پی ٹی آئ جوائن کر رھا تھا اس وقت باجوڑ میں پی ٹی آئ کا کوئ خاص مزہ نہیں تھا۔
    اور جب میں نے پی ٹی آئ جوائن کی تب باجوڑ میں پی ٹی آئ کے 14 لوگ کام کر رھے تھے۔
    جن میں ڈاکٹر خلیل الرحمان اس وقت پی ٹی آئ باجوڑ کے صدر تھے۔
    میں نے شروع سے پی ٹی آئ کیلۓاتنا مظبوط کام شروع کیا کہ مخالفین حیران رہ گۓ۔
    شروع سے میں نے گاؤں کے سطح پر کومیٹیاں بناۓ اور بعد میں شمولیتی پروگرامز شروع کۓ۔
    اور آخر کار ھمارے محنت رنگ لے اۓ وقت کیساتھ ساتھ تحریک انصاف لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے لگی۔
    اور الحمد الّلہ آج تحریک انصاف باجوڑ کے دونوں حلقوں سے جیتنے کے پوزیشن میں ہے۔
    میں دعوی سے کہتا ہوں کہ اگر پی ٹی آئ کو اچھا امیدوار ملا تو ھماری جیت دونوں حلقوں سے یقینی ھیں۔
    فی الحال این ای44 میں چھ سات لوگ اپنے آپ کو امیدوار تصور کرتے ہے جنھوں نے لاھور جلسے کے بعد پی ٹی آئ میں شمولیت اختیار کی۔
    ان سب میں جو مجھے سب سے زیادہ سینئر،مخلص اور باجوڑ کے کارکنان کے پسند ہے وہ فضل حمید ھے۔
    جنھوں نے میرا ساتھ دیکر تحریک کو باجوڑ میں اسی مقام تک پھنچایا۔جس کے ثبوت باجوڑ کے میڈیا کے پاس موجود ھے۔
    میں تحریک انصاف سے نو دس سالہ سیاسی وابستگی اور اپنے تجربےبنیاد پر کہتا ھوں
    کہ اگر پی ٹی آئ کو حلقہ این اے 44 سے سیٹ کنفرم حاصل کرنی ہے تو فضل حمید کے علاوہ ھمارے پاس کوئ اور بھتر آپشن نھیں ھے۔
    کیونکہ وہ ایک اعلی تعلیم یافت، اصول پسند، ایماندار اور باجوڑ ایجنسی کے عوام کی خدمت کرنے والہ نوجوان لیڈر ھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمران خان اور تحریک انصاف کا خیر خواہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    داؤدشاہ سیلاب سابقہ ارگنائزر تحصیل خار و بانی ممبر تحریک انصافباجوڑ ایجنسی

    ReplyDelete