Sunday, April 29, 2012

Imran Khan interview with BBC Urdu - Sairbeen (29 April 2012) - Imran Khan calls the coming elections a "Do or Die" situation for Pakistan

Imran Khan interview in "Talking Point" program of BBC Urdu Service - Sairbeen (29 April 2012)
’آئندہ انتخاب ملک کے لیے زندگی اور موت کا انتخاب ہے‘
آخری وقت اشاعت: اتوار 29 اپريل 2012 ,‭ 16:17 GMT 21:17 PST


پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سامعین کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئندہ انتخاب اس ملک کے لیے زندگی اور موت کا انتخاب ہے اور اگر کسی نے رکاوٹ ڈالنے یا دھاندلی کی کوشش کی تو تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی سونامی لے کر آئے گی۔
اس سوال پر کہ کیا وہ پاکستان کے مسائل کو کچھ زیادہ ہی آسان شکل میں بیان نہیں کر رہے عمران خان نے کہا کہ ایسا نہیں اور ’پاکستان آج جہاں کھڑا ہے وہاں سے نکلنے کا حل آسان نہیں ہے اور اگر اسے موجودہ حالات سے نکالنا
ہے تو مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک چیز ہے کہ جو اگر ٹھیک کر دی جائے تو مشکلات سے تیزی سے نکل کر ترقی کی جا سکتی ہے اور وہ ہے کرپشن‘۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ساڑھے چار سال میں پاکستان میں ساڑھے آٹھ ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوئی اور اگر یہی پیسہ بچا لیں تو غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانا نہیں پڑے گا۔
پروگرام کے آغاز پر مردان کے محمد اکرام خان کے اس سوال پر کہ شہرت ملنے پر کہیں وہ کنفیوز تو نہیں ہوگئے، عمران خان نے کہا کہ پہلی مرتبہ ان سے کوئی ایسا سوال کیا گیا ہے اور شاید ہی کوئی ایسا پاکستانی ہو جسے ان جتنی اتنی شہرت ملی ہو اور انہوں نے زمانے کی اونچ نیچ دونوں دیکھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ برے وقت سے مایوس نہیں ہوتے بلکہ اس سے سیکھتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ شاید ہی پاکستان میں کسی نے ایسی سیاست کی ہو کہ اسے موقع بھی ملا ہو اور وہ حکومت سے باہر رہنے کو ترجیح دے۔
کوئٹہ سے ڈاکٹر نتاشا نے سوال کیا کہ عمران خان حقیقت میں ہے کون؟ کیا وہ ایک رجعت پسند ہے، یا روشن خیال، وہ دائیں بازو کا حامی ہے یا بائیں بازو گا؟
جواباً عمران خان نے کہا کہ ’میں تو علامہ اقبال کا مرید ہوں اور وہ میرے نظریاتی ماڈل ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال مذہب کے معاملے میں دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے تو عام آدمی کے لیے ان کے خیالات بائیں بازو سے متاثر تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی پالیسی کے لیے اگر ان کے نظریات بائیں بازو کی طرف مائل ہیں اور وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہیں تو وہیں وہ اللہ پر بھی مضبوط ایمان رکھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اللہ جسے نوازتا ہے اس پر اتنی ہی ذمہ داری بھی زیادہ ڈال دیتا ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے عمران وزیر کے اس سوال پر کہ فاٹا میں ان کا سونامی کب پہنچے گا عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ابھی انہیں فاٹا جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی لیکن وہ جانتے ہیں کہ وہاں کے عوام تباہ ہو چکے ہیں اور ان کی جو حالت ہے اس کا ادراک نہ دنیا میں کسی کو ہے اور نہ ہی پاکستان میں لوگ اصل صورتحال کے بارے میں جانتے ہیں۔
اس سوال پر کہ وہ ڈرون حملوں کے خلاف بیانات، مظاہرے اور دھرنے تو دیتے ہیں لیکن اگر انہیں حکومت ملی تو وہ انہیں کیسے رکوائیں گے، عمران خان نے کہا کہ دنیا میں مثال نہیں ملتی کہ کہیں بھی آپ کا اتحادی آپ پر ہی بم گرا رہا ہو اور یہ حملے حکومت کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے جاری ہیں اور کوئی بھی خودمختار حکومت چاہے تو یہ حملے رک سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ سے لڑائی مول نہیں لینا چاہتے لیکن ہم ان کے غلام بھی نہیں۔ ہم انہیں دلیلوں سے سمجھائیں گے کہ یہ حملے خود ان کے لیے نقصاندہ ہیں اور ان سے صرف نفرت بڑھ رہی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ نہ مانے تو ہم ان سے تعاون کا عمل ختم کر دیں گے، اقوامِ متحدہ میں جائیں گے‘۔
نئی دلی سے فہد عارف کے بھارت سے تعلقات کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کو ایک نئی سوچ لانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ’ جو میں بڑا ہو رہا تھا تو بہت نفرت تھی لیکن اب نئی نسل ہے اور دنیا آگے بڑھ گئی ہے۔ اس لیے پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے کہ نئی سوچ کے ساتھ بات کریں‘۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ کشمیر کا مسئلہ ایک حقیقت ہے اور اس کا سیاسی حل ہی نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو ’بیک برنر‘ پر رکھنے سے کام نہیں چلے گا اور دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ تعلقات بڑھائیں، آپس میں تجارت کریں لیکن ساتھ ساتھ اس معاملے کو بھی لے کر چلیں۔
....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.



No comments:

Post a Comment