Saturday, April 7, 2012

Pray for them: Avalanche traps over 130 Pakistani soldiers in Siachen

Please pray for the safety and speedy rescue/recovery of all the sons of Pakistan trapped in Siachen.
News report Courtesy: Express Tribune / BBC Urdu (7th April 2012)
Avalanche traps over 130 Pakistani soldiers: Report

Rescue teams headed to scene: army spokesman. PHOTO: FILE
ISLAMABAD: The official toll of buried Pakistani soldiers has gone up to 130 in the avalanche near the Siachen glacier on the border with India on Saturday,   official sources said.
“The numberof buried soldiers could be nearly 130,” official sources in Gilgit told The Express Tribune.
According to sources, heavy machinery has been sent from Rawalpindi for rescue work.
Army helicopters have been sent to the site to search/ rescue the buried soldiers, one of them a colonel heading them.
“At six o’clock this morning this avalanche hit (military) headquarters. Over 100 soldiers and personnel are trapped,” said the spokesman, Major-General Athar Abbas earlier, adding that rescue teams were headed to the scene.
He said the army would comment later on whether there were any casualties.



سیاچن: ایک سو فوجی اہلکار برف تلے دب گئے

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

فوجی حکام کے مطابق برفانی تودہ گرنے کا واقعہ سیاچن گلیشیئر کے گلیاری 
سیکٹر میں پیش آیا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ تودے تلے دبے چند فوجی اہلکاروں کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔
پاکستانی فوج کے مطابق ہیلی کاپٹروں، فوجی اہلکاروں اور کھوجی کتوں کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برف تلے دبی فوجی اہلکاروں کی لاشوں کو نکالنے کا عمل شروع ہو گیا ہے تاہم فوجی ترجمان کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں ابھی نہیں بتایا جا سکتا ہے۔
فوجی ترجمان کے مطابق سنیچر کی صبح ایک بٹالین ہیڈ کوارٹر برفانی تودے کی زد میں آ گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک سو کے قریب فوجی اہلکار برف تلے دب گئے ہیں۔
فوجی ترجمان کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ان میں ہیلی کاپٹرز اور کھوجی کتوں سے مدد لی جا رہی ہے اور پہلی ترجیح اہلکاروں کی جانوں کو بچانا ہے۔
عسکری ذرائع کے مطابق راولپنڈی سے ہیوی مشنری ہیلی کاپڑ کے ذریعے گیاری سیکٹر میں بھیجی جا رہی ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ انجینیئرنگ اور میڈیکل شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی امدادی سرگرمیوں میں حصلہ لینے کے لیے روانہ کردیا گیا ہے۔
مقامی صحافی قاسم حسین بٹ کے مطابق برفانی تودہ گرنے کا واقعہ گلگت بلتسان کے ضلع گھانچے سے ایک سو کلو میٹر کی مسافت پیش آیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پچاس کلومیٹر تک تو سڑک موجود ہے جبکہ اس کے بعد چھوٹے ٹرکوں کے ذریعے سامان کی نقل و حرکت ہوتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ علاقے میں خراب موسم کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ علاقے میں گہرے بادل بھی ہیں اور بارش کا بھی امکان موجود ہے۔
مقامی صحافی وزیر مظفر حیسن کے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خراب موسم کی وجہ سے امدای کارکنوں کو جائے وقوعہ پر اُتارنے کی بجائے کہیں اور جگہ اُتار دیا گیا ہے جہاں سے اُنہیں ٹرکوں اور دیگر آمدو رفت کے ذرائع سے اُنہیں جائے حادثہ پہنچایا جا رہا ہے۔ مقامی صحافی کے مطابق سیاچن کے قریبی سیکٹروں سے بھی فوجیوں کو جائے حادثہ پر پہنچایا جا رہا ہے تاکہ امدای کاموں میں تیزی لائی جا سکے۔
سیاچن گلیشئر متنازع کشمیر کے علاقے میں پاکستان اور بھارت کی سرحد پر واقع ہے۔
سیاچن گلیشیئر کو دنیا کے اونچے ترین جنگ کے میدان سے بھی جانا جاتا ہے۔

....................

We Hope You find the info useful. Keep visiting this blog and remember to leave your feedback / comments / suggestions / requests / corrections.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA" Team.



No comments:

Post a Comment