Thursday, November 21, 2013

PTI wants Shahadat in KPK?


تحریک انصاف اور پختونخوا میں سیاسی شہادت؟
عمران خان کے پی کے میں سیاسی شہادت چاہتے ہیں۔
 سوال: کیوں بھئی؟ بھلاکیوں شہادت چاہتے ہیں عمران خان کے پی کے میں؟
جواب : وہ جی ان سے حکومت نہیں چل رہی اور ناکام ہوگئی اس لئے چھوڑنا چاہتے ہیں حکومت۔
سوال: بھئی کس چیز میں ناکام ہوگئی ہے۔ کوئی مثال تو دیں ۔
جواب : بس حکومت نہیں چل رہی ان سے۔ اب جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ وعدے پورے نہیں کرسکے۔
سوال:  کون سے وعدے پورے نہیں کرسکے جناب؟ ہمارے علم میں بھی اضافہ کریں۔
جواب: یاراب میں آپ کو کیا بتاؤں لیکن اصل میں  ان سے حکومت نہیں چل رہی۔ اب چھوڑنا چاہتے ہیں۔
یہ بحث شیطان کی آنت جتنی لمبی بھی ہوجائے تب بھی آپ کو اس سوال کا جواب نہیں ملے گا  کہ آخر کیوں تحریک انصاف شہادت چاہتی ہے لیکن یہ جملہ کسی خراب ریکارڈپلئیر کے پھنسے ہوئےریکارڈکی طرح بار بارسنائی ضرور دے گا۔ 
خیبر پختونخوا سےنیٹو سپلائی بند کرنے کا فیصلہ۔۔۔۔عمران خان کے پی کے میں سیاسی شہادت چاہتے ہیں۔
 کرپٹ وزیروں کی پختونخوا حکومت سے  چھٹی۔۔۔عمران خان کے پی کے میں سیاسی شہادت چاہتے ہیں۔
درجنوں کرپٹ افسران کے خلاف تحقیقات۔۔۔۔۔عمران خان کے پی کے میں سیاسی شہادت چاہتے ہیں۔

 ہر وقت ٹی وی ، اخباروں اور سیاسی محفلوں میں اس جملے کی تکرار جاری رہتی ہے۔ مضحکہ خیز صورتحال تب بنتی ہے جب بزعم خود پختونخوا کے معاملا ت کے ایکسپرٹ جناب سلیم صافی،حکومتی بنچوں کے دائمی مکین اور اصولی سیاست کے روح رواں جناب  مولانا فضل الرحمٰن، نون لیگ کے عابد شیر علی اور رانا ثناء اللہ جیسے مفکرین، پیپلز پارٹی کی گڈ گورننس کی زندہ مثال قمر زمان کائرہ اور رحمان ملک، اے این پی کی اینٹی ایزی لوڈحکومت کے ما ما جی  بلور و افتخار اور بے بے جی بشریٰ گوہر، عمران خان کی  چھری سے تازہ تازہ ذبح ہونے والے سکندر شیرپاؤ اور ٹوئٹر پر بیٹھے عمران خان سے خدا واسطے (یا ڈالر واسطے) کا بیر رکھنے والے نام نہاد دیسی لبرل حضرات یہ بات  بیان فرماتے ہیں۔

 سب سے زیادہ ہنسی تب آتی ہے جب یہ لوگ فرماتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نابالغوں اور ناتجربہ کاروں کی حکومت ہے ان کو حکومت چلانے کی سمجھ نہیں۔ خدا کے بندو اگر بلوغت اور تجربہ انہی کرتوتوں کا نام ہے جو اے این پی، جے یو آئی، پیپلز پارٹی اور نون لیگ انجام دیتے رہے ہیں تو ایسی بلوغت اور تجربہ سے ہماری دس نسلوں کی توبہ۔ آپ کا تجربہ صرف اور صرف تباہی اور بربادی کا ہے، آبادی کا نہیں۔
 ابھی تو الیکشن  کے بعدحکومت کوبنےصرف پانچ مہینے ہوئے ہیں اورتحریک انصاف کی حکومت اپنے اہداف کی طرف سیدھے راستے پر گامزن ہے (دیر سویر ہوسکتی ہے لیکن سمت ٹھیک ہے)۔ظاہر ہے بہتری کی گنجائش تو موجود ہے اور اس کیلئے پانچ سال کا عرصہ پڑا ہے لیکن کون سا ایسا شعبہ ہے جس میں صوبے میں آج سے پانچ ماہ پہلے کے مقابلے میں بہتری نہیں  نظرآرہی؟
۔
کرپشن کے خلاف جنگ:۔
تحریک انصاف کا سب سے بڑا مشن سرکاری اورحکومتی سطح پر کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ ہے۔اس مقصد میں خلوص کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنی حکومت کو داؤ پرلگاکرتحریک انصاف نے قومی وطن پارٹی  کے دو وزراء کو کرپشن کے الزامات پر برطرف کردیا۔
 ساتھ ہی اپنے وزراء اور مشیروں کی تمام کارگزاریوں کی انکوائری جاری ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں کی تعداد میں کرپٹ سرکاری افسران کےخلاف بھی انکوائریاں تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
 اس مقصد کیلئے احتساب بل پختونخوا اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے جس کی رو سےایک خودمختار اور بااختیاراحتساب کمیشن بنایا جائے گا جو صوبے میں ہرقسم کی کرپشن کے احتساب کا مجاز ہوگا۔
 اس کے علاوہ سرکاری محکموں میں شفافیت لانے کیلئے رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون منظور کیا گیا جس کے تحت کوئی بھی شہری کسی بھی سرکاری ٹھیکے یا  پراجیکٹ کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتا ہے۔
 آن لائن ایف آئی آر اور پولیس افسران کے اثاثوں کی تفاصیل جمع کرنے جیسے اقدامات سےپولیس کے محکمے کا امیج بہتر کرنے میں مدد مل رہی ہے۔پٹواریوں کی سرگرمیوں اور انتقال وغیرہ کے معاملات کی براہ راست ضلعی سطح پر نگرانی سے پٹوارخانوں میں لوٹ مار کے راج میں کافی کمی آئی ہے۔ پٹواری اور تھانے کے نظام میں بہتری کی گواہیاں تو مخالفین تک دیتے ہیں (شاہ زیب خانزادہ اور ابصار عالم نے کاشف عباسی کے ایک پروگرام میں پیپلز پارٹی پختونخوا کے ایک سینئر لیڈرکا باقاعدہ حوالہ دیا جو اسبہتری کے معترف ہیں)۔
تعلیم:۔
تعلیم کے شعبے میں باقاعدہ داخلہ مہم چلا کر لاکھوں بچوں کےسکولوں میں داخلے ممکن بنائےگئے۔ اس کے علاوہ صوبائی یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کیلئے بجٹ میں مختص رقوم میں بیس پچیس فیصد اضافہ کیا گیا۔ غریب طلباء کیلئے ہر سطح پر سکالرشپس کا اجراء اور گریجویٹس کیلئے انٹرن شپ  سکیم جیسے اقدامات اٹھائے گئے۔ اسی طرح اساتذہ کے تقرر و تبادلوں میں سیاسی مداخلت بہت حد تک ختم کردی گئی ہے۔
 صوبائی حکومت سرکاری سکولوں کو اچھے پرائیوٹ سکولوں کے معیار پر لانے کیلئے ایک طویل المدت پلان پرعمل کررہی ہےتاکہ سرکاری سکولوں کے بچے بھی دنیا کے قدم سے قدم ملاکرچل سکیں اور انگریزی زبان میں کمزوری کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائیں۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو براہ راست اپنی مرضی کے کسی سرکاری سکول کا انتظام سنبھالنے کی آفر کا پلان بنایا جارہا ہےجس سے ڈھائی ہزار کے قریب سرکاری سکول ماڈل بن سکیں گے۔اخراجات بیرون ملک پاکستانی اٹھائیں گے۔ 
صحت عامہ:۔
صحت کے شعبے میں صوبے کے تمام بڑے تدریسی ہسپتالوں کیلئے اچھی شہرت کے حامل صحافیوں، ڈاکٹروں ، اساتذہ اوردوسرے ممتاز شہریوں پر مشتمل خود مختار انتظامی بورڈبنائے گئے ہیں جس سے ہسپتالوں میں علاج اورمتعلقہ سہولتوں میں بہت بہتری نظر آرہی ہے۔ اسی طرح سرکاری ہسپتالوں میں کرپشن اور بدانتظامی کے خاتمے کیلئے سخت اقدامات کئے گئےہیں اور ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے تقرر و تبادلوں میں سیاسی مداخلت کم ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی ایمرجنسی میں مفت دواؤں اورٹیسٹوں سے بھی عوام کوسہولت ملی ہے۔
بلدیاتی نظام:۔
جمہوریت کی اصل روح کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کیلئے بہترین  بلدیاتی  نظام بنایاگیا ہے جس کی بنیاد ویلج کونسل کے تصور پررکھی گئی ہے۔ مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں کیلئے تمام فنڈز ان بلدیاتی اداروں کوملیں گے تاکہ مقامی ضرورتیں بہتر انداز میں پوری ہوسکیں۔
انصاف کی فراہمی:۔

عدالتی نظام کی بہتری کیلئے اصلاحات لائی جارہی ہیں ۔ ساتھ ہی سستے انصاف کی فراہمی کیلئے موبائل عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے اصل معنوں میں عوام کو ان کے دروازے پر انصاف کی فراہمی کا عمل  شروع ہوا ہے اور سالوں سے لٹکے ہوئے مقدمات کا فوری فیصلہ ہوجاتا ہے۔
سماجی اور عوامی خدمات:۔
سماجی اور عوامی خدمت کے شعبے میں بھی بے شمار اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ایمرجنسی میں مددکیلئے ریسکیو ۱۱۲۲ کی بہترین سروس کا آغاز کیا گیا ہے ۔ پورے صوبے میں صفائی کا مہینہ منا کر باقاعدہ صفائی مہم چلائی گئی جس میں عوامی حلقوں اور تحریک انصاف کے نوجوانوں نے بھرپور حصہ لیا۔ اس کے علاوہ تمام شہروں اور قصبوں میں میونسپل کمیٹیوں کے وہ ملازمین جو ایم این اے یا ایم پی اے کے حجروں پر متعین ہوتے تھے، اب وہ سب واپس اپنے کام پر لگادیے گئے ہیں جس سے صفائی ستھرائی کے نظام میں کافی بہتری محسوس کی جارہی ہے (اگرچہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے)۔
معیشت، توانائی اور روزگار:۔
صوبے کی  معاشی حالت سدھارنے  اور سرمایہ کاری  میں اضافے کیلئے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں۔خصوصاٌ صوبے میں بجلی کی پیداوارکیلئے مختلف کمپنیوں سے معاہدے ہوئے ہیں۔صوابی موٹروےانٹرچینج کے قریب اورایبٹ آباد میں دونئےشہروں کی تعمیر کے منصوبے پر ابتدائی کام جاری ہے۔ اسی طرح پشاور میں ٹریفک کا مسلہ حل کرنے کیلئے میٹرو ٹرین کا منصوبہ ترتیب دیاجارہاہے۔ان سب منصوبوں میں وسیع غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے جس سے صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کا پہیہ چلے گا۔

دہشت گردی، بدامنی اور ڈرون حملے:۔

سب سے سنگین مسلہ جو پختونخوا کو اس وقت درپیش ہے وہ دہشت گردی اور بد امنی کا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس دہشت گردی کا اصل سرچشمہ یعنی ڈرون حملے اور تحریک طالبان کے ٹھکانے یہ سب پختونخوا کی حدود سے باہر وفاقی حکومت کے زیر انتظام فاٹا میں ہیں لیکن ان کا سارا نزلہ بم دھماکوں اور دہشت گرد حملوں کی صورت میں پختونخوا پر گرتا ہے۔اس سارے معاملے کی چابی اگرچہ اسلام آباد کے پاس ہے لیکن پھر بھی عمران خان نے اس مسلے کے حل کیلئے اپنی بساط سے بھی بڑھ کر کوششیں کی ہیں۔
 اب جبکہ واضح ہوگیا ہے کہ وفاقی حکومت ڈرون حملے رکوانے میں سنجیدہ نہیں ہے جس کا لازمی نتیجہ پختونخوا میں مزید خون خرابے کی صورت میں نکلے گا تو اس لئے عمران خان نے پختونخوا میں تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے کارکنوں کے ذریعے نیٹو سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے (اگرچہ میری ذاتی رائے میں کوئی بھی صوبہ اس قسم کا قانونی اختیار نہیں رکھتا)۔ اس دہشت گردی کے مسلے اور ڈرون حملے رکوانے کیلئے عمران خان ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے عمران خان کی تجویزکردہ  تربیت یافتہ "کاؤنٹر ٹیررزم فورس" کے ابتدائی یونٹ نے پشاور سے کام کا آغاز کردیا ہے۔یہ فورس  ۲۴۰۰ نفری پر مشتمل ہوگی اور جلد ہی اس کا دائرہ تمام سات ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک پھیلایاجائے گا۔ 
یہ سب اقدامات کافی نہیں ہیں اور ابھی عمران خان کے کئی وعدے مکمل طور پر نتیجے تک پہنچنا باقی ہیں لیکن اس کیلئے پختونوں نے تحریک انصاف کو پانچ مہینے نہیں پانچ سال دیے ہیں۔ سمت ٹھیک ہے اور عزم جواں تو کوئی وجہ نہیں کہ پانچ سال میں "نیا خیبر پختونخوا" نہ بنے۔
 یہ ہے تحریک انصاف کی پچھلے پانچ مہینے کی کارکردگی ۔ اس سب کو دیکھتے ہوئے بھلا تحریک انصاف کیوں شہادت چاہے گی؟ جب پیپلز پارٹی  اور اے این پی کی بدترین حکومتیں جنہوں نے کرپشن اور ایزی لوڈ کے ریکارڈ قائم کئے وہ اپنی حکومت کے پانچویں سال کے آخری مہینے کے آخری ہفتے کے آخری دن تک اقتدار سے چمٹی رہیں اور شہادت قبول نہیں کی (بلکہ سولہ مارچ۲۰۱۳ کوحکومت کے آخری  دن چھٹی ہونے کے باوجود دفاتر کھلے رکھ کرلوٹ مار کی آخری سانس انجوائے کرتے رہے) تو بھلا تحریک انصاف نے ایسا کیا کیا ہے کہ اسے حکومت کے آخری نہیں بلکہ پہلے ہی سال میں سیاسی شہادت کی طلب ہو؟ اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت تیسری دفعہ اقتدار میں آنے کے باوجود پانچ مہینے میں عوام کا مہنگائی اور کرپشن سے ناطقہ بندکرنے پر بھی شہادت کی طلبگار نہیں تو بھلا تحریک انصاف کیوں ہوگی جس کا حکومت کا یہ پہلا تجربہ ہے ۔ پھر بھی اگرکسی پارٹی کو اپنی بدترین کارکردگی چھپانے کیلئے   شہادت چاہئیے بھی ہو تووہ اپنی حکومت کے آخری سال میں الیکشن سے چار پانچ مہینے پہلے شہادت کی کوشش کرتے ہیں، حکومت کے پہلے ہی سال میں نہیں۔
 اب جو لوگ اس کے باوجود یہ وظیفہ دہراتے ہیں  یا تو ان کی نظر میں کوئی فرق ہے یا دماغ میں کوئی فتور ہے یا ان کے دلوں میں حسد اور غصے کی آگ بڑھک رہی ہے اور یا پھر اس قسم کی باتوں سے وہ صرف تحریک انصاف کے نوجوان سپورٹرز کو کنفیوژ کرنا چاہتے ہیں (اور اس میں  شایدکامیاب بھی رہتے ہیں)۔ ورنہ کوئی ذی ہوش انسان جس کو خیبر پختونخوا کے زمینی حقائق کا ذرا سا بھی اندازہ ہو تووہ اس"شہادت" تھیوری پریقین نہیں کرسکتا۔
پس تحریر: حیرت  تحریک انصاف کے ان مٹی کے مادھوؤں پر ہوتی ہے (اور غصہ بھی آتا ہے) جو ٹی وی پر بیٹھ کر ان مخالفین کی "شہادت" کی راگنی سنتے ہیں  اور کوئی مناسب جواب ان سے نہیں بن پاتا۔
.
The writer is a tribesman from Bajaur Agency (FATA) and tweets at @PTI_FATA .
(No official association with PTI)
.
....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.


2 comments:

  1. Excellent Shah Sb appreciated.. Yes agree these thugs only wants to create anarchy with their malicious propaganda to down grade PTI performance & target its emerging support & confuse its young supporters.. Basically they are in extreme fear of PTI performance and thinking if PTI should have completed these 05 years which they should, then their politics based on hypocrisy corruption & easyload will be vanished for ever so they are crying day & night and by the way they can do because they are knocked out of KPK politics & this is the only job in their hand to blackmail,troll & create anarchy regardless they were corruption to the worst with bad governance nepotism & easy loaded dramas thats why they were rejected by the people with their political slogan which is based on lies,propaganda,blackmailing & flood of corruption & ill means.. ... So it is obvious they are envious whether it is Molana or easyload both have lost all kind forms of credibility either religious vote or liberal vote... So let them troll & we need to put an ideal & competent spokesperson from KPK to send solid replies to these bashers & hypocrite with reasoning, logic & proof.... We are also lacking in response somewhere that needs immediate attention to improve as media war should not be taken lightly..... Insafians are truimng their best to stop & arigue with these critics & bashers but you know ultimately they are being blocked when bashers stuck to respond... So better KPK govt should take this challenge without any more delay or exception plz..!

    ReplyDelete