Friday, December 6, 2013

NATO supplies & IK-bashers: busting the lies & triangulations

نیٹو سپلائی، ڈالر،پاکستان اور طوائف کا کوٹھا؟
.
تاریخ کے دو اسباق ہیں۔ پہلا سبق یہ کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور دوسرا یہ  کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔
 مجھے یہ جملہ کیوں لکھنا پڑا؟ اس کیلئے قرآن مجید  میں بیان کیا گیا بنی اسرائیل کی گائے کا واقعہ  یاد دلانابڑا اہم ہے۔ اللہ تعالی یہ واقعہ سورۃ  بقرہ میں  بیان فرماتے ہیں کہ  بنی اسرائیل  میں  سے ایک شخص قتل ہوگیا لیکن قاتل نامعلوم تھا۔ قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے رہنمائی کی درخواست کی۔موسیٰ علیہ اسلام نے اللہ سے رجوع کیا تو اللہ کا فرمان آیا کہ بنی اسرائیل ایک گائے ذبح کریں اور اس کے گوشت کاا یک ٹکڑا مقتول کے جسم سے مس کیا جائے تو وہ قاتل کا نام بتا دے گا۔بنی اسرائیل نے یہ حکم سن کر سوال کیا کہ کن خصوصیات والی گائے ذبح کریں؟ اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کے ذریعے حکم دیا کہ گائے نہ بہت زیادہ کم عمر ہونہ بوڑھی ہو بلکہ متوسط ہو۔بنی اسرائیل نے پھر سوال کیا کہ گائے کا رنگ کیا ہونا چائیے؟ اللہ کا حکم آیا کہ  زرد خوش رنگ گائے ہونی چاہئیے۔بنی اسرائیل نے پھر پوچھا کہ گائے میں اور کیا کیا خصوصیات ہونی چاہئیں؟ اللہ کا حکم آیا کہ گائے ایسی ہو جس سے کبھی ہل چلانے یا رہٹ کے ذریعے پانی نکالنے کا کام نہ لیا گیا ہو اور نہ اس میں کوئی بیماری یا کوئی ظاہری عیب ہو۔بنی اسرائیل کو ان تمام خصوصیات والی گائے کیلئے مارے مارے پھرنا پڑا اور بڑی مشکل سے ایک ایسی گائے ملی جو ان سب شرائط پر پوری اترتی تھی لیکن اس کیلئے انہیں کافی بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔یوں بنی اسرائیل نے بلاوجہ کی کج بحثی کی وجہ سےایک سادہ معاملے کو مشکل بنالیا۔ اگر پہلی بار کہنے پر ہی کوئی بھی ایک گائے پکڑ کر ذبح کرلیتے تو خوار نہ ہونا پڑتا۔
.
آج کل ٹی وی، اخبار اور گلی محلوں میں نیٹو سپلائی  کی بندش کے بارے میں ہونے والی باتیں سن کر بڑی شدت سے بنی اسرائیل کی اس گائے کا واقعہ یاد آتا ہے۔ جب سے عمران خان  کی زیر قیادت تحریک انصاف کے کارکنوں نے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجاٌ  خیبر پختونخوا سے نیٹو سپلائی بند کی ہے تب سےایک عجیب ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ بزعم خود عقل کل بننے والے صحافی اور اینکر حضرات دن رات نئی سے نئی نکتہ آفرینیوں میں مصروف ہیں۔ نون لیگ، اے این پی، ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، جے یو آئی  غرض تمام پارٹیوں والے امریکی خوشنودی میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کیلئے تحریک انصاف کے خلاف اپنے اپنے انداز میں پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔ساتھ ہی امریکی ڈالروں کی "چوری" کھانے والے کچھ  طوطے (اینکر اور صحافی) اور  سوشل میڈیا  پر متحرک دیسی لبرل فاشسٹوں کے ٹولے  زمین آسمان کی توجیحات لاکر عمران خان کے اس اقدام کو غلط اور امریکی غلامی کو جائز ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے بیانات کا متن صبح و شام بدلتا رہتا ہے لیکن مقصد وہی ایک رہتا ہے یعنی عمران خان کو نیچا دکھانا۔ روزانہ یہ عمران خان پر اس حوالے سے نیا اعتراض کرتے ہیں، روزانہ ہی عمران خان ان کے اعتراض  کو غلط ثابت کردیتا ہے لیکن یہ شرمندہ ہونے کے بجائے اگلے دن ایک نیا  اعتراض کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ سلسلہ تقریباٌ ایک مہینے سے جاری ہے۔اعتراضات کی فہرست میں سے کچھ جواب سمیت درج ذیل ہیں:۔
۔۱) جب تحریک انصاف نے الیکشن کے بعد خیبر پختونخوا میں حکومت بنالی تو پہلے تین چار مہینے  زیادہ توجہ بجٹ، سماجی شعبے میں بہتری،  تھانہ اور پٹواری نظام کی بہتری اور قانون سازی پر رہی۔اس دوران تقریباٌ ہر ٹاک شو اور کالم میں مخالفین عمران خان کو طعنے دیتے رہتے کہ اگر وفاقی حکومت ڈرون حملوں پر کچھ نہیں کررہی تو صوبائی حکومت کیوں نیٹو سپلائی بند نہیں کرتی؟ جب تحریک انصاف والے جواب دیتے کہ یہ وفاقی معاملہ  ہے تو یہی مخالفین طعنے دیتے تھے کہ ذمہ داری سے جان  نہ چھڑاؤ چونکہ پختونوں کا صوبہ متاثر ہورہا ہے اس لئے پختونخوا حکومت کو حق ہے کہ اپنی عوام کی بہتری کیلئے فیصلہ کرے ۔یوں اکتوبر کے مہینے تک اس نکتے پر تحریک انصاف کا ناک میں دم کیے رکھا۔
.
۔۲) جب نومبر کے اوائل میں عمران خان نے اعلان کردیا کہ چاہے حکومت ہی کیوں نہ چلی جائے لیکن خیبر پختونخوا سے سپلائی روکی جائے گی تو اعتراض آیا کہ  صوبائی حکومت نیٹو سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کر ہی  نہیں سکتی ۔یہ بغاوت اور آئین سے غداری ہے۔اس چال  کا جواب عمران خان  نے یوں دیا کہ صوبائی حکومت کو اس معاملے سے بالکل الگ تھلگ کرکے عوامی دھرنوں کے ذریعے سپلائی بند کرنے کا اعلان کردیا۔
.
۔۳) جیسے ہی عمران خان نے اعلان کیا کہ آئینی مسائل سے بچنے کیلئے سپلائی صوبائی حکومت نہیں بلکہ عوام  اور تحریک انصاف کے کارکن روکیں گے تو اپنا ہی پچھلا اعتراض بھول کر مخالفین بڑی بے شرمی سے کہنے لگے کہ صوبائی حکومت کیوں روکنےوالوں میں شامل نہیں ہوئی؟ لیکن عمران خان نے انہی کی باتیں یاد دلا کر انہیں خاموش کرادیا۔
.
۔۴) اگلا اعتراض یہ کیا گیا کہ اگر سپلائی بند کرنی ہی ہے تو سب کو "آن بورڈ" لیا جائے اور سولو فلائٹ نہ کی جائے۔ عمران خان نے اس کا جواب یوں دیا کہ۴  نومبر کو اعلان کردیا کہ ٹھیک ہے ۲۰نومبر تک وفاقی حکومت فیصلہ کرلے سپلائی بند کرنے کا ، ہم اکیلے نہیں بند کریں گے۔پھر  اتفاق رائے کیلئے مزید وقت دینے کی خاطر دھرنے کو ۲۰ کے بجائے ۲۳  نومبر پر لے گئے اور ساتھ ہی  ۱۹ نومبر کو "امن کانفرنس" کے فورم پر سب جماعتوں کو اکھٹا ہوکر فیصلہ کرنے کی دعوت دی تاکہ مشترکہ فیصلہ کیا جائے لیکن اکثر جماعتوں نے اس کانفرنس میں شرکت ہی گوارا نہیں کی۔
.
۔۵) جب امن کانفرنس کی وجہ سے دھرنا ۲۰ کی جگہ ۲۳ نومبر  تک ملتوی ہوا تو حسن اتفاق وہ دن ہفتے کا تھا۔ اب ان مخالفین نے نیا چٹکلہ چھوڑ دیا کہ جناب ہفتہ اتوار کو تو نیٹو کنٹینر چلتے ہی نہیں تو یہ دھرنا ڈرامہ ہے (اگرچہ یہ بات خلاف حقیقت ہے اور نیٹو کنٹینر ہفتے کے ساتوں دن چلتے ہیں)۔ عمران خان نے اس کا عملی جواب یوں دیا کہ  ۲۳  نومبر کو ہی اعلان کردیا کہ یہ دھرنا روزانہ کی بنیاد پراس وقت تک جاری رہے گا جب تک مقاصد حاصل نہیں ہوتے۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ ہفتہ اتوار کے بعد پیر، منگل بدھ جمعرات  جمعہ سب دن آئے لیکن نیٹو سپلائی بند رہی۔ مخالفین پھر بھی اپنے جھوٹ پر شرمندہ نہ ہوئے اور نئے اعتراضات لے کر آگئے۔
.
۔۶) جب  دھرنے شروع ہوئے تو مخالفین نے کہا یہ ڈرامہ دو تین دن سے زیادہ جاری نہیں رہے گا اور اس کا نیٹو سپلائی پر اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن اللہ کا فضل ہے کہ آج تیرہواں دن ہے اور سپلائی ہنوز بند۔ بلکہ اب تو امریکہ نے ازخود ہی پختونخوا کے راستے سپلائی بند کرنے کا علان کردیا ہے جس سے دھرنے کا مقصد حاصل ہوگیا ہے۔
.
۔۷) پھراے این پی کے لیڈر اور ان کے کچھ ہمنوا میڈیا والے رونا رونے لگے کہ پنجاب سے لیڈر آکر پشاور میں دھرنے میں شریک ہوئے اور کوئی پختون اس میں شامل نہیں ہوا۔ان عقل کے اندھوں کو معلوم ہی نہیں کہ دھرنے میں روزانہ کی بنیاد پر پختونخوا کے کم از کم ایک ایم پی اے کی ڈیوٹی ہوتی ہے اور یہ سارے ایم پی اے پختون ہی ہیں۔ تحریک انصاف کے صوبائی صدر اور جنرل سیکرٹری   بالترتیب  سپیکر اور وزیر ہونے کی وجہ سے دھرنے میں شرکت نہ کرسکے کیونکہ حکومت کو الگ رکھا گیا۔ پھر عمران خان نے صدارت کے عہدے پر اعظم سواتی اور جنرل سیکرٹری پر خالد مسعود کا تقرر کردیا جو پختون بھی ہیں اور صوبائی حکومت کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے آزادانہ دھرنے میں شرکت کرتے ہیں۔
.
۔۸) پھر عوام کو کنفیوژ کرنے کیلئے مخالفین ایک اور راگ الاپنے لگے کہ نیٹو سپلائی بند کرنی ہے تو پختونخوا حکومت غیر ملکی امداد کیوں لے رہی ہے؟ اس کا منہ توڑجواب عمران خان نے یہ اعلان کرکے دیا کہ اگر امداد کیلئےنیٹو سپلائی پر رضامندی  ہی شرط ہے تو پختونخوا کو اس کی ضرورت نہیں۔ ہم سپلائی بند کررہے ہیں، کسی نے امداد بند کرنی ہے تو کرے۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نے واضح کردیا کہ تحریک انصاف نے حکومت سنبھالنے کے بعد آج تک ایک پائی کی غیر ملکی امداد کا معاہدہ نہیں کیا۔ جن پروجیکٹس کے معاہدے  پچھلی حکومت کے دور میں ہوئے اورابھی ان پر کام جاری ہے، ان کو غیر ملکی بند کرنا چاہتے ہیں تو شوق سے بند کردیں کیونکہ سپلائی تو بند ہی رہے گی۔
.
۔۹) ایک اور اعتراض آتا ہے کہ عمران خان ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ کرنے سے پہلے پاکستان میں موجود افغانیوں کو نکالیں جو افغانستان میں امریکیوں پر حملے کرتے ہیں۔اس کا سیدھا سیدھا جواب یہ ہے کہ افغانیوں کو نہ تو تحریک انصاف لائی ہے اور نہ ان کی اجازت سے ادھر مقیم ہیں۔ ۳۰ لاکھ افغانی تقریباٌ ۳۵ سال سے پاکستان میں بطور مہاجر موجود ہیں اور اسی سال جب تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے انہیں واپس اپنے ملک بھیجنے کا مطالبہ کردیا تو خود افغانستان اور اقوام متحدہ نے مزید ۳ سال ان کو پاکستان میں رہنے کی اجازت پر اصرار کیا۔ صوبائی حکومت پھر بھی نہ مانی تو وفاقی حکومت نے یکطرفہ طور پر ان کو مزید ۳ سال کی توسیع دے دی۔ یہ افغانی افغانستان میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ خوشی غمی میں آنا جانا رکھتے ہیں اور ہوسکتا ہے انہی میں سے کچھ افغانستان میں حملوں میں ملوث ہوں۔ اب صوبائی حکومت کے پاس نہ تو  ایسے وسائل ہیں اور نہ ہی معلومات کہ ۳۰ لاکھ افغانیوں میں سے کون سےصرف خوشی غمی کیلئے جاتے ہیں اور کون سے حملوں کیلئے۔ جب تک پاکستان کی سرزمین پر جرم نہ کریں ان کو گرفتار بھی نہیں کیا جاسکتا تو پھر یہ بے معنی الزام عمران خان پر کیوں تھوپ دیا جاتا ہے؟ اگر وفاقی حکومت  واقعی چاہتی ہے تو کل ہی تمام افغانیوں کو نکال باہر کرے، کس نے روکا ہے؟
.
۔۱۰) ایک اور  مضحکہ خیز اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ نیٹوسپلائی صرف امریکہ کیلئے نہیں بلکہ ترکی سمیت نیٹو کے درجنوں  رکن ممالک کی افواج کیلئے جاتی ہے اور اس بندش سے ان سب سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ ساتھ ہی دلیل دی جاتی ہے کہ نیٹو سپلائی دراصل  اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کی رو سے جاتی ہے اور اس کو روکنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے افغانستان میں نیٹو اور ایساف  اقوام متحدہ کے  مخصوص مینڈیٹ کے تحت موجود ہیں جس کا دائرہ افغانستان تک محدود ہے اور اس میں انہیں  صرف افغانستان کی حدود کے اندر کارووائیاں کرنے کا اختیار ہے۔ اب جب ایساف اور نیٹو  کا ایک رکن  ملک (امریکہ) اس مینڈیٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ایک اور رکن ملک (پاکستان) پر یکطرفہ ڈرون حملے کرے تو بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مناسب جوابی اقدامات کرے جن میں سپلائی روکنے کا اقدام شامل ہے۔ظاہر ہے جب اقوام متحدہ، نیٹو اور ایساف اپنے ہی رکن ملک کو پاکستان پر یکطرفہ جارحیت سے نہیں روک سکتے تو پاکستان کو اپنے مفاد کیلئے مناسب کارووائی سے کیسے روک سکتے ہیں؟بین الاقوامی قانون اس باب میں بالکل واضح ہے۔
.
۔۱۱) اوپر بیان کیے گئے تمام اعتراضات سے بھی زیادہ مضحکہ خیز اور شرمناک اعتراض یہ ہے کہ چونکہ نیٹو سپلائی کے بدلے ہمیں ڈالر ملتے ہیں تو سپلائی بند ہونے پر امریکہ اور نیٹو ممالک ہماری امداد بند کرسکتے ہیں (جس سے ہم بھوکے مرجائیں گے؟) یہ کہنے والے اپنے اعتراض کے بودے پن سے ذرا بھی نہیں شرماتے؟  تو ہم نیٹو سپلائی جاری رکھیں اور ڈرون حملے ہونے دیں تاکہ بدلے میں کچھ ڈالر مل سکیں جس سے کوئی میٹرو بس یا بلٹ ٹرین چلے؟ آخر دس سال سے اس جنگ کا ایندھن بننے والے پختونوں پر کسی کو رحم کیوں نہیں آتا؟ بھلے وزیرستان میں ڈرون سے پختون کا خون بہے؟ بھلے جواب میں طالبان خیبر پختونخوا کے کسی  تھانے،بازار، مسجد، حجرے یا  سکول میں معصوم پختونوں کا خون بہائیں؟ بھلے دونوں طرف پختونوں کا خون بہتا رہے لیکن بس حکمرانوں کو اپنی عیاشی کیلئے ڈالر ملتے رہیں؟ اگر اتنی ہی ملکی معیشت کی فکر ہے تو یہ چند بڑے بیرون ملک پڑے ہوئے اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے  پاکستان لائیں، نہ ہمیں امداد کی ضرورت رہے گی اور نہ ڈرون حملوں اور خودکش دھماکوں میں پختونوں کے بچے مروانے کی۔ خدا کا خوف کریں اس حد تک تو طوائف بھی نہیں گرتی۔ اپنا جسم بیچتی ضرور ہے لیکن جو گاہک اس کے کوٹھے کا دشمن بن جائے اس کو ہیروں کے بدلے بھی اپنا آپ پیش نہیں کرتی۔ کیا ان لوگوں کیلئے پاکستان کی حیثیت اور عزت  طوائف کے کوٹھے سے بھی کم ہے؟     .

اس معاملے میں عمران خان سے خدا واسطے (یا ڈالر واسطے) کا بیر رکھنے والوں میں سب سے پیش پیش سلیم لفافی صاحب ہیں جو پختون ہونے کے ناطے اپنے آپ کو پختونخوا اور قبائلیوں کے معاملات پر اتھارٹی سمجھتے ہیں۔۲۰۱۱ میں جب تحریک انصاف نے اسلام آباد، کراچی، پشاور وغیرہ  میں ڈرون حملوں کے خلاف دھرنے دئیےتھے تو ان صاحب نے کہا وزیرستان کیوں نہیں جاتے جہاں ڈرون حملے ہوتے ہیں۔۲۰۱۲ میں ان کا مشورہ مان کر عمران خان وزیرستان مارچ کرنے چلے تو یہ صاحب بولے حملے روکنے ہیں تو اسلام آباد میں کیوں دھرنا نہیں دیتے یا نیٹو سپلائی کیوں نہیں روکتے؟ جب تحریک انصاف نے  نیٹو سپلائی روک دی تو کہنے لگے پختونخوا میں کیوں روکی، کراچی اور کوئٹہ میں کیوں نہیں روکتے اور احتجاج پارلیمنٹ ہاؤس یا امریکی سفارتخانے  کے باہر کیوں نہیں کرتے؟ جب  تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں ، ایم این ایز اور وزراء نے پہلے پشاور میں امریکی قونصلیٹ  اور پھر پارلیمنٹ ہاؤس کےسامنے احتجاج کیا تو یہ صاحب فرمانے لگے کہ لندن اور نیویارک میں کیوں نہیں کرتے احتجاج؟ جب ایک پروگرام  میں اسی بات پر اسد عمر نے یاد دلایا کہ جناب اسی ہفتے لندن اور نیو یارک میں بھی احتجاج کیا گیا ہے تو موصوف فرمانے لگے کہ لینگلے (امریکہ) میں  سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر کے باہر کیوں  احتجاج نہیں کرتے؟  آج کل لفافی صاحب دھرنے کی وجہ سے پختون ڈرائیور، پختون ٹھیلے والے اور پختون ہوٹل والے کے روزگار خراب ہونے کی فریاد کرتے پھر رہے ہیں۔ موصوف بھول جاتے ہیں کہ یہ دھرنا دیا ہی اس لئے جارہاہے کہ پختونوں کی زندگیاں اجیرن کردینے والے ڈرون حملوں کے خلاف عملی پیغام جاسکے۔کیا وزیرستان اور فاٹا میں مرنے والے پختون نہیں؟  کیا ڈرون حملوں، آپریشنوں اور ان کے رد عمل میں خود کش حملوں سے پختونوں کو ہی روزگار، کاروبار بلکہ جانوں تک کا نقصان نہیں ہوتا؟  پختونوں  ہی کا مزید خون بہنے سے بچانے کیلئے کیےگئے عمران خان کےاس اقدام پر لفافی صاحب کو تو بطور پختون  خوش ہونا چاہئیے تھا لیکن لگتا ہے ڈالر کا رنگ پختون کے خون کے رنگ سے زیادہ گہرا ہے۔ سلیم لفافی صاحب کی یہ کج بحثی اور مخالفت برائے مخالفت دیکھ کر  تو بنی اسرائیل کی گائے کا قصہ  مزید شدت سے یاد آتا ہے۔
.
  لفافی صاحب، میڈیا کے ڈالر والے طوطوں اور چڑیوں اور تمام پارٹیوں کے غلام رہنماؤں سے گزارش ہے کہ یہ قوم  تھوڑی بے وقوف ضرور ہے لیکن  بالکل ہی اندھی  بھی نہیں ہے۔ اسے صاف نظر آرہا ہے کہ عمران خان خلوص نیت سے ملک  میں امن کیلئے کچھ کرنے کی کوشش کررہا ہے اور آپ سب مل کر اس ملک کی جڑیں کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ سب کیلئے اقبال کا یہ شعر عرض ہے جو انہوں نے کشمیر کی ڈوگروں کے ہاتھ پچھتر لاکھ روپے میں فروخت پر کہا تھا۔
دہقان وخشت و جوئے خیاباں فروختند
 قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند
.
اور یہ بھی یاد رکھ لیں کہ عمران خان، تحریک انصاف کے نوجوان اور پاکستان سے محبت کرنے والے  سیاسی یا غیر سیاسی باشعور پاکستانی آپ ڈالر کے نمک خواروں کےعزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
اب راج کرے گی خلق خدا۔ جو میں بھی ہوں اور تو بھی ہے
.
.
The writer is a tribesman from Bajaur Agency (FATA) and tweets at @PTI_FATA .
(No official association with PTI)
.
....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.


1 comment:

  1. excellent answers. there should be no doubt about LIFAFA JOURNALISM now

    ReplyDelete