Wednesday, February 5, 2014

PTI, Politics Business and Venomous Propaganda

By: Shah Zalmay Khan
 تحریک انصاف ، سیاست کا کاروبار اور زہریلا پروپیگنڈا
جب بھی کسی کمپنی کا  کاروبار ڈوبنے لگتا ہے یا اس کو سنگین خطرہ ہوتا ہے تو  کمپنی کا مالک اور اس کے تمام تنخواہ دار ملازمین  پریشان ہو جاتے ہیں۔سب سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مالک ملازمین کو وارننگ دیتا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں اور محنت بڑھا دیں تاکہ کمپنی نقصان میں نہ جائے۔ ورنہ اگر کمپنی کو نقصان اٹھانا پڑا یا  تومالک کو تو نقصان ہوگا ہی لیکن ملازمین کو بھی نوکریوں اور مراعات سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔بس پھر اس کے بعد ملازمین کمپنی کوتباہی سے بچانے کیلئےدن رات ایک کر دیتے ہیں۔ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ کچھ بھی کرکے اپنی نوکریاں  بچا لیں۔
یہی مثال ہمارے پاکستانی میڈیا  کے قلم کے مجاہدوں پر بالکل فٹ آتی ہے۔آخر سیاست بھی تو ہمارے سیاست کے ٹھیکیداروں یعنی   شریفوں، زرداریوں وغیرہ  کا  کاروبار ہی ہے نا۔ اسی کاروبار سے یہ کماتے ہیں۔ ایک سے دس کرتے ہیں، سرے محل اور رائیونڈ محل بناتے ہیں۔  اور اس کاروبار میں بے شمار قلم کے مزدور  منشیوں اور کلرکوں کی طرح ان کے تنخواہ دار ہیں۔
۔ ۳۰  اکتوبر ۲۰۱۱  وہ دن تھا جب سیاست کے کاروبار کے مالکوں کو اپنی اپنی لمیٹڈ کمپنیاں (جن کو یہ سیاسی  پارٹیاں  کہتے ہیں)  ڈوبتی ہوئی نظر آنے لگیں۔ وہ کاروبار جو کئی دہائیوں کی محنت اور مکاری سے قوم کا پیٹ کاٹ کاٹ کر قائم کیے گئے تھے، وہ سب خطرے میں نظر آنے لگا۔ تو ظاہر ہے کسی بھی اچھے کاروباری کی طرح ان مالکوں نے بھی اپنے تنخواہ داروں کو بلایا اور یہ سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ مالکوں نے تنخواہ داروں کو صاف بتا دیا کہ "ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے"۔ مطلب یہ کہ اگر ہمارا سیاست کا کاروبار ٹھپ ہوا تو تم سارے تنخواہ دار بھی اپنے اپنے لفافوں سے ہاتھ دھو بیٹھوگے۔ بھئی جب کمپنی ہی ڈوب جائے تو تنخواہ کہاں سے ملے گی؟ سر جوڑ کر بیٹھنے کے بعدفیصلہ ہوا کہ قلم کے مزدور  منشی اور کلرک (جومفت کی روٹیاں توڑ رہے ہیں)  وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں اور اپنی تمام توجہ سونامی خان عرف یہودی خان عرف طالبان خان پر لگا دیں۔ کالموں اورٹاک شوز میں ایسی سرگوشیاں کریں جن سے قوم صرف اور صرف کنفیوز ہو۔ یہ نہ کہیں کہ نواز شریف اور زرداری اچھے  ہیں کیونکہ لوگ اتنے بھی بے وقوف نہیں ۔ فوراٌ سمجھ جائیں گے کہ لفافہ بول رہا ہے۔ صرف اتنا کہیں کہ جی عمران خان  نے کیا کرلیا؟۔ جھوٹ اتنا مسلسل بولیں کہ لوگ سچ سمجھ لیں۔ مثلاٌ چند سرگوشیاں۔۔۔
۔ "سونامی کی لہریں پاشا کے حکم سے اٹھ رہی ہیں جی۔۔۔ جمائمہ خان کا یہودی بھائی سونامی جلسوں کیلئے ڈالردے رہا ہے ۔۔۔ عمران خان بندہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کے پاس کوئی جیتنے والے امیدوار ہی نہیں۔۔۔بس جی وہی پرانے لوگ لے لئے، تبدیلی خاک آئے گی۔۔۔ جلسے سے کرسیاں لے گئے جی۔۔۔لاہور کا جلسہ پاشا نے کروایا جی۔۔۔ کراچی کا جلسہ ایم کیو ایم نے کروایا جی۔۔۔ پنڈی کا جلسہ  ٹھیکیدار ریاض نے کروایاجی۔۔۔ کوئٹہ کا جلسہ، بھئی وہ تو ، وہ تو، وہ تو، ہاں وہ تو   بی ایل اے   نے کروایا جی۔۔۔عمران خان  یہودیوں کا ایجنٹ ہے ۔۔۔ عمران خان تو طالبان خان ہے ۔۔۔ عمران خان آ ئی ایس آ ئی   کا ایجنٹ ہے ۔۔۔ عمران خان زرداری کا ایجنٹ ہے اور صرف نون کے ووٹ تقسیم کرنا چاہتا ہے جی۔۔۔عمران خان کو نون سے ہاتھ ملا لینا چاہئیے ورنہ زرداری پھر آجائےگا۔۔۔عمران خان کی پارٹی کے نوجوان تو جی بڑے بد تمیز ہیں۔۔۔ ایس ایم ایس اور فیس بک پہ گالیاں دیتے ہیں جی۔۔۔ او جی یہ سروے شروےسےکچھ نہیں ہوتا ۔۔۔ لو جی تازہ ترین سروے کہتا ہے عمران خان کی مقبولیت کم ہو گئی اور ہمارے شیر کی بڑھ گئی۔۔۔او جی عمران خان اب تک خود کش حملوں پر کیوں نہیں بولا۔۔۔ عمران خان لاپتہ افراد کے کیمپ کیوں نہیں گیا؟  لگتا ہے دال میں کچھ کالا ہے۔۔۔عمران خان بس باتیں بنانے کا ماہر ہے، پالیسی توکوئی ہے نہیں اس کے پاس۔۔۔ارے خان صاحب یہ پلیسی شلیسی سے کچھ نہیں ہوتا، تجربہ ہی نہیں آپ کے پاس۔۔۔عمران خان ڈرون حملوں پر سیاست چمکا رہا ہے۔۔۔اسلام آباد کیوں؟وزیرستان کیوں نہیں جاتا؟۔۔۔ وزیرستان کیوں؟ اسلام آباد کیوں نہیں جاتا؟۔۔۔عمران خان اہل تشیع کے قتل عام پر خاموش ہے۔۔۔ عمران خان  نے ملالہ یوسفزئی پر حملےکی دل سے مذمت نہیں 
کی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
۔۔۔
یہ سب الیکشن سے پہلے تک کی سرگوشیاں تھیں۔الیکشن ہوگئے ،خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت بن گئی تو سرگوشیوں کے سلسلے میں کچھ نئے اضافے ہوگئے مثلاٌ
پرویز خٹک کو کیوں چن لیا جی؟۔۔۔یہ تو اسی کرپٹ شیر پاؤ کو ملالیا۔۔۔نوے دن میں اعلیٰ حکومتی سطح پر کرپشن ختم کرنی تھی،کیا کرلی؟۔۔۔کیا کہا؟ کسی تحریک انصاف کے وزیر یا ایم این اے ایم پی اے پرکرپشن کا کوئی الزام نہیں؟ خدا کا خوف کریں خان صاحب۔ ابھی کل ہی  بٹگرام کے بازارمیں  کانسٹیبل کو رشوت لیتے دیکھا ہے۔۔۔ پہلے: شیرپاؤ گروپ کے وزیر نوکریاں بیچ رہے ہیں، کدھر ہیں کرپشن ختم کرنے کے دعوے؟۔۔۔ بعد میں: شیرپاؤ گروپ کےمعصوم وزیروں کو کیوں نکال دیا؟۔۔۔ چار مہینے ہوگئے عمران خان کی حکومت کو،ڈرون کیوں نہیں رکوا سکے اب تک؟۔۔۔ کیا کہا؟ ڈرون وفاقی حکومت کا ایشو ہے؟ اچھا تو  ابھی تک پختونخوا سے نیٹو کی سپلائی بھی تو بند کرنہیں سکے۔۔۔کیا کہا؟ نیٹو سپلائی وفاقی معاملہ ہے؟ بس کریں خان صاحب بہانے نہ بنائیں۔ بند کریں سپلائی یا مان لیں کہ ہمت نہیں۔۔۔ خان صاحب نیٹو سپلائی اکیلے  کیوں بند کرنا چاہتے ہیں؟سولو فلائٹ؟۔۔۔کیا کہا؟ بیس دن پہلےسب جماعتوں کو مل کر سپلائی بند کرنے کی دعوت دی تھی؟صرف دعوت سے کیا ہوتا ہے؟ سب کو آن بورڈ لینا چاہئیے تھا؟۔۔۔ نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنا نہیں میوزیکل شو تھا۔۔۔۔ہاہاہا قوم کو بے وقوف بنارہے ہیں خان صاحب، ہفتہ اتوار کو تو  نیٹوسپلائی چلتی ہی نہیں۔۔۔کیا کہا؟ نیٹو سپلائی بند ہوئے آج ڈھائی مہینے ہوگئے ہیں؟ تو کیا ہوا۔ یہ کوئی اتنا بڑا کارنامہ تو نہیں۔۔۔ دراصل تحریک انصاف پختونخوا میں سیاسی شہادت چاہتی ہے اسلئے نیٹو سپلائی بند کی۔۔۔ ناضرین دیکھیں پھر دھماکہ ہوگیا اور خان صاحب طالبان کا نام لے کر مذمت نہیں کرتے۔۔۔ کیا؟ خان صاحب نے نام لے کر طالبان کی مذمت کی ہے؟ ہونہہ مذمت سے کیا ہوتا ہے؟۔۔۔ دیکھیں جی دھماکے کو چار منٹ ہوچکے ہیں، ابھی تک عمران خان یا پرویز ختک دھماکے کی جگہ نہیں پہنچے۔۔۔ کیا کہا؟ اسلام آباد میں میٹنگ تھی ؟ تو میٹنگ کی کیا ضرورت تھی؟ پتہ نہیں تھا کہ آج دھماکہ ہونا ہے؟۔۔۔ کیا کہا؟ وزیر صحت نے دو راتیں مسلسل ہسپتال میں زخمیوں کے ساتھ گزاریں ہیں ؟ تو کیا ہوا؟ پہلے گھنٹے کے اندرتو نہیں پہنچ سکےنا۔ میڈیا کے کیمرے تو چلے گئے نا۔بعدمیں کیا ہوا اس سے ہمیں کیا لینا دینا؟۔۔۔ میاں افتخار صاحب آپ بتائیں عمران خان کی حکومت تو دہشت گردی کو نہیں روک پارہی آپ کی حکومت نے کس طرح صوبے کو امن کا گہوارہ بنادیا تھا؟ بس جی ہم  ہر دھماکے کی جگہ  پہنچ جاتے تھے اور ہر جنازہ اٹینڈ کرتے تھے۔(فخریہ انداز میں) ہم نے ڈھائی سو دھماکوں میں حاضری دی ہے اور پانچ سال میں بارہ ہزار جنازے اٹینڈ کئے۔۔۔ خان صاحب آپ آپریشن کی مخالفت کیوں کررہے ہیں؟ آپ طالبان کے حمایتی ہیں؟۔۔۔ کیا کہا؟ آپریشن سے مسلہ حل نہیں ہوگا؟ آپ کو کیسے معلوم؟ (دس سال میں آپریشن تو کوئی ہوا ہی نہیں)۔۔۔ لوجی ثابت ہوگیا کہ عمران خان طالبان ہے۔ ٹی ٹی پی نے خان کا نام مذاکراتی فہرست میں دے دیا۔۔۔ کیا کہا؟ خان صاحب نے طالبان کی کمیٹی میں شمولیت سے انکار کردیا؟ ان کے انکار سے کیا ہوتا ہے؟ ہمارے لئے تو طالبان کا کہا اہم ہے۔ وہ کہتے ہیں تو عمران خان لازمی ان کا نمائندہ ہوگا۔۔۔ عمران خان تو اہل تشیع کا دشمن ہے جی۔۔۔کیا کہا؟ عمران خان اہل تشیع سے اظہار یکجہتی کیلئے سب سے پہلے کوئٹہ اور گلگت بلتستان گئے تھے اور واحد لیڈر ہے جس نے لشکر جھنگوی کے خلاف کارووائی کا مطالبہ کیا ہے؟ تو اس سے کیا ہوا۔ وہ امن کی بات کرتا ہے نا اس کا مطلب وہ طالبان کا ہمدرد اور اہل تشیع کا دشمن ہے۔۔۔خان صاحب یہ کیوں؟ آپ مذاکرات کے عمل  سے بھاگ کیوں گئے؟"۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ 
یہ سب وہ سرگوشیاں ہیں جو پچھلےڈھائی سال  سے قوم ٹی وی پہ دیکھ اور سن رہی ہے اور کالموں اور اخبار کی خبروں میں پڑھ رہی ہے۔آپ کبھی میڈیا میں یہ نہیں سنیں گے کہ:
پختونخوا کی  حکومت نےتعلیمی شعبے میں اصلاحات کا وسیع سلسلہ شروع کیا ہے اور لاکھوں بچوں کو سکولوں میں لایا گیا۔۔۔صحت کا انصاف کے نام سے صوبے کی تاریخ کی سب سے بڑی صحت مہم شروع کی گئی ہے جس میں تحریک انصاف کے ساڑھے بارہ ہزار کارکن تمام تر دھمکیوں اور خطرات کے باوجود پولیو کے قطرے پلانے سمیت   نو بیماریوں کے خلاف جہاد کررہے ہیں۔۔۔

بڑے ہسپتالوں میں عام شہریوں پر مشتمل  خود مختار انتظامی بورڈ بنائے گئے ہیں جن سے ہسپتالوں کی پرفارمنس بہتر ہوگئی ہے۔۔۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں تمام ٹیسٹ اور دوائیں مفت ہوگئی ہیں۔۔۔بیواؤں اور بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے یورپی طرز پر ماہانہ گزارہ الاؤنس مقرر کیا جارہا ہے۔۔۔ پٹواری اور تھانہ کلچر میں زبردست تبدیلی آئی ہے کیونکہ ان دونوں شعبوں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔۔۔ پٹواری جس کی کرپشن ضرب المثل ہوا کرتی تھی، اب رشوت دینے پر بھی قبول کرنے سے کتراتے ہیں۔۔۔ڈھائی مہینے سے تحریک انصاف کے عام کارکن ملک کے فخر اور امن  کی خاطربغیر کسی حکومتی امداد کے نیٹو سپلائی روکے ہوئے ہیں۔۔۔ وزیر صحت شوکت یوسفزئی کی بیگم پندرہ جنوری کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے عام وارڈ میں داخل ہوئیں اور ایک بچی کو جنم دیا۔ جب طبی عملے نے ولدیت کے خانے میں شوکت یوسفزئی کا نام دیکھا تو حیران رہ گئےکہ صوبےکا وزیرصحت تک عام مریضوں کے ساتھ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں پرچی لے کر علاج کرواتے ہیں۔۔۔

رائٹ ٹو انفارمیشن نامی قانون سے سرکاری محکموں میں کرپشن اور بد انتظامی پر نظر رکھنے کا اختیار اب عوام کے ہاتھ میں آگیاہے۔۔۔ رائٹ تو سروس نامی قانون سے اب کسی شہری کا کام کرنا سرکار کا احسان نہیں بلکہ شہری کا بنیادی حق ہے اور وقت پہ یہ کام نہ کرنے والے افسر کو سزا ملے گی۔۔۔ پولیس میں کرپشن کے خاتمے کیلئے پورے صوبے میں انکوائریاں ہوئیں اور ڈیڑھ سو کے قریب پولیس افسران اور اہلکاروں کو فارغ کردیا گیا۔۔۔ پشاور اور کئی دوسرے شہروں میں میونسپل کمیٹیوں کے وہ ملازمین جو پہلے ایم این اے ایم پی اے کے حجروں کے خدمتگار ہواکرتے تھے، وہ آج سڑکوں پر صفائیاں کررہے ہیں۔۔۔ مختلف محکموں میں سابقہ ادوار کی کرپشن کی انکوائریاں چل رہی ہیں اور مانسہرہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی وغیرہ جیسے کئی اداروں کے کرپٹ افسران برطرف کرکے ان کی جائیدادیں ضبط کرلی گئی ہیں۔۔۔صوابدیدی فنڈز کے نام پر ہونے والی کرپشن کا راستہ روکنے کیلئے کسی ایم پی اے کو اب کوئی فنڈ نہیں مل رہا بلکہ سب ترقیاتی کام غیر جانبدار  کنسلٹنٹ کےذریعے ہورہے ہیں جن کا باقاعدہ آڈٹ ہوگا۔۔۔پشاور شہر کو ترقی یافتہ اور جدید بنانے کیلئے  ۱۹  ارب روپے کی لاگت سےمنصوبہ شروع ہوگیا ہے۔۔۔  صوبے میں تیل، گیس، بجلی کے منصوبوں کیلئے سرکاری اور غیرملکی سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جارہے ہیں ۔۔۔ تحریک انصاف نے اپنے منشور کے مطابق  ۹۰  دن میں اعلیٰ سطح پر ہونے والی کرپشن (وزیر، ایم پی اے) پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے اور حکومت کی کمزوری کی پروا نہ کرتے ہوئے دو کرپٹ وزیروں کو نکال باہر کیا۔۔۔احتساب کا عمل تیز کرنے کیلئے صوبے کی تاریخ میں پہلی بارآزاد  احتساب کمیشن کا قانون منظور کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ تک کو جوابدہ بنایا گیا ہے اور اس کمیشن کیلئے بہترین شہرت والے غیر سیاسی شخصیات کی تقرری کا عمل  جاری ہے۔۔۔ صوبے میں موبائل عدالتوں کے ذریے انصاف گھر کی دہلیز پر دینےکی کوشش  کی جارہی ہے۔۔۔ اصلی معنوں میں باختیار مقامی حکومتوں کے قیام کیلئے بہترین بلدیاتی سسٹم کا قانون منظور کیا گیا ہے، حلقہ بندیاں ہوگئیں اوربائیومیٹرک الیکشن کیلئے نادرا سے درخواست کی گئی ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ لیکن آپ کبھی میڈیا میں ان کاموں کا کوئی 
خاص ذکر نہیں سنیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔
تحریک انصاف کے اچھے کاموں کا ذکر نہ کرنے اور پروپیگنڈے پر مبنی "میڈیا سرگوشیوں" کا یہ سلسلہ  ابھی اور بڑھے گا۔ جوں جوں وقت گزرے گا  ان سرگوشیوں کی شدت اور تعداد بڑھتی جائے گی۔بریکنگ نیوز چلیں گی۔۔۔ "معتبر ذرائع" سےلیک ہونے والی خبریں سامنے آئیں گی۔۔۔ فرشتہ صفت کالم نگار اور اینکر انتہائی معصومانہ انداز میں تحریک انصاف کی حکومت کی ناکامی  کی نویدیں دیں گے۔۔۔جب تک جان میں جان ہے یہ قلم کے مزدور اپنی پوری کوشش کریں گے کہ قوم کو کنفیوز اور عمران خان سے بد ظن کر سکیں۔ ظاہر ہے میڈیا والوں کیلئے  یہ تنخواہ  کا معاملہ ہے اور سیاستدانوں کیلئے کاروبار کا۔
۔
آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ یہ سب پارٹیاں ایک دوسرے کی مخالف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کیساتھ ایک خاموش معاہدے کے طور پر وقت گزارتی ہیں لیکن تحریک انصاف کے ساتھ ان میں سے کسی کا گزارہ نہیں ہوتا۔ ٹاک شوز میں آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ جمعیت علماء، اے این پی، ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور نون لیگ سب جماعتوں کے نمائندے مل کر تحریک انصاف کے نمائندے پر چڑھائی کررہے ہوتے ہیں اور اس میں اینکر بھی ان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہوتے ہیں (چند نیوٹرل اینکرز کو چھوڑ کر)۔کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایسا کیوں؟
کیونکہ یہ سب جماعتیں بنیادی طور پر ایک جیسی ہیں۔ ان کے سربراہوں کی سیاست کا واحد مقصد پیسہ بنانا ہے۔ اس مقصد کیلئےیہ ایک دوسرے سے اختلاف بھی کرتے ہیں، لڑتے جھگڑتے بھی ہیں لیکن "سسٹم" کو ڈسٹرب نہیں کرتے  کیونکہ سب اسی سسٹم کے اندر کے لوگ ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ حکومت چاہے نون لیگ کی ہو وہ پیپلز پارٹی  سے کرپشن کا حساب نہیں لے گی۔


 جے یوآئی والے کبھی اے این پی کو کرپشن پر سزا نہیں ہونے دیں گےکیونکہ ان سب کو پتہ ہے کہ کل کو ہماری بھی باری آسکتی ہے۔ اسی لئے بظاہر مخالفت کرومگر"سسٹم " کو چلنے دو۔ لیکن عمران خان اس" سسٹم سے باہر کا بندہ" ہے۔ نہ تو وہ سیاست میں پیسے کیلئے آیا ہے نہ اپنی اولاد کو ملکی سیاست میں سیٹ کروانے کیلئے۔ان سب کو ایک دوسرے سے ڈر نہیں لیکن عمران خان سے ڈر ہے کہ وہ ان میں سے کسی کی کرپشن کو نہیں چھوڑے گا کیونکہ خود اس نے کوئی کرپشن کی نہیں اسلئے اسے کوئی خوف نہیں۔ اسی لئے سب پارٹیوں والے اکھٹے ہوجاتے ہیں عمران خان کے خلاف۔ اور پھر استعمال کرتے ہیں اپنے میڈیا کے بھونپووں کو۔ یہ بھونپو دن رات عمران خان کی برائیاں یوں بیان کرتے ہیں گویا  ۶۵  سال سے ملک پر اس کی حکومت ہو اور اس نے سب کچھ "واڑ" دیا ہو۔ مسلکوں اور فرقوں کے نام پر سیاست چمکانے والے اپنی دکان داری خراب ہونے کے ڈر سے عمران خان کو مختلف مسالک خصوصاٌ اہل تشیع کا دشمن بنا کرپیش کررہے ہیں (اس زہریلے پروپیگنڈے کا اثر بھی ہورہا ہے)۔اس پروپیگنڈے کے صلے میں ان میڈیا والوں کو کیا ملتا ہے؟ عرفان صدیقی کو وفاقی وزیر کے برابر عہدہ، عطاء قاسمی کو نشان امتیاز، رؤف طاہر کو ریلوے میں ڈی جی کی پوسٹ، کسی صحافی کو سرکاری گھر تو کسی اور کی قیمت سرکاری حج۔  
عام لوگ جو پوری حقیقت سے واقف نہیں ہوتے، ان سرگوشیوں سے کنفیوز ہوجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عمران خان ہی مسلے کی جڑ ہے یا وہ بھی انہی سب نون ، پیپلز پارٹی وغیرہ  کی طرح ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن میڈیا کے پروپیگنڈے سےتحریک انصاف کی مقبولیت کو نقصان پہنچا ہے۔غریب  ان پڑھ دیہاتی  لوگ حتی کہ شہری علاقوں میں بھی لوگ  (خصوصاٌ مذاکرات کے موقف پر شدید پروپیگنڈے کی وجہ سے اہل تشیع )اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ اس لئے اس مسلے کا حل نکالے بغیر تحریک انصاف کو آگے بڑھنے کی امید نہیں رکھنی چاہئیے۔ یہ ایک طرح سے سیاسی خود کشی ہوگی کیونکہ مخالفین بڑی تیزی سے میڈیا پروپیگنڈے کے زور پر تحریک انصاف کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ رہے ہیں۔اس صورتحال میں اب  ہم جیسے پڑھے لکھے  نوجوانوں کا فرض ہے کہ عمران خان کا ہاتھ بٹائیں۔یاد رکھیں کہ ہماری مدد کو کوئی نہیں آئے گا۔ اس ملک کی فلاح کیلئے سوچنا صرف عمران خان کا فرض نہیں۔آئیں اپنے گھروں، حجروں،گلی محلوں میں عمران خان کے ترجمان بنیں اور دلیل  کے ہتھیارسےاس زہریلے پروپیگنڈے کو غلط ثابت کریں۔
یاد رکھیں یہ عمران خان یا اس کے بچوں کے مستقبل کی جنگ نہیں ہے۔ عمران خان کے بچے اپنی زندگی بہترین گزار رہے ہیں اور عمران خان بھی اپنی زندگی بھرپور طریقے سے گزار چکا ہے۔ یہ ہماری اور آپ کی اور ہمارے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔ یہ زرداری شریف اور اسفندیار وغیرہ اپنی اپنی اگلی نسل ہم پر حکومت کیلئے تیار کرچکے ہیں۔مریم نواز قوم کے اربوں روپے کے "یوتھ لون سکیم" کی سربراہ بنی ہے تو حمزہ شہباز پنجاب کا ڈی فیکٹو وزیر اعلیٰ۔ بلاول زرداری  کو بھٹو کا نام دے کر اور اجرک پہنا کر انگریزی زبان میں مصری ناچ گانے کے ساتھ سندھ فیسٹیول کروایا جارہا ہے۔ایمل ولی خان آج کل سرخ ٹوپی پہنے باچا خان کے نام پر پھر پختون نوجوانوں کو "پنجابی عمران خان کی غلامی" کے خلاف جذبات بھڑکانے کے چکر میں ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا لخت جگر مولانا سعد مدنی بھی اسلام کی ٹھیکیداری کے طور طریقے سیکھ رہا ہے۔
میرے بدنصیب ملک کے بدنصیب نوجوانو! کیا ہم نے ایک بار پھر ان سانپوں اور ان کے سنپولیوں سے ڈسا جانا ہے یا خود بھی کوئی "ہل جل" کرنی ہے اور ان سانپوں اور ان کے سنپولیوں کے زہر سے اپنی اگلی نسلوں کو بچانا ہے؟ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔  
.
.
.
The writer is a tribesman from Bajaur Agency (FATA) and tweets at @PTI_FATA .
(No official association with PTI)
.
....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.


2 comments:

  1. Indeed nobody can ever think about negating all what you said in this blog. (Wazir Gul)

    ReplyDelete