Saturday, May 10, 2014

Rebuttal to Talat Hussain: What Imran Khan can do?

By: Sialkotian Pakistan
.
عزت ماب جناب سید طلعت حسین صاحب کا شمار پاکستان کے بہترین صحافی حضرات میں ہوتا ہےلیکن کبھی کبھی انکے کالم اور
تجزیات پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے دوسرے صحافی حضرات کی طرح اپنی ذات کے ارد گرد ایمانداری کا ملمع چڑھایا ہوا ہے ،ایمانداری صرف یہ ہی نہیں کہ آپ جس پیشے سے منسلک ہوں اسکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے آپ مواد ڈھونڈھتے پھریں ،بلکہ صحافت میں ایمانداری یہ ہے کہ حالات حاضرہ کے مطابق آپ حکومت وقت کے کیئے جانے والی غیر آئینی اور ملکی مفاد کے خلاف کیئے جانے والے اقدامات پر زیادہ سے زیادہ لیکن جائیز تنقید کریں ،لیکن معذرت کے ساتھ طلعت حسین صاحب کے کالم اور انکے پروگرام دیکھ کر لگتا ہے کہ عمران خان ہی اس ملک کے تمام مسائل کی وجہ ہے ،عمران خان ہی اس ملک میں منی لانڈرنگ کا موجد ہے ، عمران خان ہی اس ملک میں ہارس ٹریڈنگ اور چھانگا مانگا کی سیاست کو ایجاد کرنے والا سیاست دان ہے ،عمران خان کی ہی وجہ سے آج ملک کی میعشت ڈوبتی جا رہی ہے؟
طلعت حسین صاحب اگر آپ اپنے قلم اور پیشے سے ایمانداری کرتے تو آپ شریف برداران کو انکے وعدے یاد دلاتے جو انہوں نے کیئے تھے ؟

آپ انکو یہ یاد دلاتے کہ آپ نے چھ مہینے میں ملک کے تمام مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا تھا ،
طلعت صاحب آپ شریف برداران کو یہ یاد دلاتے کہ انہوں نے جلسوں میں سابق صدر آصف زرداری کا لوٹا ہوا پیسہ ملک میں واپس لانے اور ان کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا وعدہ کیا تھا ،
طلعت حسین صاحب آپ نے گزشتہ کالم میں فرمایا جس کا عنوان تھا کہ عمران خان کیا کر سکتا تھا .؟
میں بتاتا ہوں کہ عمران خان کیا کر سکتا تھا اور کیا کر رہا ہے ،
عمران خان چاہتا تو صحت یاب ہونے کے بعد ایک بھر پور عوامی احتجاج کے زریعے عوامی ردعمل کو ظاہر کرتا ،
لیکن عمران خان جو کہ قانون کے دائرے میں رہنے والا انسان ہے اس نے سب سے پہلے عدالتوں میں جانے کا فیصلہ کیا 
مجھے بتائیں کہ وہ کون سا عدالت یا کمیشن ہے جہاں عمران خان نہیں گیا ؟
ایک سال تک عمران خان عدالتوں اور کمیشن کے دھکے کھاتا رہا لیکن کہیں سے اس کو انصاف نہیں ملا ،
تو پھر عمران خان نے عوام کے ساتھ مل کر انصاف لینے کی کوشش کی ،
طلعت حسین صاحب اگر عمران خان چاہتا تو پیپلز پارٹی کی طرح مک مکا کی سیاست کر لیتا اور خاموشی سے خیبر پختون خواہ میں حکومت کے مزے لوٹتا رہتا ،
لیکن اس بندے نےپختونخوا  میں اپنے اتحادی وزراء کو کرپشن کی وجہ سے فارغ کر دیا 
اور اپنے ایک وزیر کو کرپشن کی وجہ سے اور دوسرے کو نااہلی کی وجہ سے وزارت سے فارغ کر دیا ،
طلعت حسین صاحب اپنے قلم سے ایمانداری سے پیش آیا کریں کیوں کہ کل کو روز قیامت ہر چیز کی پوچھ ہوگی کہ آپ کے پاس قلم کی طاقت تھی لیکن آپ نے اس کے ذریعے کیا لکھا ؟
کیا آپ نے شریف خاندان کی حکومت کے سب سے بڑے موجودہ سکینڈل نندی پور پاور پراجیکٹ میں ہونے والے اربوں روپے کے گھپلے پر بات کی ؟
کیا آپ نے سولر انرجی سکیم کے میں ہونے والی تاریخی بد عنوانی پر کچھ لکھا ؟
نہیں کیوں کہ آپکی ایمانداری نے آپکو منع کر دیا ہوگا کہ یہ مت لکھنا ،
کیا آپ نے مریم نواز شریف کے اربوں روپے کے قرضہ پراجیکٹ پر سانپ بن کر بیٹھ جانے پر کچھ لکھا ؟ کیا اس کے پاس سرکاری عہدہ یا کوئی وزارت ہے کہ وہ اس پراجیکٹ کی نگرانی کر سکے ؟
آپ نے نہیں لکھا کیوں کہ آپکو آپکی ایمانداری نے روک لیا ہوگا کہ 
رہنے دو اتنی ایمانداری بھی ٹھیک نہیں ۔
طلعت حسین صاحب آپ نے لکھا کہ حیات آباد میں ایک اسپتال میں پانی ختم ہوگیا اور آپ نے اس واقعہ کو اپنے کالم میں جگہ دے دی تو اچھی بات کی آپ نے اس کی توجہ دلائی جا چکی ہےپختونخواحکومت کو ،لیکن جناب کیا آپکو یہ معلوم نہیں کہ پنجاب میں قانون و امن کی کیا صورت حال ہے ؟تو سنیئے 
پنجاب میں ہر ساڑھے تین گھنٹے کے بعد زیادتی کا ایک واقعہ ہوتا ہے اور ہر دو دن کے بعد اوسطا جبری زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں ،
رحیم یار خان میں ایک سال میں زیادتی کے 222 ، فیصل آباد میں 214 ، اور لاہور میں اجتماعی زیادتی کے 195 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں،
اسکے علاوہ بہاولنگر میں 141 ، شیخو پورہ میں 102 ، مظفر گڑھ 102 ، قصور 77 ، چنیوٹ 74 ،، خانیوال 68 ، لیہ میں 55 اور منڈی بہاولدین میں 33 واقعات سامنے ائے ہیں ،
لیکن آپکو یہ سب کچھ نظر نہیں ائے گا کیوں کہ آپ کو آپ کی ایمانداری یہ سب کچھ دیکھنے سے منع کرتی ہے ،
اور ذراپختونخواکی پولیس کے نظام کو دیکھیں ، آپ وہاں کے کسی بھی سیاسی پارٹی کے ورکر سے پوچھ لیں کہ پختونخوا میں پولیس کا سپاہی یا محکمہ مالیات کا کوئی پٹواری رشوت لیتا ہے ؟ تو اسکا جواب ہوگا نہیں کیوں کہ وہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے عمران خان کے زیر سایہ ،.،
طلعت حسین صاحب خدا را آپ اپنی آنکھوں سے تعصب کی پٹی اتاریں اور کھلی آنکھوں سے غیر جانبدار تجزیہ کریں شاید آپکو عمران خان سب سے بہتر لگے ،.،
یقین کیجیئے آپکی ایمانداری کو دیکھ کو ہمیں آپ میں اور نظیر جانی عرفان صدیقی عطا قاسمی رؤف طاہر جیسے صحافی حضرات میں بلکل کوئی فرق نظر نہیں آتا ،
کیوں کہ آپکو صرف اپنی مرضی اور اپنے دل کا ہی سچ نظر آتا ہے ،
آپکی ایمانداری اور سچائی کو اکیس توپوں کے ساتھ اکیس عدد میزائیل کی سلامی ہے ،
آپ اپنی ایمانداری کو سمبھال کر رکھیں شاید اگلی بار فلسطین کو جاتے ہوئے کسی بیڑے میں کام آجائے جہاں سے آپ کو شہرت ملی تھی اور آپ اس وقم کے ہیرو بنے تھے ،
گستاخی معاف 
.
.
The writer is a social media activist and ardent PTI supporter from Sialkot (currently in Italy) and tweets at @Sialkotian786 . (No official association with PTI).
.
....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.


1 comment: