Thursday, August 7, 2014

Election 2013, Rigging & PTI's Azadi March

By: Shah Zalmay Khan
.
الیکشن، دھاندلی اور آزادی مارچ
.

الیکشن تو پاکستان میں بہت ہوئے۔ مختلف ترغیبات کے تحت لوگ ووٹ بھی ڈالتے رہے۔کوئی ذات برادری کے چکر میں، کوئی مسلک فرقے یا زبان کے نام پر، کوئی گلی محلہ پکا ہونے کے چکر میں اور کوئی صرف اور صرف قیمے والے نان  اور ایک پلیٹ بریانی کیلئے ۔ لیکن ۲۰۱۳ کے الیکشن سے پہلے شاید ہی کوئی الیکشن ایسا رہا ہو جب تقریباٌ پورا ملک  ہی سیاسی ہوگیا ہو۔ پاکستان جیسا ملک، جہاں لوگ سیاست کو گالی اور سیاستدانوں کو ارذل المخلوقات سمجھنے لگے  تھے، اسی ملک کے لوگ سیاست کے بخار میں مبتلا ہونے لگے۔ گلی محلوں، حجروں چوپالوں اور کالجوں یونیورسٹیوں تک میں سیاسی بحث و مباحثے ہونے لگے۔ وہ نوجوان طبقہ جو سیاست سے بیزار تھا، سوشل میڈیا کی برکت سے سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا۔اور اس سارے سیاسی انقلاب کا محرک ایک ہی شخص تھا۔ عمران خان۔ اس انقلاب کی پہلی نشانی  ۳۰  اکتوبر  ۲۰۱۱  کو مینار پاکستان پر تاریخ ساز جلسہ تھی۔ اس جلسے کے مقام تک پہنچنے کیلئے خان نے لگاتار کئی سال محنت  کی اور پھر اس  جلسے کے بعد تو جیسے اس پر جنون ہی سوار ہوگیا ہو۔ ملک کے کونے کونے میں گیا۔ کراچی، کوئٹہ، لاہور، پشاور، گلگت، وہ کون سی جگہ تھی جہاں خان قوم کو جگانے نہیں پہنچا؟ صرف الیکشن کی بیس روزہ انتخابی مہم میں ہی ستر سے زیادہ تاریخ ساز جلسے کئے۔ ایک ایک دن میں پانچ چھ جلسے۔ یہاں تک کہ ایک ایسے ہی جلسے میں لفٹر سے گر کر کمر پر چوٹ لگوا بیٹھا لیکن ہسپتال کے بستر سے بھی وہ قوم کو ووٹ دینے کیلئے نکلنے کا کہتا رہا۔
عمران خان کی یہی انتھک محنت تھی جس کے نتیجے میں ۱۱ مئی کو پاکستانی قوم مثالی جوش و خروش سے ووٹ دینے نکلی۔ بیرون ملک سے ہزاروں پاکستانی صرف ووٹ دینے پاکستان آئے۔ ضعیف مردوخواتین وہیل چئیروں پرگھنٹوں  ووٹ کی قطاروں میں انتظار کرتے رہے۔کالجوں یونیورسٹیوں کے نوجوان تبدیلی رضاکار بنتے رہے۔ الیکشن کے دن عید کا سا یہ سماں اس سے پہلے بھی کبھی کسی نے دیکھا تھا؟ پاکستانی تاریخ کا سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ (ساٹھ فیصد) اس الیکشن میں نظر آیا۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن جوں جوں ۱۱ مئی کی شام گہری ہوتی گئی ، عوامی مینڈیٹ پرشب خون مارنے والے اپنا کھیل کھیلنے لگے۔ رات کے گیارہ بجے بڑے میاں نے فاتحانہ تقریر کرتے ہوئے پتہ نہیں کس کو مخاطب کیا: "میرے ہاتھ مت باندھنا۔ مجھے بھرپور مینڈیٹ دینا"۔ (جبکہ ووٹنگ ۵ گھنٹے قبل ختم ہوچکی تھی)۔بس پھر کیا تھا۔ جن کو یہ پیغام دیاگیا تھا، وہ اپنا "کام" کرنے لگے۔ الیکشن کے وہ نتائج جو شام سے ہی دھڑا دھڑ آرہے تھے، وہ رات بارہ بجتے ہی رک گئے۔ خیبر پختونخوا کے دوردراز ترین علاقوں سے بھی نتائج رات بارہ بجے تک فائنل ہوگئے لیکن پنجاب کے شہری علاقوں کے نتائج اگلے دن دوپہر تک رکے ہی رہے۔ جھرلو اپنا کام کرتا رہا اور اگلا  دن آیا تو پتہ چلا کہ  درجنوں حلقوں میں تحریک انصاف کےجیت کی طرف گامزن امیدوار معجزانہ طور پر ہار چکے تھے۔ پنجاب سے تحریک انصاف کے صرف وہی امیدوار اپنا الیکشن چوری ہونے سے بچا سکے جوسسٹم کے "پرانے کھلاڑی" ہونے کی وجہ سے واقف تھے کہ پریزائڈنگ افسر کے دفتر سے ریٹرننگ افسر کے دفتر تک کیسے جیتنے والے ہار جاتے ہیں۔صرف شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی، غلام سرور خان اور  رائے حسن نواز کھرل اپنے حلقے چوری ہونے سے بچا سکے۔شیخ رشید نے اپنا حلقہ بھی بچایا اور ساتھ ہی عمران خان کا پنڈی والا حلقہ بھی بچا لیا۔جبکہ شفقت محمود کسی زمانے میں  ڈپٹی کمشنر اور آر اورہنے کی وجہ سے اپنی سیٹ بچا لے گئے۔ ستم ظریفی تو دیکھئے کہ جس عمران خان کے نام پر شفقت محمود جیسے سیاسی طور پر گمنام بندے نے لاہور سےایک لاکھ ووٹ لیا،وہی عمران خان خود لاہور سے ہار گیا۔ ہے نا حیرت انگیز بات؟
کہانی یہا ں ختم نہیں ہوئی۔نون لیگ کے تنخواہ دار صحافی (خاص کر جیو ) قوم کو بتانےلگے کہ الیکشن میں چھوٹی موٹی بے ضابطگیاں ہوئی ہوں گی لیکن بہر حال الیکشن شفاف تھے۔ افتخار احمد اور کامران خان جیسے لوگ قوم کو یقین دلانے لگے کہ الیکشن میں دس فیصد اضافی ٹرن آؤٹ دراصل عمران خان کی انتھک محنت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ وہ لوگ جنہوں نے ۱۹۹۷ کے "کلین سویپ" والے الیکشن میں بھی شریفوں کو ووٹ ڈالنا گوارا نہ کیا، وہ اس بار میاں صاحب کی محبت میں نادیدہ طور پر گرفتار ہوگئے۔ ہے نا عجیب بات؟ نئے ووٹر کو نکالنے کیلئے محنت ساری عمران خان نے کی اور اس کی اپیل سے متاثر ہوکر ووٹ دینے نکلے بھی، لیکن معجزانہ طور پر پولنگ بوتھ میں جاکر ووٹ شریفوں کو دے آئے؟ کون کہتا ہے آج کل معجزے نہیں ہوتے؟ نون لیگ کا "بھاری مینڈیٹ" بھی ایک معجزہ تھا جس کے ڈیزائنر تھے افتخار چوہدری (جن کے نیچے آر او زتھے)، نجم سیٹھی (جنہوں نے پنکچر لگوائے) اور فخرو بھائی (جو ضروری کام سے سوتے رہے)۔
کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوئی۔ عمران خان خود بستر پر تھا اور تحریک انصاف کی باقی لیڈرشپ جیتی ہوئی سیٹیں ہارنے کے سبب شاید شاک میں تھے۔ یہ بھی پاکستانی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا کہ لیڈر شپ کے بغیر ہی نوجوان ازخود کراچی اور لاہور کی سڑکوں پر دھرنے دے کر بیٹھ گئے اور لیڈر شپ کو ان کے گھروں سے کھینچ کر لایا گیا۔دھاندلی کے ثبوتوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا سے ہوتے ہوئے مین سٹریم میڈیا پر چلنے لگیں اور لوگ دھاندلی کی شدت دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگانے لگے۔آہستہ آہستہ الیکشن کی "شفافیت" کا مصنوعی پردہ اٹھنے لگا اور دھاندلی کی تصویر سامنے آنے لگی۔لیکن اس سب کے باوجود عمران خان نے مشروط طور پر الیکشن کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔شرط یہ رکھی کہ چار حلقے کھول کر  دھاندلی کے ذمہ داروں  کو سزا دی جئے اور اگلے الیکشن کیلئے بامعنی الیکٹورل ریفارمز کی جائیں۔
 لیکن شریفوں نے تو عجیب ہی تماشہ لگالیا۔ بجائے دھاندلی کے ذمہ داروں کو سزا دینے کے، ایک ایک کو نوازنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔کرکٹ  سے دور دورتک کوئی نسبت نہ رکھنے والے نجم سیٹھی کو "سونے کی چڑیا" (کرکٹ بورڈ) سونپ دی گئی۔ جیو  اور جنگ گروپ کو حق خدمت کے طور پر اربوں روپے کے سرکاری اشتہارات دیے گئے اور پھر جیو سوپر کو کروڑوں کے کرکٹ رائٹس۔جیو کے الیکشن سیل کے انچارج افتخار احمد کو پنجاب پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی میں وائس چئیر مین لگادیا گیا جبکہ ان کے صاحبزادے کو میٹرو بس اتھارٹی میں کھپا دیا گیا ۔جنگ گروپ ہی کے رؤف طاہر کو "الیکشن خدمات" کے عوض ریلوے میں ڈی جی پی آر لگادیا گیا،عرفان صدیقی کو وفاقی وزیر کا عہدہ ملا جبکہ عطاء الحق قاسمی کو نشان امتیاز پرہی اکتفا کرنا پڑا۔پنجاب میں پنکچر سیل کے انچار ج جسٹس رمدے کے بیٹے کو اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بنادیا گیا۔اور آخرکار دھاندلی کے سب سے بڑے کردار افتخار چوہدری کو اصلی معنوں میں "سونے کی کان" سونپ دی گئی جب ا؂ن کی ذاتی خواہش پر  ان کے بدنام زمانہ  بلیک میلر بیٹے ارسلان  کو رکوڈک اوربلوچستان  کے دوسرے  وسائل کا مختار کل بنادیا گیا (بغیر کسی متعلقہ تجربے کے)۔ یہ سب وہ واقعاتی شہادتیں  ہیں  جن سے ثابت ہوتا ہے کہ الیکشن میں اہم رول رکھنے والوں کو شریفوں نے نوازا۔ اور کیوں نوازا؟ ظاہر ہے کسی "خدمت" کے صلے میں۔ اور وہ خدمت کیا تھی؟ دھاندلی کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے؟ ورنہ ارسلان کا معدنیات سے کیا تعلق، سیٹھی کا کرکٹ سے کیا واسطہ اور افتخار احمد کو باغبانی سے کیا نسبت؟
کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوئی۔الیکشن میں دھاندلی ہوئی، سب کو نظر آیا لیکن خان  کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ "شریف" اس نظام میں کس حد تک جڑیں پھیلاچکے ہیں۔خان نے دھاندلی کی شکایت کی  تو جواب ملا "ٹریبونل جائیں  نا جناب"۔تحریک انصاف کے کچھ لوگ تو دھاندلی سے مایوس ہی ہوکر گھر بیٹھ گئے اور کچھ نے الیکشن ٹریبونلوں میں اپیلیں دائر کردیں۔اب ٹریبونلوں میں بیٹھا کون تھا؟ اکثر انہی  شریفوں کے پچھلے ۳۰ سال میں لگائے ہوئے 'نظام کے پرزے"۔بہت سی  اپیلیں تو سنے بغیر ہی مختلف تکنیکی وجوہات کا بہانہ کرٹریبونلوں نے خارج کردیں  (جن کا شریفوں کے نمک خوار ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ اکثر اپیلیں تو حل ہوگئیں۔ بھیا جب سنی ہی نہیں گئیں تو حل کیا ہوا؟) جہاں جہاں تحریک انصاف کا کیس مضبوط تھا ، وہاں لاہور کی "شریف  ہائیکورٹ " زندہ باد۔سٹے آرڈر پر سٹے آرڈر۔ٹریبو نلوں کوقانون کے مطابق ۱۲۰ دن میں فیصلہ کرنا تھا جو کہ نہ ہوسکا۔جب خان نے ٹریبونلوں کی ناانصافی کی شکایت کی تو شریفوں کے نمک خواروں نے عدلیہ کی طرف رخ کرنے کا مشورہ دیا۔خان نے اعلیٰ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا  لیکن شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ یہاں بھی انصاف صرف "شریفوں" کیلئے ہے۔ چونکہ خان تو بالکل ہی غیر شریف تھا اسلئے عدلیہ  سے "شرمناک" جواب ملا کہ شراب کی بوتلوں  اور سموسوں کی قیمت پر سوموٹو لینے والی مصروف عدلیہ کے پاس عوامی مینڈیٹ چوری ہونے جیسے معمولی جرم  کا کیس سننے کی فرصت نہیں۔(حالانکہ یہی"مصروف عدلیہ"  اس کے بعد بھی جب جب شریفوں یا سیٹھیوں کو "انصاف" کی ضرورت پڑی، چند گھنٹوں کے نوٹس پر فراہم کرتی رہی)۔"شریف عدلیہ" سے مایوسی کے بعد خان کو کہاگیا کہ پارلیمنٹ کا فورم استعمال کریں نا۔خان نے یہ چینل بھی استعمال کرکے دیکھ لیا۔ کئی دفعہ پارلیمنٹ میں الیکشن ریفارم کا مطالبہ دہرایا اور ہر دفعہ شریفوں اور ان کے نمک خواروں نےزبانی زبانی اس سے اتفاق کیا لیکن "کچھ کرنے" کی زحمت پھر بھی نہ کی۔ تحریک انصاف نےالیکشن ریفارم کے حوالے سے دو بل اسمبلی میں جمع کرائے لیکن ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی دھاندلی کے ستون  سپیکرصاحب کو یہ بل پارلیمنٹ میں لانے کی توفیق نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ  پارلیمنٹ کی متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی کا ڈیڑھ سال میں  اجلاس تک نہ ہوسکا۔
 لیکن کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوئی۔  خان نے ملک کے نازک حالات کو دیکھتے ہوئے نظام چلنے دینے کیلئے کسی فوری احتجاجی تحریک سے گریز کیا۔ چار حلقوں میں تصدیق اور الیکشن ریفارم کے مطالبات پیش کرکے وہ خیبر پختونخوا میں "تبدیلی" کے پروگرام پر توجہ دینے لگا۔اس نے یہی سوچا کہ تحریک انصاف کی پالیسیاں پختونخوا میں نافذ کرکے  ۲۰۱۸ کے الیکشن کیلئے پختونخوا کو  رول ماڈل بناکر پیش کیا جائے۔اسلئے عمران خان کی رہنمائی میں پختونخوا میں قانون سازی اور گورننس ریفارمز پر تیزی سے کام ہونے لگا۔ہر دوسرے ہفتے خان پشاور میں آموجود ہوتا اور کام کی رفتار کا جائزہ لیتا۔ چند وزیروں کی کرپشن کا علم ہوا تو حکومت  کی کمزوری کی فکر کئے بغیر ان کو حکومت سے نکال باہر کیا۔تعلیم، صحت، پولیس اور پٹواری کے نظام کی بہتری کیلئے اصلاحات عمل میں آئیں۔ نیٹو سپلائی اور ڈرون حملوں پر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔ یہ سلسلہ شاید پانچ سال یوں ہی چلتا لیکن۔۔۔۔۔۔۔

لیکن شریفوں کو اس بات کا احساس تھا کہ اگر عمران خان پختونخوا میں اپنے ایجنڈے پر عمل کرنے میں کامیاب ہوگیا اور صوبے کی حد تک تبدیلی آگئی تورائیونڈ کی سیاست کی دکان ہمیشہ کیلئے بند ہوجائے گی۔بس پھر کیا تھا۔ بہانے بہانے سے وفاق نے صوبے کو تنگ کرنا شروع کردیا۔صوبے کو مالی طور پر کمزور کرنے کیلئے این ایف سی ایوارڈ کے تحت واجب الادا رقوم روکی جانے لگیں۔ بجلی کا خالص منافع جو کبھی مشرف یا زرداری تک نے نہیں روکا تھا، وہ ۲۰۱۳ کے پورے سال میں ایک پائی نہیں دی گئی۔ سب سے زیادہ اور سب سے سستی بجلی پیدا کرنے والے پختونخوا کو بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ وفاق کے زیر انتظام پیسکو صوبے کے لوگوں کو اووربلنگ، ٹرانسفارمروں کی مرمت نہ کرنے اور کم وولٹیج جیسے طریقوں سے زچ کرنے لگا ( یوں عام لوگ جنہیں وفاقی اور صوبائی محکموں کا ادراک نہیں، وہ صوبائی حکومت سے ناراض ہونے لگے)۔عابد شیر علی جیسے وفاقی وزراء ہر دوسرے ہفتے پشاور آکر پختونوں کو بجلی چور اور عمران خان کو چوروں کا سرپرست کہہ کر تذلیل کرنے لگے۔ وفاقی وزراء خان کو بجلی بنانے کے طعنے دیتے رہے لیکن جب صوبائی حکومت نے بجلی کا مسلہ حل کرنے  کیلئے بجلی کے بڑے پلانٹس کی تعمیر کیلئے وفاق کی "ساورن گارنٹیاں" مانگیں تو وفاق نےمعاملہ  سردخانے میں ڈال دیا۔ پختونخوامیں چونکہ گیس  صوبے کی اپنی ضرورت سے زائد پیدا ہوتی ہے اسلئےصوبائی حکومت نے گیس پاور پلانٹ لگانے کا ارادہ کیا اور وفاق سے اپنے حصے کی گیس دینے کا مطالبہ کیا تو وفاق نے سنی ان سنی کردی۔بیوروکریسی کی سینئیر پوسٹوں (سیکرٹری وغیرہ) پر وفاقی سول سروس کے افسران تعینات ہوتے ہیں جن کی ترقی وغیرہ کی لگام اسلام آباد کے پاس ہوتی ہے۔ پختونخوا میں اہم عہدوں پر تعینات  وفاقی افسران کو مبینہ طور پر "گو سلو" پالیسی پر عمل کی ہدایت دی گئی۔ جو فائل دو دن میں کلئیر ہونی تھی، اس پر دو ہفتے لگائے جانے لگے۔صوبائی حکومت کے احکامات میں روڑے اٹکائے جانے لگے۔صوبائی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کردیا گیا جس کے تمام متاثرین کا بوجھ پختونخوا پر ڈال دیا گیا، جبکہ سندھ اور پنجاب نے اپنے دروازے ان کیلئے بند کرلئے۔صوبائی حکومت نے ان دس لاکھ متاثرین کی خدمت اور بحالی کیلئے وفاق سے بار بار فنڈز مانگے لیکن آج تک اس مد میں صوبے کو کچھ نہیں ملا۔جتنی امداد کے اعلانات وزیر اعظم  یا وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیے وہ صوبائی حکومت کو نہیں دیے گئے بلکہ اپنے ہی وفاقی وزیر عبد القادر بلوچ کے محکمے سیفران اورنون لیگ کے گورنر سیکرٹریٹ کے ماتحت ایف ڈی ایم اے کو دے دیے گئے ۔یاد رہے کہ سوات اور باجوڑ آپریشن میں اس وقت کی زرداری حکومت نے تمام فنڈزپختونخوا کی صوبائی حکومت کو دے دیے تھے جس کی وجہ سے صوبے پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑا اور آئی ڈی پیز کے مسائل بھی بہتر طورپر حل ہوتے رہے۔ آئی ڈی پیز کی مدد کیلئے تمام انفراسٹرکچر مثلاٌ ہسپتال، سکول، سینی ٹیشن،، پانی، بجلی وغیرہ کے وسائل صوبائی حکومت کے استعمال ہورہے ہیں لیکن وفاق باوجود ٹی وی پر اعلانات کے صوبے کو ایک پیسہ نہیں دے رہا۔

یہ اور اس جیسے وفاقی حکومت کے بےشمار اقدامات دیکھ کر خان کو سمجھ آگئی کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، یہ شریف  نہ ہی اسے پختونخوا میں ڈیلیور کرنے  دیں گے اور نہ ہی ۲۰۱۸ کے الیکشن  سے پہلے الیکٹورل ریفارمزکریں گے۔الیکشن کمیشن، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے تمام فورمز کو شریفوں کی "بی، سی اور ڈی ٹیم" بنے دیکھ کر خان کے پاس دو ہی راستے رہ گئے۔
۔(۱) خاموشی سےشریفوں کی پختونخوا کو ناکام کرنے کی حرکتیں دیکھتا رہے اور ۲۰۱۸ کے الیکشن بھی ۲۰۱۳ کی طرح اسی گلے سڑے الیکشن سسٹم کے تحت لڑ کر دھاندلی سے ہارے اور نیا پاکستان کا خواب ہمیشہ کیلئے بھول جائے۔
۔(۲) شریفوں کو ان کی حرکتوں سے باز رکھنے کیلئے خم ٹھونک کر میدان میں آجائے اور ان پر اتنا عوامی دباؤ ڈالے کہ وہ پختونخوا حکومت کو کام کرنے دیں اور ساتھ ہی الیکشن نظام بھی ٹھیک کریں۔ ورنہ پھر وہی۔ دمادم مست قلندر۔
خان نے خاموشی سے ہتھیار ڈالنے کے بجائے دوسرا آپشن چنا  اور وہی راستہ اختیار کیا جس کی طرف وہ الیکشن کے اگلے دن سے ہی اشارہ کررہا تھا کہ "اگر قانونی راستوں سے انصاف نہ ملا تو پھر فیصلہ عوامی طاقت ہی کرے گی"۔

خان نے اس مقصد کیلئے  شریفوں کو ان کے ہوم گراؤنڈ (پنجاب) میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ ۱۱ مئی سے وفاقی دار الحکومت، شمالی پنجاب (سیالکوٹ)، مرکزی پنجاب (فیصل آباد) اور جنوبی پنجاب (بہاولپور) میں شدید ترین گرمی میں بھرپور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا۔شریفوں کی دھاندلی زدہ جمہوریت اور جعلی مینڈیٹ کی قلعی کھولی اور پھر ۱۴ اگست کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کے نام سے  فیصلہ کن پڑاؤ ڈالنے کا اعلان کردیا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ تقریباٌ ہرجماعت دھاندلی ہونے کی بات کررہی ہے لیکن عمران خان کے علاوہ کوئی بھی اس کے خلاف عملی طور پر کچھ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ پیپلز پارٹی کو سندھ مل گیا، ان کی لوٹ مار جاری ہے تو وہ جمہوریت بچانے کے بہانے سے چپ۔ملا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی مل گئی تو وہ چپ۔ اچکزئی صاحب کو بھائی کیلئے گورنری مل گئی تو وہ صم بکم۔ واحد عمران خان ہے جو کہہ رہا ہے کہ اگر الیکشن دھاندلی زدہ تھا  (جیسا کہ سب پارٹیاں کہہ رہی ہیں) تو پھر جمہوریت کہاں کی؟ پس صرف عمران خان اس عوامی چوری  کے خلاف  عملی جدوجہد کررہاہے۔ ورنہ اقتدار اور لوٹ مارہی مقصد ہوتا تو خاموشی سے شریفوں سے مک مکا کرکے پختونخوا میں بیٹھ کے "کھاتا رہتا" اور فرینڈلی اپوزیشن کرتا۔ لیکن بے بس قوم کا درد خان کو بے چین کیے ہوئے ہے۔وہ جانتا ہے کہ اگر اس بار دھاندلی کے ذمہ دار بچ گئے اور اس الیکشن کا نظام صحیح نہ ہوا توآئیندہ کبھی کوئی شریف اور پڑھا لکھا درد دل رکھنے والاشخص سیاست میں نہیں پڑے گا۔ کوئی ووٹ ڈالنے کیلئے گھر سے نکلنے کی زحمت نہیں کرے گا  (کہ ویسے بھی چوری ہوجانا ہے ووٹ)۔ یہ عمران خان کی جنگ نہیں ہے۔ یہ اس ملک میں جمہوریت کی بقا کی جنگ ہے۔ کہ حکومت کافیصلہ "ووٹ ڈالنے والے" کریں گے یا پھر "ووٹ گننے والے"؟
نوٹ: آزادی مارچ کے حوالے سے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ "مطالبہ" اور "مقصد" کا فرق سمجھا جائے۔ سیاست میں "مطالبہ" انتہائی ہی  ہوتا ہے۔ لیکن دباؤ اور مذاکرات کے بعد بات "مقصد" پر آتی ہے۔ اب اس سلسلے میں تحریک انصاف کا مطالبہ بےشک انتہائی ہے  یعنی "حکومت کا استعفیٰ اور نیا الیکشن"۔ لیکن "مقصد" ایک ہی ہے  اور وہ ہے"بامعنی الیکٹورل ریفارمز"۔ رہا سوال انتہائی مطالبوں اور جلسوں جلوسوں یا لانگ مارچ کا۔ تو یہ شریف لاتوں کے بھوت ہیں، باتوں سے ماننے والے نہیں۔ان پرمطالبوں سے عوامی   دباؤ نہ ڈالیں، یہ سو سال  الیکٹورل ریفارمز نہ ہونے دیں گے۔سر پر "مطالبے" کا پستول رکھیں گے تو ہی  "مقصد" کا بٹوہ ملے گا۔
۔ (کراچی  والے تو اس کا بہتر تجربہ رکھتے ہیں :پ)۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.
The writer is a tribesman from Bajaur Agency (FATA) and tweets at @ZalmayX .
(No official association with PTI)
.
....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.


1 comment: