Sunday, November 2, 2014

Kafir Kafir - Shia Sunni Sab Hee Kafir

By: Shah Zalmay Khan
.

Note: I wrote this blog 2 years ago for another website but is still relevant, hence reproduced here.
.
کافر کافر۔۔۔ سب ہی کافر
کافر کافر، شیعہ کافر۔۔۔ یہ جملہ میں نے پہلی بار شاید چھ یا سات سال کی عمر میں اپنے علاقے کی مسجد میں  سنا تھا۔ یہ جملہ کہنے والا  مجھ سے تین چار سال بڑا ایک بچہ تھا جو اسی مسجد سے منسلک مدرسے کا "طالب" تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ شیعہ کون ہوتےہیں اور کہاں پائے جاتے ہیں۔(یاد رہے میرا علاقہ باجوڑ ایجنسی مکمل طور پر سنی دیوبندی مسلک والوں کا علاقہ ہے)۔ طالب نے کہا کہ میں نے خود تو نہیں دیکھا لیکن مولوی صاحب بتاتے ہیں کہ وہ  کافر ہیں کیونکہ  قرآن کو پورا نہیں مانتے، حضرت محمد ﷺ کی رسالت میں شک کرتے ہیں اور حضرت علی کے علاوہ کسی صحابی کی عزت نہیں کرتے  بلکہ گالیاں دیتے ہیں۔ بڑے ظالم بھی ہوتے ہیں کیونکہ وہ محرم کےمہینے میں لوگوں کو چاقووں اور زنجیروں سے مارتے ہیں۔ اتنی چھوٹی عمر میں ظاہر ہے مذہب کے بارے میں میری اپنی معلومات بہت کم تھیں لیکن کم از کم حضرت محمد ﷺ پر جانثاری تو شاید ہر مسلمان کی گھٹی میں ہوتی ہے اس لیے میری آنکھوں میں بھی جیسے خون اتر آیا اور "شیعہ" کا ایک امیج میرے ذہن میں بن گیا جو سراسر منفی تھا۔
 کچھ عرصے بعدہمارے  بالکل ساتھ والے گھر  میں ایف سی کے ایک نائب صوبیدار صاحب اپنی فیملی کے ساتھ شفٹ ہوئے جن کا تعلق پارہ چنار سے تھا اور شیعہ مسلک سے تھے۔ چند دن تک میں ان انکل،  بھابھی اور ان کے بچوں سے کھنچا کھنچا سا رہا اور طالب کی بتائی ہوئی باتیں یاد آتیں تو ان لوگوں پر غصہ آنے لگتا۔ وہ لوگ تقریباٌ دو سال ہمارے پڑوس میں رہے اور وقت کے ساتھ ان کے بارے میں میرا رویہ نارمل ہونے لگا کیونکہ مجھے پتہ چل گیا کہ طالب کی بتائی ہوئی باتیں یا تو مکمل غلط تھیں یا سیاق و سباق سے ہٹ کر تھیں۔ پھرتعلیم  کے سلسلے میں ماسٹرز تک  بارہ تیرہ سال باجوڑ سے باہر ہاسٹلوں میں رہا جہاں  میرے کئی  شیعہ دوست بنے اور  روم میٹ یا سائیڈ میٹ بھی رہے۔ان کی معیت میں مجھے اندازہ ہوا کہ شیعہ سنی میں فقہی لحاظ سے کچھ اختلافات بے شک ہیں لیکن جو باتیں ہم نے سنی تھیں وہ ٹھیک نہیں تھیں اور ان میں سے زیادہ تریا تو  غلط فہمیوں پر مبنی تھیں یا کچھ فرقہ پرستی کی دکانیں چلانے والے نام نہاد علماء کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں ۔ انہی شیعہ دوستوں سے یہ بھی پتہ چلا کہ کیسے ان کے کچھ انتہا پسند ملا اور ذاکر حضرات ان کو سنیوں کے بارے میں  غلط معلومات دیتے ہیں اور سنیوں کو حضرات اہل بیت اور حضرت علی کا دشمن بنا کر پیش کرتے ہیں۔
میں تو چلیں خوش قسمت رہا کہ ذاتی تجربے اور تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ یہ سب دکانداری کا کھیل ہے۔ لیکن ان کروڑوں  کا کیا جو جہالت کے اندھیرے میں بھٹکتے ہیں اور دکاندار مولویوں اور ذاکروں کی لگائی ہوئی فرقہ پرستی کی آگ کو روشنی سمجھتے ہیں؟ہے نا عجیب تماشہ؟ دونوں طرف کے دکاندار مولوی  اور ذاکراپنا فرقہ پرستی کا سودا بیچنے کیلئے ایک دوسرے سے خرافات منسوب کرتے ہیں اور دونوں فرقوں کے سادہ لوح  بلکہ جاہل پیروکارآنکھیں بند کرکے ان کی بات پر یقین کرلیتے ہیں اور کافر کافر کے نعرے بلند کرتے ہیں۔کسی کے پاس اہل بیت کا اجارہ ہے تو کوئی ناموس صحابہ کا ٹھیکیدار۔ کوئی "حق چار یار" کی مالا جپتا ہے تو کوئی "قائم آل محمد"کی تسبیح کرتا ہے۔کوئی سبز پگڑی پہن کر مزاروں سے کماتاہے تو کوئی کالا جبہ پہن کر مناظرے کرنے نکلتا ہے اور کوئی کالی پگڑی یا ٹوپی پہن کر سب کو سبق سکھانے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ 
اپنی دکانداری ہی سربلند رکھنے کیلئے یہ مسلک کے نام پر ایک دوسرے کو غیر ضروری طور پر محض چڑانے کیلئے  نئی سے نئی رسمیں، جلوس، کانفرنسیں اور مجلسیں نکالتے ہیں۔ پہلے محرم عام طور پر نو اور دس محرم  کی مجالس تک محدود رہتا تھا لیکن اب  شہ زوری دکھانے اور شناخت قائم رکھنے کیلئے  محرم کا پورا مہینہ ملک یرغمال بنا رہتا ہے۔گنجان آباد علاقوں میں مصروف سڑکوں پر راستے مجبوراٌ  بند کرنے پڑتے ہیں اور پولیس اور سیکیورٹی ادارے شعلہ بیان مولویوں اور ذاکرین کے چکر میں پڑے رہتے ہیں۔عوام ہیں کہ  کالے کپڑے پہن کربس  سر دھنتے ہیں اور ذاکرین پر دادوتحسین کے ڈونگرے برساتےہوئے سمجھتے ہیں کہ مسلمانی کا فرض ادا ہوگیا۔ سیکیورٹی ادارے کچھ بھی کہیں، کتنی بھی وارننگ دی جائیں  لیکن مرغی کی ٹانگ ایک تھی اور ایک ہی رہے گی۔ اب اگر شیعہ مولوی اور ذاکر محرم کے مہینے میں اپنی "تڑ" دکھا سکتے ہیں تو بھلا دیوبندی بریلوی کیوں پیچھے رہیں؟ صرف اہل تشیع  کو چڑانے کیلئے گلی گلی شہر شہر سیدنا فاروق اعظم کانفرنسیں ہورہی ہیں۔ کسی میں ہمت ہے تو  روک کر دکھائے۔ ناموس صحابہ کے "پروانے" جان کو آجائیں گے۔ولادت رسولﷺ کے سلسلے میں ربیع الاول میں چاردیواریوں میں ہونے والی میلادوں سے بات آگے بڑھ کر جلوسوں پر چلی گئ  جن کیلئے راستے بند ، ٹریفک معطل اور عوام کی زندگیاں سولی پر۔
سمجھ نہیں آتی کہ آخر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ سب لوگ کس کے سامنے اپنی مسلمانی ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیاحضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان یا حضرت علی ، حضرت حسن و حسین و بی بی زینب ہماری گواہی یا حمایت کے محتاج ہیں کہ ہم "حب اہلبیت" یا "ناموس صحابہ" کے نام پر ایک دوسرے کے گلے کاٹتے ہیں؟؟ 
کیا اماں عائشہ کو اپنی عصمت کے ثبوت کیلئے کسی خود کش حملہ آور کی گواہی کی ضرورت ہے جو جا کر امام بارگاہوں میں پھٹ کر سمجھتا ہے کہ حوریں "کنفرم" ہوگئیں؟ کیا سیدنا ابوبکرصدیق، سیدنا  فاروق اعظم، عثمان ذوالنورین اور شیر خدا حضرت  علی کرم اللہ وجہہ نعوذ باللہ اسی طرح ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے جیسے آج ہم ان کے نام پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں؟ 
قدرت اللہ شہاب اسی بارے میں "شہاب نامہ" میں اپنی جھنگ کے ڈپٹی کمشنری کے دور کا  بیان کرتےہوئےمندرجہ ذیل  اظہار خیال کرتے ہیں۔پڑھئیے اور سر دھنیے۔
"لیڈروں کے طبقے میں سب سے مشکل پسند برادری ان رہنماؤں کی ہے جو سیاست کی جگہ خالص مذہبی پیشوائی پر گزارہ کرتےہیں۔ عید بقر عید کی طرح ان کا کاروبار بھی سال میں فقط ایک دوبار چمکتا ہے۔ خاص طور پر محرم کے دنوں میں ان کی کارگزاریاں بہت زور پکڑ لیتی ہیں۔ کہیں جلوس کے راستوں پر تنازعہ ہے، کہیں تعزیوں کی لمبائی پر تکرار ہے۔ کسی زمانے میں جب ہولی یا دسہرے کے جلوس مسجدوں کے آگے سے گزرتے تھے تو ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان اچھا خاصا میدان کارزار گرم ہوجاتا تھا لیکن آزادی بھی ملی، ہندو بھی گئے۔ پھر بھی جلوسوں اور مساجد کا تصادم اسی گرم بازاری سے جاری ہے۔
ظہر کا وقت ہے۔ محرم کا جلوس نکلا ہوا ہے۔ سنیوں کی مسجد میں معمول سے زیادہ نمازی جمع ہیں۔ جلوس نے رفتارجان بوجھ کرسست کردی ہے تاکہ جب اذان کی آواز بلند ہو تو لپک کر مسجد کے عین سامنے پہنچا جائے۔ادھر مؤذن کو انتظار ہے کہ جلوس قریب آئے تو خدا کے بندوں کو نماز کیلئے پکارا جائے۔۔۔ باہر جلوس اور اندر جماعت دو مخالف فوجوں کی طرح صف آراء ہوجاتے ہیں۔ لیکن عین اس وقت اس علاقہ کا تھانیدار یا مجسٹریٹ دونوں فریقوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے نمائندے ڈپٹی کمشنر کے پاس بھیجیں۔فریقین کے پیشوا اپنے اپنے "وفود" لے کر بصد تزک و احتشام ڈپٹی کمشنر کے پاس آتے ہیں۔ اب اگر ڈپٹی کمشنر نے سال بھر سے ان رہنماؤں کے ساتھ مربیانہ خیر سگالی کے تعلقات استوار کررکھے ہیں تو بہت جلد مصالحت کے آسان آسان راستے نکل آتے ہیں۔ ورنہ اگر بدقسمتی سے "وفود"  میں سے کسی صاحب کا راشن ڈپو ان کی بدعنوانیوں کی وجہ سے منسوخ ہوچکا ہے، یا کسی صاحب کو ٹرک چلانے کا لائسنس نہیں ملا یا کسی صاحب کی دکان کی الاٹمنٹ معرض التواء میں ہے، یا کسی صاحب کے فرزند ارجمند کو ضلع کچہری میں ملازمت نہیں ملی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک گاؤں میں اچانک خطرناک قسم کی کشیدگی نمودار ہوگئی۔ مسلہ متنازعہ یہ تھا کہ ایک مولوی صاحب کا فرمان تھا کہ  درودوسلام کے دوران "یا رسول اللہ" کہنا جائز ہی نہیں بلکہ باعث برکت بھی ہے۔دوسرے مولوی صاحب اسے ناجائز اور بدعت قراردیتے تھے۔ علماء کرام کے دائرے سے پھیلتی پھیلتی یہ بحث سارے گاؤں میں سرایت کرگئی۔ اس آڑ میں بہت سی ذاتی رنجشوں، رقابتوں اور مخاصمتوں نے بھی اپنا رنگ دکھایا اور رفتہ رفتہ گاؤں کے بہت سے لوگ آپس میں برسرپیکار ہوگئے۔ ایک دوسرے کے مویشی چرائے گئے۔ سرپھٹول ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے  سارا گاؤں فساد اور بدامنی کے ایک مستقل چکر میں بری طرح پھنس گیا۔ آخر کار دونوں مولویوں کو گرفتار کرکے باہر بھیج دیا گیا اور جب پوری تفتیش کے بعد اس جھگڑے کا پہاڑ کھودا گیا تو اس میں سے سیاست کی ایک چھوٹی سی چوہیا برآمد ہوئی۔ (سارا فساد ایک سیاستدان نے عوام کو بےوقوف بنانے اور خود کو انتظامیہ کی نظروں میں اہمیت دلوانے کیلئے کروایا تھا کیونکہ انتظامیہ کو مجبوراٌ صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے اس سیاستدان کو  بیچ میں ڈالنا پڑا)"۔
  شہاب نامہ ۔ از قدرت اللہ شہاب۔۔۔ باب: "اب مجھے رہبروں نے گھیرا ہے"۔
قدرت اللہ شہاب نے یہ سب ۱۹۵۰ کی دہائی  کے جھنگ کے حوالے سے لکھا تھا لیکن یہ باتیں آج بھی حقیقت ہیں۔ اپنے اردگرد دیکھیے کیا یہی کچھ نہیں ہورہا ہمارے ہر شہر اورقصبے  میں؟
کیا ہم عام شہری آنکھیں کھول کر نہیں دیکھ سکتے کہ کیسے جبہ و دستار کے پیچھے چھپے دکاندار ہمیں الو بنا کر اپنا الو سیدھا کررہے ہیں؟
میں علماء کے معیار علم کے مطابق شاید ایک جاہل ہوں کیوں کہ نہ تو میں نے درس نظامی کیا ہے، نہ ہی شہادت عالمیہ یا فقیہ کا کورس۔لیکن ایک سوال اپنے سنی مسلک کے فرقہ پرستی کے دکانداروں سے کرنا چاہوں گا کہ کیا آپ لوگ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل (اہلسنت کے چاروں امام) سے زیادہ بڑے فقیہ ہیں؟ جب ان چاروں میں سے کسی نے اہل تشیع کو کافر یا گستاخ صحابہ  نہیں قرار دیا تو اعظم طارق، حق نواز جھنگوی، اکرم لاہوری، ملک اسحاق وغیرہ کس شمار قطار میں ہیں کہ وہ کسی کو  کافر اور گستاخ صحابہ قرار دیتے پھریں؟
دوسرا سوال ان کروڑوں بھیڑ بکریوں سے ہے جو پاکستانی قوم کہلاتے ہیں اور سنی کافر، شیعہ کافر، بریلوی کافر، دیوبندی کافر کے نعرے مار کر سمجھتے ہیں کہ فرض مسلمانی ادا ہوگیا۔ جو متنازعہ مسائل پچھلے چودہ سو سال میں امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام جعفر صادق جیسے علماء حل نہ کرسکے، کیا آج ہم کلاشنکوف اور  خودکش بمبار کے زور پر ان کا حل نکال سکتے ہیں؟ اگر نہیں اور یقیناٌ نہیں تو ہم انسانوں کی طرح اس زریں اصول پر عمل کیوں نہیں کرسکتے کہ "اپنا مسلک چھوڑو مت، دوسرے کا مسلک چھیڑو مت"؟
۔
.
.
The writer is a tribesman from Bajaur Agency (FATA) and tweets at @ZalmayX . (No official association with PTI)
.

.....................

Disclaimer: This blog is not an official PTI webpage and is run by a group of volunteers having no official position in PTI. All posts are personal opinions of the bloggers and should, in no way, be taken as official PTI word.
With Regards,
"Pakistan Tehreek-e-Insaf FATA Volunteers" Team.


No comments:

Post a Comment